تاریخ

سجاد ظہیر کی کردار کشی کرنیوالے رائٹسٹ ادیب کو جوش کا پر جوش جواب

ثوبان احمد

سید سجاد ظہیر جب کمیونسٹ پارٹی کے جنرل سیکرٹری تھے تو اس وقت ان کی بیٹی لندن میں تھیں۔ وہاں سے انہوں نے اپنے والد کو ایک کوٹ بھیجا جو سجاد ظہیر شوق سے پہنا کرتے تھے۔

ایک مرتبہ وہ چند ادیبوں اور شاعروں کی محفل میں بیٹھے تھے کہ برصغیر میں کمیونزم کے مستقبل پر گفتگو شروع ہو گئی۔ ایک قدامت پسند ادیب بھی وہاں موجود تھے جنہوں نے پھبتی کسی کہ برصغیر میں کمیونزم کا بھلا کیا مستقبل ہو سکتا ہے جہاں سجاد ظہیر بھی قیمتی کوٹ پہن کر گھومتے ہیں۔

سجاد ظہیر تو جواباً کچھ نہ بولے کہ وہ ویسے بھی کم گو انسان تھے۔ اسی محفل میں جوش ملیح آبادی بھی موجود تھے۔ جوش صاحب نے کہا لیجیے ایک رباعی عرض ہے:

بھوکوں کا جو ہمدرد ہو خود بھی نہ کھائے
گرداب زدوں کا دوست کشتی نہ چلائے
اس منطقِ بے ہودہ کے معنی یہ ہیں
گھوڑوں کا جو ہمدرد ہو گھوڑا ہو جائے

ثوبان احمد طالب علم ہیں۔ انہیں علمِ سیاسیات سے گہرا شغف ہے۔