خبریں/تبصرے

’نیا افغانستان‘: وزارت خواتین کو امر بالمعروف کے مرکز میں بدل دیا

یاسمین افغان

طالبان نے وزارت خواتین ختم کر کے نہ صرف کابینہ میں اس شعبے کے لئے کسی کو وزیر مقرر نہیں کیا بلکہ جمعہ کے روز وزارت خواتین کی عمارت میں امر بالمعروف و نہی عن المنکر کی وزارت قائم کر دی ہے۔ اس وزارت کا پورا نام پشتو اور عربی میں ہے: ”د افغانستان اسلامی امارت د دعوت و ارشاد او امر بالمعروف، نہی عن منکر وزارت“۔

ماضی کی طالبان آمریت کی طرح اس بار بھی اس وزارت کا کام یہ ہو گا کہ لوگوں سے نماز روزہ کی پابندی کروائی جائے، ان سے ڈریس کوڈ پر عمل درآمد کرایا جائے اور شہریوں کی مورل پولیسنگ کی جائے۔

اس فیصلے سے صرف ایک دن پہلے، اس وزارت کے باہر خواتین ملازمین نے احتجاج کیا تھا۔ ان کا کہنا تھا کہ انہیں نوکریوں سے بے دخل کیا جا رہا ہے۔

اس وزارت کی وجہ سے کم از کم ایک ہزار خواتین کابل میں جبکہ ہزاروں خواتین دیگر صوبوں میں ایک ایسے وقت پر بے روزگار کر دی گئی ہیں کہ جب ملک شدید معاشی بحران کا شکار ہے، مہنگائی آسمان سے باتیں کر رہی ہے اور خوراک کا حصول مشکل ہوتا جا رہا ہے۔

جمعرات کے دن احتجاج کرنے والی ایک خاتون نے دوران احتجاج کہا ”طالبان ہم سے مسلسل جھوٹ بول رہے تھے۔ ہم سے کہہ رہے تھے کہ آپ خواتین ملازمین کو اگلے ہفتے بلوایا جائے گا۔ اب کہا جا رہا ہے کہ اس وزارت کو ہی ختم کر دیا جائے گا۔ خواتین کے نام پر کچھ باقی نہیں بچے گا۔ تمام خواتین جو اس احتجاج میں شامل ہیں، ہم سب اپنے اپنے کنبے کا بوجھ اٹھا رہے ہیں۔ ہم میں سے بعض بیوہ ہیں۔ بعض کے شوہر نشہ کرتے ہیں۔ ہم نے تعلیم حاصل کی ہم گھر پر نہیں بیٹھنا چاہتیں۔ وہ ہمیں وزارت میں داخل نہیں ہونے دے رہے۔ ہم تین ہفتے سے یہاں آ رہے ہیں۔ افغانستان میں عورت نام کی کوئی ذات نہیں بچی“۔ لنک ذیل میں دیا جا رہا ہے:

وزارت خواتین کا قیام 2001ء میں عمل میں آیا تھا۔ اس کا مقصد خواتین حقوق کو یقینی بنا نا تھا۔ گو اس وزارت کی حیثیت تو علامتی ہی تھی مگر اس کے تحت قائم کئے گئے مراکز میں بے شمار ایسی خواتین پناہ گیر تھیں جو شوہروں کے تشدد سے جان بچانے کے لئے یا زبردستی کی شادی سے بھاگ کر یہاں پہنچی تھیں۔

یہ وزارت ملک بھر میں قائم اپنے صوبائی مراکز کے ذریعے عام آگاہی کے لئے سیمینار بھی منعقد کراتی تھی۔

’یاسمین افغان‘ صحافی ہیں۔ وہ ماضی میں مختلف افغان نیوز چینلوں کے علاوہ بی بی سی کے لئے بھی کام کر چکی ہیں۔ سکیورٹی صورتحال کی وجہ سے ان کا قلمی نام استعمال کیا جا رہا ہے۔