طنز و مزاح

چندہ برائے نائٹ کلب

کنور خلدون شاہد

یوں معلوم ہوتا ہے کہ وزیر اعظم نے ملک بھر میں جن ایک کروڑ لوگوں میں جو نوکریاں بانٹی تھیں ان میں سے چند لاکھ کو تو محض اس کام پر رکھا ہوا ہے کہ محترم جناب عمران خان کے بیانات کے ساتھ دھوبی پچھاڑ کریں۔ وزیر اعظم نے یقینا کسی منصوبے کے تحت ہی ایسی ریاست مخالف اور گستاخانہ آوازوں کی بازگشت کو ہماری رستم پہلوان جیسی معیشت کے شعبہ خدمات میں شمولیت دی ہو گی۔ ویسے بھی بغیر پیسے لئے کوئی اپنے ملک پر، اپنے قائد پر، کیوں تنقید کرے گا؟

دو ہفتے قبل اسی مضر صحت بازگشت کی محفل سجی جہاں حسب معمول دھوکہ دہی کا دنگل ہوا۔ قائد مملکت نے ایک انٹرویو میں جنسی تشدد کی وجہ بیان کی تو ان پر یہ الزام لگایا گیا کہ انھوں نے خاتون کو ہی اس پر کئے گئے ظلم کا قصور وار ٹھہرایا ہے۔ بھلا کوئی سمجھ بوجھ رکھنے والا انسان یہ کہہ سکتا ہے کہ ریپ مظلوم کے لباس کی وجہ سے ہوتا ہے؟ جس ہستی کی وجہ شہرت ہی انگنت خواتین سے بے انتہا محبت کرنا رہ چکی ہو وہ تو کم از کم ایسی عورت دشمن بات کرنے سے قبل 1992 دفعہ سوچے گا۔ کوئی مرد تو ویسے بھی کپڑوں کو اتنی اہمیت دے ہی نہیں سکتا کیوں کہ ہم تو خاتون کے لباس کو ٹافی کا ریپر یا کیلے کا چھلکا مانتے ہیں۔ یہ بات کوئی مصنوعی ذہانت والا روبوٹ ہی کر سکتا ہے۔

پس ثابت ہوا کہ من گھڑت تشریحات کرنے والے، جنہوں نے وزیراعظم کے الفاظ کو کوٹ کوٹ کر ان کی چٹنی بنا ڈالی، انہوں نے سوچی سمجھی سازش کے تحت محترم جناب عمران خان کے صاف شفاف نظریات کو کنارہ کش کیا لہٰذا جب انٹرویو میں صحافی نے وزیر مملکت سے جنسی تشدد کی وجہ پوچھی تو ان کا دو ٹوک جواب ہم سب نے سنا تو ضرور لیکن نظر انداز کر دیا۔ جواب تھا: ”کیوں کہ ہمارے ملک میں نائٹ کلب اور ڈسکو نہیں ہیں“۔

اگر ریاست کے اعلیٰ ترین عہدے پر فائز لیڈر ٹی وی پر یہ کہہ رہا ہو کہ پاکستانی مرد خواتین کو دیکھ کر اس لیے بہک جاتے ہیں اور اپنے نفس پر قابو نہیں لا پاتے کیونکہ ملک میں نائٹ کلب نہیں ہیں تو اس کا سوائے اس کے اور کیا مطلب ہو سکتا ہے کہ قائد محترم ملک خداداد میں نائٹ کلب قائم کرنا چاہتے ہیں۔

جن کو اس حقیقت پر کوئی شک و شبہ ہے تو ظاہر ہے انھوں نے خان صاحب کی ”کلچرل امپیریل ازم“ کی مذمت پر بھی کان نہیں دھرے۔ کلچرل امپیریل ازم سے یہاں مراد وہ عورت دشمن عقائد اور ملبوسات ہیں جن میں ہم نے خواتین کو غیرت، عزت اور ثقافت کے نام پر قید کیا ہوا ہے۔ ظاہر ہے جو لباس مسلط ہے وہی امپیریل ازم کے زمرے میں آ سکتا ہے۔ بے تکے ناقدین نے اس حوالے کو بھی ان مغربی ملبوسات سے جوڑ دیا جو ہمیں عوامی مقامات پر کبھی دکھائی ہی نہیں دیتے۔

