اداریہ

جہاں بھونچال بنیادِ فصیل و در میں رہتے ہیں

اداریہ جدوجہد

گذشتہ روز کراچی ائر پورٹ پر اترنے سے چند لمحے قبل پی آئی اے کی ایک بد قسمت پروازحادثے کا شکار ہو گئی۔ طیارے پر عملے کے ارکان سمیت 99 افراد سوار تھے۔ معجزاتی طور پر مٹھی بھر افراد کے بچ جانے کی اطلاعات ہیں۔ تا دم ِتحریر ہلاکتوں کی تعداد کا سرکاری اعلان نہیں کیا گیا۔ مزید معجزوں کی امید رکھتے ہوئے ادارہ جدوجہد اس حادثے میں ہلاک ہو جانے والے مسافروں کے پس ماندگان سے دلی اظہارِ افسوس کرتا ہے۔

حادثہ تو افسوسناک تھا ہی، حادثے کے بعد ایک اور افسوسناک عمل یہ تھا کہ ذمہ دار حلقے کسی قسم کی ذمہ داری قبول کرنے کی بجائے حسب ِ معمول پائلٹ کو ذمہ دار قرار دینے لگے، ہمیشہ کی طرح جھوٹی سچی تحقیقات کا وعدہ کیا جانے لگا اور اگلے چند دنوں میں کچھ وعدے وعید بھی کئے جائیں گے۔ منافقت پر مبنی یہ اقدامات اٹھاتے ہوئے مقتدر حلقے یہ توقع رکھتے ہیں کہ ماضی کے حادثوں کی طرح یہ حادثہ بھی وقت کی گرد میں دھندلا جائے گا۔ یہی اصل سانحہ ہے!

ہمارا مطالبہ ہے کہ محکمانہ کاروائیوں کی بجائے ایک عوامی کمیشن کے تحت انکوائری کی جائے۔ مجوزہ کمیشن محض اس حادثے کی تحقیقات نہ کرے۔ پی آئی اے کو اس حال تک پہنچانے کی بھی تحقیقات ہونی چاہئیں۔ گذشتہ روز جو ہوا وہ تو حادثہ تھا۔ چالیس سال سے پی آئی اے کے ساتھ جو کیا جا رہا ہے، وہ اصل سانحہ ہے۔

اس مجوزہ کمیشن کی تشکیل سے بھی پہلے پی آئی اے کے سربراہ ائر مارشل ریٹائرڈ ارشد چوہدری استعفیٰ دیں۔ کیونکہ طیارے کے حادثے کے اصل ذمہ دار ایئر مارشل ارشد ملک اور لازمی سروسز خدمات کا قانون ہے۔ اے آر وائی جیسا اسٹیبلشمنٹ نواز نیوز چینل کل یہ خبر دے رہا تھا کہ حادثے کی شکار ایئر بس میں پہلے سے ہی فنی خرابی تھی جس کے متعلق انجینئر ڈیپارٹمنٹ کی جانب سے متعدد بار انتظامیہ کو خطوط لکھے گئے تھے۔

اسی طرح ذرائع کے مطابق انجینئر ڈیپارٹمنٹ کی جانب سے متعدد بار پرزے منگوانے کی درخواستیں دی گئی تھیں، لاہور سے ٹیک آف سے پہلے بھی اس طیارے کے انجن میں خرابی پیدا ہوئی تھی۔ پی آئی اے کی افسر شاہی اپنے اللوں تللوں میں تو کوئی کمی برداشت نہیں کرتی مگر پرزوں کی درخواست موخر کی جا سکتی ہے چاہے اس کی قیمت انسانی جانوں کی صورت چکانی پڑے۔ پہلے پی آئی اے کے کپتان کے پاس اختیار ہوتا تھا کہ اگر وہ سہولیات کے مدنظر سمجھے تو جہاز اڑانے سے منع کر سکتا ہے مگر لازمی سروسز خدمات قانون کے نفاذ کے بعد پائلٹ اور کیبن کے عملے کا اختیار ختم کر کے سارا کنٹرول آپریشنل ڈیپارٹمنٹ کے پاس ہے۔

