پاکستان

کمرشل جلسے‘ کارپوریٹ میڈیا‘ کروڑوں کا کھیل!

فاروق طارق

کراچی میں تحریک انصاف کے یومِ تاسیس کے موقع پر ہونے والے جلسے کی زبردست تیاریاں کی گئی تھیں۔ ایک بہت بڑا سٹیج تیار کیا گیا تھا۔ اسے پارٹی پرچم میں لپیٹا گیا تھا۔ ساؤنڈ سسٹم، روشنیاں، جھنڈے، کیمرے… بہت کچھ تھا۔ یہ علیحدہ بات ہے کہ لوگوں کی تعداد انتہائی کم رہی جس کے بعد جلسے میں کرسیاں چل گئیں (یا ناکامی سے توجہ ہٹانے کے لئے چلوا دی گئیں) اور ہلڑ بازی ہوئی۔ صرف اس جلسہ گاہ کی تیاری میں دسیوں لاکھ روپے تو لازمی لگے ہوں گے۔

اس قسم کے جلسے منظم کرنا آج ایک بڑی کمرشل سرگرمی بن چکا ہے۔ ان پر کروڑوں روپے کا خرچہ ہوتا ہے۔ ماضی کی سیاست میں کارکنان کام کیا کرتے تھے۔ آج سب کچھ ٹھیکے پہ کروایا جاتا ہے۔ سب سے اہم بات جو جلسہ منظم کرنے والی پارٹی سوچتی ہے وہ یہ کہ اسے میڈیا پر کس طرح پیش کرنا ہے؟

جماعت اسلامی نے جب لاہور میں پچھلے سال ایک جلسے کا اہتمام کیا تو کرسیاں کم از کم دس دس فٹ فاصلے کی قطاروں میں لگائی گئی تھیں۔ اس کا مقصد تھا کہ جب میڈیا اس جلسے کی کوریج کرے تو ایک بڑا مجمع نظرآئے۔ یہ عوام کو دھوکہ دینے کی ایک حکمت عملی ہے کہ آپ وہ دکھائی دیں جو آپ ہیں نہیں۔

یہ سلسلہ تحریک انصاف نے شروع کیا تھا۔ وہ جلسوں کو اس طرح میڈیا میں پیش کرنے کی حکمت عملی اختیار کرتے تھے کہ کرسیاں بھی دور دور ہوں، سٹیج مہنگے ترین بنیں، لوگوں کو جلسوں میں لانے کا پورا بندوبست ہو، جلسہ ایک شہر کا بھی ہو تو تمام صوبے سے لوگ لائے جائیں۔ میڈیا کوریج کے خصوصی انتظامات ہوں۔ شہر کے ہر کھمبے اور سرکاری اور غیرسرکاری عمارت پر ہزاروں بینر اور جھنڈے کمرشل بنیادوں پر لگائے جائیں۔ ساؤنڈ سسٹم وہ ہو جو پورے علاقے کو سنائی دے۔ خصوصی طور پر ان افراد کو بک کیا جائے جو ڈی جے ہوں اور موسیقی کی محفلوں کے ایکسپرٹ ہوں۔ اس سب پر کروڑوں روپے خرچہ آتا ہے۔

مرکزی لیڈر کی تقریر کے دوران خاص گانے یا میوزک چلایا جاتا ہے تا کہ لوگ بات پر غور نہ کریں بلکہ میوزک میں مست رہیں۔ جلسوں کو محفل موسیقی بنانے کی پوری جستجو کی جاتی ہے۔ مشہور گلوکاروں کو جلسوں میں گانے کے لئے بلانا بھی ایک لازمی جزو بن گیا ہے۔

ماضی کے بڑے جلسوں میں شعرا اپنے انقلابی پیغام کے ذریعے عوام کے شعور کو جھنجوڑتے تھے۔ عوامی مسائل کو عوامی شاعری میں اجاگر کرتے تھے۔ اب شاعروں کی جگہ گلوکاروں نے لے لی ہے جو شعور کی بجائے لفنگا پن پرموٹ کرتے ہیں۔ شاعروں کی چھٹی اور گلوکاروں اور ڈی جے حضرات کی چاندی ہو گئی ہے۔

میڈیا کی لائیو کوریج بھی جلسوں پر آنے والے اخراجات کا ایک اہم حصہ ہے۔ پرائیویٹ ٹی وی چینلوں کو مختلف طریقوں سے نوازا جاتا ہے۔ ان کو اپنی بڑی کمپنیوں کے اشتہارات کے علاوہ براہ راست بھی بک کیا جاتا ہے۔ اینکر خواتین و حضرات کی بھی خوب چاندی ہو گئی ہے۔ وہ یا تو ان جلسوں میں خودشریک ہوتے ہیں یا پھر ان پر تبصروں کے ذریعے نمک حلال کرتے ہیں۔

میڈیا کے کیمرہ مین جو بھی کریں اندر سے ایڈیٹنگ اس طرح کی ہوتی ہے کہ سینکڑوں‘ ہزاروں نظر آئیں اور ہزاروں‘ لاکھوں بن جائیں۔