اب یہ بات بھی کیا آپ کو گھول کر پلانی پڑے گی کہ وزیر اعظم نے انٹرویو کے دوران آپے سے باہر مردوں اور ان کے سہولت کار جنس پرست نظریات کو آڑے ہاتھوں لیتے ہوئے کھلی ذہنیت اور اصلاح پسند سوچ کو اس مرض کا علاج بتایا ہے۔ انھوں نے نائٹ کلب اور ڈسکو جیسی جگہوں کو بطور حل اس لئے پیش کیا ہے تا کہ وہاں مرد جا کر خود مختار خواتین سے بات چیت کریں اور ان سے ان کی رضا مندی کے حساب سے ملے جلیں۔ قائد محترم قوم کو رضامندی کا ہی تو درس دینا چاہ رہے ہیں جس کی تفہیم کا فقدان ہی جنسی جارحیت کی جڑ ہے۔

جی ہاں یہ نائٹ کلب اور ڈسکو، جس میں اس قوم کے بیٹے اور بیٹیاں اپنی انفرادی مرضی سے ناچیں گے، تعلیمی مدارس کا کردار ادا کریں گے لیکن حکومت سے گزارش ہے کہ ان مدارس کی تعمیر ریاست کے اصغری تعلیمی بجٹ کے بجائے عسکری دفاعی بجٹ سے کی جائے، آخر اس ملک کی کم سے کم نصف آبادی کی سکیورٹی کا سوال ہے۔

یہ بات درست ہے کہ حکمرانوں کو فی الحال اسامہ بن لادن کو دہشت گرد اور چینی ریاست کو اسلاموفوب و مسلمانوں کا قاتل کہنے جیسے کئی دباؤ کا سامنا ہے لہٰذا بحیثیت پاک وطن کے ذمہ دار شہری ہمیں اس نائٹ کلب کی سنگ بنیاد رکھنے میں اپنا کردار بخوبی ادا کرنا چاہئے اور نیک مقصد کی تکمیل کے لئے بندہ ایک الگ جماعت کی تخلیق کا اعلان کرتا ہے جو فوری طور پر نائٹ کلب کے لئے چندہ اکھٹا کرنے میں وقف ہو جائے گی۔ مقصد کی مناسبت سے اس تنظیم کا نام جماعت الڈسکو رکھا گیا ہے۔

یہاں پر واضح ہو جائے کہ چونکہ کاوش اصلاح پسند بیانئے کو فروغ دینے کی ہے تو پراجیکٹ میں فرقہ واریت کی بالکل گنجائش نہیں ہو گی اور فقہ کی بنیاد پر چندہ اکھٹا کر کے الگ الگ منسلک کو اپنا اپنا علیحدہ نائٹ کلب بنانے کی سہولت ہر گز نہیں دی جائے گی۔ جماعت الڈسکو تمام مسلمانوں اور امت انسانی کی جماعت ہو گی۔

اب چوں کہ عید الاضحی قریب ہے تو چندہ برائے نائٹ کلب مہم کا آغاز کرنے کا مناسب وقت ہے۔ اس عید بھولئے گا مت: قربانی اللہ کے لئے، کھال جماعت الڈسکو کے لئے۔

کنور خلدون شاہد ایک صحافی اور مصنف ہیں۔ وہ ’دی ڈیپلومیٹ‘ کے پاکستان میں مقیم نمائندہ ہیں، ’دی سپیکٹیٹر‘ کے لیے بطور کالم نگار کام کرتے ہیں اور پاکستانی سیٹائر اخبارات ’دی ڈیپینڈنٹ‘ اور ’خبرستان ٹائمز‘ کے شریک بانی ہیں۔