پی آئی اے کے مالی و انتظامی معاملات اس قدر بری حالت میں ہیں کہ حادثے ناگزیر ہوتے جا رہے ہیں۔ اس حادثے کے بعد ایک مرتبہ پھر پی آئی اے کی نجکاری کا شور اٹھے گا۔ نجکاری سے محنت کشوں کے استحصال میں مزید اضافہ ہی ہوتا ہے کوئی کمی نہیں آتی یہاں تک کہ کافی مزدوروں کو اپنی نوکریوں سے بھی ہاتھ دھونا پڑتا ہے۔ ہم اس سانحے کو نجکاری کی دلیل بنانے کی ہرگز اجازت نہیں دیں گے۔ پی آئی اے کے خراب معاملات کی وجہ نہ تو قومی ملکیت ہے نہ اس کے مسائل کا حل نجکاری۔

پی آئی اے کو اس حال تک پہنچانے کی ایک بڑی وجہ ہی نجکاری کی پالیسیاں تھیں۔ بہترین اور منافع بخش رُوٹس نجی ائر لائنز کو دے دئے گئے۔ جب حالت یہ ہو کہ ملک کا وزیر اعظم نجی ائرلائن چلا رہا ہو اور ببانگ دہل یہ کہتا ہو کہ حکومت کا کام کاروبار کرنا نہیں تو پی آئی اے کے معاملات خراب ہوتے چلے جائیں گے۔

اسی طرح اگر کسی وقت دنیا کی بہترین ائرلائن گردانی جانے والی کمپنی میں حکومت کو ایک بھی ایسا اہل پائلٹ یا انجنیئر یا ٹیکنیشن دستیاب نہ ہو جو پی آئی اے کی رہنمائی کر سکے اور ریٹائرڈ ائرمارشلوں کو لانا پڑے تو پھر خرابی پی آئی اے میں نہیں کہیں اور ہے۔

سب سے اہم بات یہ کہ نجی کمپنیوں کی کارکردگی پی آئی اے سے بھی بری ہے۔ اس لئے نجکاری کا شور مچانے والے باز ہی رہیں تو بہتر ہے۔

اس میں بھی لیکن کوئی شک نہیں کہ پی آئی اے اس وقت بہت بری حالت میں ہے اور اگر اس کو پیشہ وارانہ انداز میں نہ چلایا گیا تو نہ صرف یہ ٹیکس دہندگان پر بوجھ بنی رہے گی بلکہ مزید حادثوں کا سلسلہ جاری رہے گا۔ اس لئے ضروری ہے کہ پی آئی اے کے ملازمین کو جمہوری انداز میں اس ادارے کے مالی، انتظامی، تکنیکی، پیشہ وارانہ اور تجارتی معاملات چلانے دیے جائیں۔ پی آئی اے کے ذریعے ریٹائرڈ افسروں کو نوازنے کا سلسلہ بند کیا جائے۔ انسانی جانوں کو ترجیح دی جائے۔ مسافروں اور عملے کی سیفٹی پہلی ترجیع ہونی چاہئے۔

آخر میں ہم پاکستان کے تجارتی نیوز چینلز کے بارے میں بھی کچھ کہنا چاہتے ہیں۔ حسبِ سابق ان چینلز کا کردار گذشتہ روز کے حادثے کے بعد بھی صحافتی اقدار کے خلاف رہا۔ سانحے کو جنس بنا کر بیچنا تجارتی میڈیا کے اخلاقی دیوالیہ پن کی انتہا ہے۔ کل بھی ایسا ہی کیا گیا۔ مسافروں کی فہرست دکھائی جاتی رہی۔ عملے کی تصاویر نمایاں کی جاتی رہیں۔ بغیر سوچے سمجھے حادثے کی فوٹیج پیش کی جاتی رہی۔ خبر بریک کرنے کا مقابلہ چل رہا تھا۔ افسوس!

ٹیلی ویژن کے ناظرین، صحافتی تنظیموں اور میڈیا سکالرز کو اس طریقہ کار کے خلاف مسلسل احتجاج کرنا چاہئے۔ شہریوں کی ٹریجڈی تجارتی میڈیا کے لئے برائے فروخت کموڈٹی نہیں ہونی چاہئے جسے ہر شکل، ہر صورت میں بیچ کر وہ اپنی ٹی آر پی بڑھاتے پھریں۔