پاکستان

کشمیر پر اندرونی لڑائیاں اب سر عام ہونے لگیں

فاروق طارق

تحریک انصاف حکومت کے وزرا کے مسئلہ کشمیر پر متضاد نقطہ نظر اب پبلک ہو چکے ہیں۔ گذشتہ روزکے تمام اخبارات نے وزیراعظم اور وزیر خارجہ کے درمیان نقطہ نظر میں تضاد اور اس کا ’کشمیر کاز‘ کو پہنچنے والے نقصان کاذکر شہ سرخیوں میں کیا ہے۔

الزام ہے کہ وزیر اعظم کی کشمیر پالیسی کو وزارت خارجہ کی حمائیت حاصل نہ تھی۔ یہ بیان ہے شیریں مزاری کا۔ یوں لگتا ہے کہ اب جہانگیر ترین کا حامی گروہ شاہ محمود قریشی پر جوابی وار کر رہا ہے۔ ویسے اس حکومت کی کشمیر پالیسی ہے کیا؟ اس کی کسی کو سمجھ نہیں آ سکی۔ ایک سال قبل مودی کے کشمیر میں جابرانہ اقدامات اور کشمیر کو بھارت کا حصہ بنانے سے قبل عمران خان کی صدر ٹرمپ سے ملاقات کو ایک بریک تھرو قرار دیا جا رہا تھا۔ کہا جا رہا تھا کہ شائد اب کشمیر کا مسئلہ حل ہو جائے گا… امریکیوں کی مدد سے۔

بھارت نے اُس قدم کے اٹھانے سے قبل خوب تیاری کی ہوئی تھی۔ ادھر پاکستان میں تو ٹرمپ کے مسکرا کر عمران خان سے ہاتھ ملانے کو ورلڈ کپ جیتنے سے تعبیر کر لیا گیا تھا۔

حکومت کی کشمیر پر ایک کنفیوزڈ پالیسی ہے۔ کشمیری عوام پر مشکل ترین وقت میں کوئی اہم پہل نہ لی گئی۔ یہ تاثر دیا جاتا رہا کہ جو کچھ مودی نے کیا تھا، عمران خان کو اس کا پتہ تھا مگر ایک تاثر ہے کہ یہ حکمران سودے بازی کر چکے ہیں مسئلہ کشمیر پر۔

اس پر تحریک انصاف کے دو گروہوں کی سر عام ایک دوسرے پر دشنام ترازی اس بات کا اظہار ہے کہ حکومت کشمیر پر بہت بنیادی مسائل حتیٰ کہ انسانی حقوق کی شدید ترین خلاف ورزیوں کو بھی موثر انداز میں کسی ایک عالمی فورم پر پیش نہ کر سکی ہے۔

آج شیخ رشید وزیر خارجہ بنے ہوئے ہیں اور فوجی قیادت وزارت خارجہ کو سنبھالے نظر آتی ہے۔ دوسرے ملکوں کے دورے ہو رہے ہیں۔ بل گیٹس سے گفتگو بھی ان کی ذمہ داری قرار پائی ہے۔ یہ ایک نا اہل حکومت ہے۔ آپس میں دست و گریبان یہ حکومتی وزرا اس شدید معاشی بحران کا سیاسی عکس ہے جس کا سامنا آج اس حکومت کو ہے۔

14 اگست کی تقریر میں عمران خان عوام کو دو مشکل ترین سالوں کے بعد معاشی بحالی اور اچھے وقتوں کے آنے بارے پشین گوئیاں کر رہے تھے۔ ایک ایسے وقت میں کہ جب پوری دنیا میں سرمایہ داری بحران معیشتوں کو نگل رہا ہے، نچوڑاور گرا رہا ہے، ترقی کی بجائے گراوٹ کا اظہار دیکھنے میں آ رہا ہے… عمران خان عوام کو جھوٹی تسلی دے کر اپنی بسائی ہوئی دنیا میں مسکرا رہے ہیں۔

اگلے دو سال پاکستانی معیشت پر بہت بھاری ثابت ہوں گے۔ بے روزگاری بڑھے گی، مہنگائی اور عروج پر جائے گی۔ صنعتی بحالی بہت معمولی ہونے کا امکان ہے جبکہ لوٹ مار کرنے والوں کی تعداد میں اضافہ ہو گا۔

جس طرح یہ آج کشمیر پر آپس میں سر عام لڑ رہے ہیں، اسی طرح آئندہ معیشت پر بھی لڑائی ہو گی۔ وزرا حفیظ شیخ اور باقر رضا پر تنقید کر رہے ہوں گے۔ اپنی نااہلیوں کا بوجھ دوسروں پر ڈال رہے ہوں گے۔

حفیظ شیخ اور باقر رضا پاکستانی معیشت کا وہ حشر کریں گے کہ جس کی کوئی اور مثال نہیں ملے گی۔ یہ سب موجودہ حکومت کی قیادت میں ہوگاجسے اسٹیبلشمنٹ اس وقت بھی مکمل حمائیت دے رہی ہے۔

فارق طارق روزنامہ جدوجہد کی مجلس ادارت کے رکن ہیں۔ وہ پاکستان کسان رابطہ کمیٹی کے جنرل سیکرٹری ہیں اور طویل عرصے سے بائیں بازو کی سیاست میں سرگرمِ عمل ہیں۔