جلسوں کے منتظمین ان میں شرکت کو بڑھا چڑھا کرپیش کرتے ہیں۔ پانچ ہزار کرسی ہو اور دور دور لگی ہو تو کہتے ہیں کہ بیس ہزار تو کرسی لگی ہے۔ بیس ہزار تو آرام سے پچاس ہزار بن جاتی ہے۔ میڈیا والے بھی منتظمین کے بڑھا چڑھا کر پیش کیے گئے دعووں کو نشر اور پرنٹ کرتے ہیں۔ اگر کسی اخبار نویس نے حقیقی تعداد لکھنے کی جرات کر بھی لی تو اس کو دھمکیاں دی جاتی ہیں اور خبردار کر دیا جاتا ہے۔

یہ سراسر دھوکہ دہی اور جھوٹ ہے کہ آپ کے جلسے میں دس ہزارسے بھی کم لوگ آئیں اور آپ یہ لکھ کر اخباروں اور میڈیا کو دیں کہ ایک لاکھ سے زیادہ افراد نے شرکت کی ہے۔ اندازے میں ایک دو ہزار کا نہیں دسیوں ہزار کا فرق شعوری دھوکہ دہی پر مبنی ہوتا ہے۔ اپنے جلسے سے ہی آپ جھوٹ اور دھوکہ دہی کا آغاز کر دیتے ہیں۔ سیاسی اخلاقیات کا جنازہ تو یہیں سے اٹھنا شروع ہو جاتا ہے۔

کارپوریٹ میڈیا کے ایڈیٹر حضرات تو اکثر اوقات بیلنس کرنے کے چکروں میں رہتے ہیں۔ فرنٹ صفحے پر پیپلز پارٹی چھپے گی، مسلم لیگ ن بھی، تحریک انصاف اور جماعت اسلامی بھی۔ طاقتور اداروں کی پریس ریلیزیں اور بیانات تو فرنٹ صفحات کے علاوہ کوئی اور جگہ پا ہی نہیں سکتے۔ اب تو ان کا بھی تقریباً روزانہ ہی کوئی بیان لگا ہوتا ہے۔ جنرل آصف غفور کی پریس کانفرنس جس میں پشتون تحفظ موومنٹ کو سخت وارننگ دی گئی، امور داخلہ اور خارجہ دونوں وزارتوں کے معاملات کا احاطہ کرتی تھی۔

یہی صورحال ٹاک شوز کی ہے جن میں حکومت اور اپوزیشن کے علاوہ ایک ”دفاعی“ تجزیہ نگار لازمی بیٹھا ہوتا ہے۔ چوتھا بالعموم کوئی مولوی ہوتا ہے۔

بڑے جلسوں کی یہ کیمسٹری اب بہت مہنگی ہو گئی ہے۔ یہ اب ارب پتیوں کا کھیل بن گیا ہے۔ ٹریڈ یونینوں، مزدوروں،کسانوں، مزارعوں اور گراس روٹ سماجی تحریکوں کی سرگرمیاں ہوتی ہیں مگر کمرشل میڈیا کو نظر نہیں آتیں۔ کہتے ہیں یہ بکتا نہیں، تعداد کم ہے۔ حالانکہ عمران خان کے دھرنے میں ایسا وقت بھی آیا جب نیچے کیمرہ مارنا ہی چھوڑ دیا گیا کیونکہ لوگ ہی نہیں بچے تھے۔ کیمرہ صرف اوپر یا مخصوص زاویے سے (جس میں خالی کرسیاں وغیرہ نظر نہ آئیں) چند درجن لوگوں پہ ہی رہتا تھا۔ وہی پورے پاکستان اور دنیا کو دکھائے جاتے۔ یہ مہربانی کبھی محنت کش طبقات کی تنظیموں پر نہیں کی جاتی۔

یہ وہ برا وقت ہے کہ اخباروں کے باہر والے صفحات بڑی پارٹیوں اور وزیر اعظم، وزیر اعلیٰ اور دوسرے وزیروں کے بیانات سے بھرے ہوتے ہیں اور اندر والے صفحات مولویوں کے بیانات یا دھمکیوں سے۔ محنت کش طبقے کی تنظیموں اور سرگرمیوں کے لئے اخباروں اور ٹی وی پہ کوئی جگہ نہیں۔ دکھاوے اور خانہ پری کے لئے یوم مئی وغیرہ کی تقاریب کو برائے نام کوریج دے دی جاتی ہے۔
اسی لئے ہم کہتے ہیں کہ ایک غیر انقلابی دور جاری ہے۔ دائیں بازو کی جماعتیں اور

مذہبی تنظیمیں میڈیا پر چھائی ہوئی ہیں۔ بایاں بازو اور محنت کش طبقات اس دوڑ سے تقریباً باہر ہیں اور شعوری طور پر انہیں باہر رکھا گیا ہے۔

لیکن وقت اور حالات بدلتے زیادہ ٹائم نہیں لگتا۔ آج ہمارا ٹائم نہیں تو کیا ہوا‘ یہ آئے گا ضرور۔ اور پھر جلسے جلوسوں اور میڈیا کوریج پر پیسے کی طاقت نہیں بلکہ عوامی قوت حاوی ہو گی۔

فارق طارق روزنامہ جدوجہد کی مجلس ادارت کے رکن ہیں۔ وہ پاکستان کسان رابطہ کمیٹی کے جنرل سیکرٹری ہیں اور طویل عرصے سے بائیں بازو کی سیاست میں سرگرمِ عمل ہیں۔