پاکستان

بلوچستان: قومی آزادی اور مسلح مہم جوئی

اویس قرنی

26 اپریل کے روز کراچی یونیورسٹی کے کنفیوشس انسٹیٹیوٹ میں ہونے والے خود کش دھماکے میں تین چینی اساتذہ سمیت ایک پاکستانی ڈرائیور ہلاک ہوئے جبکہ کئی افراد زخمی ہوئے۔ دھماکے کی ذمہ داری بلوچستان کی علیحدگی پسند قوم پرست مسلح تنظیم ’بلوچ لبریشن آرمی‘ کی مجید برگیڈ کی طرف سے لی گئی۔ مبینہ طور پر دو بچوں کی ماں‘ شاری بلوچ نامی 30 سالہ بلوچ خاتون جو کہ اعلیٰ تعلیم یافتہ تھی اور تدریس کے شعبہ سے منسلک تھی نے اس خود کش دھماکے کی کاروائی سر انجام دی۔ بلوچستان کے اس علیحدگی پسند دھڑے کی مجید برگیڈ کی مقبولیت ہی فدائی حملے ہیں۔ پاکستا ن میں مذہبی شدت پسندوں کی جانب سے خود کش حملوں کی تاریک تاریخ رہی ہے۔ عمومی طور پر لفظ ”دہشت گردی“ انتہائی دائیں بازو کے مذہبی شدت پسند گروہوں کی خونخوار سرگرمیوں کے لیے استعمال کیا جاتا ہے۔ لیکن بالعموم علیحدگی پسند تحریکوں میں مسلح جدوجہد کے طریقہ کارکے رحجان کے پیچھے تکالیف اور بے بسی مضمر ہوتی ہے۔ اس انتہائی مہم جوآنہ طریقہ کار سے اختلاف کے باوجود قومی جبر و استحصال سے انکار نہیں کیا جا سکتا۔ لیکن ان محرومیوں سے نجات صرف محنت کش طبقے کی یکجا اور اجتماعی جدوجہد سے ممکن ہے۔ مذہبی دہشتگردوں اور قوم پرست دھڑوں کی ایسی کاروائیوں کو ایک نظر سے پرکھنا بھی درست نہیں۔ تاہم اس قسم کی مہم جوآنہ مسلح کاروائیاں ہر حوالے سے قابل مذمت ہیں۔ مارکس وادی انفرادی دہشت گردی کی مخالفت کرتے ہیں۔ لیکن ایسا کسی جذباتی یا اخلاقی بنیادوں پر نہیں بلکہ خالصتاً سائنسی اور نظریاتی بنیادوں پر کرتے ہیں۔ انفرادی دہشت گردی ایک طرف بے بسی کا اظہار ہے اور دوسری طرف محنت کش طبقے پر بے یقینی کا بھی۔ مارکسی اساتذہ نے ہمیشہ ایسے طریقہ کار کی مذمت کی ہے۔ خاص طور پر لیون ٹراٹسکی نے 1911ء کے اپنے مضمون ’مارکس وادی انفرادی دہشت گردی کی مخالفت کیوں کرتے ہیں؟“ میں اس طریقہ کار اوراس کے مضمرات پر سیر حاصل بحث کی ہے۔ جس میں وہ لکھتے ہیں کہ ”ہم انفرادی دہشت گردی کی مذمت اس لیے کرتے ہیں کہ انفرادی انتقام ہمارے لیے اطمینان بخش نہیں۔ سرمایہ دارانہ نظام سے جو حساب ہم نے چکتا کرنا ہے وہ وزیر کہلائے جانے والے کسی اہلکار سے نہیں ہو سکتا۔“ مسلح بغاوت کسی بھی انقلاب کا فیصلہ کن موڑ ہوتا ہے اور اس کی اہمیت سے مارکسی وادی کبھی بھی آنکھیں نہیں چراتے۔ لیکن اس فیصلہ کن موڑ اور انفرادی دہشتگردی کے مابین فرق کا ادراک لازم ہے۔ ایک مسلح بغاوت محض کسی انفرادی دہشتگردی کی مہم جوآنہ سرگرمی کے برعکس پرولتاریہ کی انقلابی فوج اور ان کی پارٹی کے نظریاتی اور آہنی ڈسپلن کا اجتماعی عمل ہوتا ہے جس نے انقلابی سرکشی کے مقدر کا فیصلہ کرنا ہوتا ہے۔

اس ملک کی 75 سالہ تاریخ میں قومی جبر و محرومی میں مسلسل اضافہ ہی ہوا ہے۔ یہ ملک 1946ء کی محنت کشوں کی انقلابی بغاوت کو کچل کر ایک خونی بٹوارے کی کوکھ سے معرض وجود میں آیا۔ جہاں آج تک ایک یکجا اور جدید قومی ریاست تشکیل نہ پاسکی۔ اپنے جنم سے ہی قومی مسئلے سمیت کسی بھی بورژوا انقلاب کے فریضہ کو سرانجام دے سکنے کی یہاں کی بورژوازی کی نااہلیت‘محرومیوں اور استحصال میں مسلسل شدت پر ہی منتج ہوئی ہے۔ یہاں کے قدرتی وسائل کو بے دردی سے لوٹا جاتا رہااور عالمی سامراجی بھی گدھ کی طرح اپنی کٹھ پتلیوں کے ذریعے اس خطے کو نوچتے رہے۔ ان بیش قیمت وسائل اور اپنی جغرافیائی خاصیت کے سبب ہر سامراجی ملک کی نظریں اس خطے پر گڑی رہیں۔ وسائل کی لوٹ مار اور قومی استحصال کے خلاف جفا کش بغاوتوں نے بھی جنم لیا جن پر ریاستی تشدد کی انتہائیں کر دی گئیں۔ بلوچستان کی قومی جدوجہد کو بھی ہر طرح کے آپریشنوں اور جبر سے کُچلنے کی کوشش کی جاتی رہی۔ جس کی نفرت میں انفرادی دہشتگردانہ کاروائیاں بھی وقتاً فوقتاً جاری رہیں۔بلوچ لبریشن آرمی نے اس حالیہ دھماکے کو بھی بلوچستان کی محرومی کے ساتھ جوڑا ہے۔ لیکن جس طرح بلوچستان کی قومی آزادی کی جدوجہدکو ریاست کی دیوہیکل مسلح مشینری یکسر ختم کرنے میں ناکام رہی اسی طرح سے علیحدگی پسند دھڑوں کی انفرادی دہشت گردی بھی قومی محرومی اور جبر کا خاتمہ کرنے کی اہلیت نہیں رکھتی۔ بلکہ اس قسم کے رحجانات ریاست کو پرامن سیاسی تحریکوں کو بھی کچلنے کا جواز فراہم کرتے ہیں۔

جہاں تک بلوچستان کی محرومی اور استحصال کا سوال ہے تو کوئی بھی مارکسسٹ اس سے انکار نہیں کرسکتا ہے۔ جس طرح کامریڈ لال خان نے فروری 2016ء میں اپنے جوابی خط بنام محراب سنگت میں لکھا تھا کہ ”ہم محکوم بلوچ عوام کے حق خود ارادیت بشمول حق علیحدگی کی حمایت کرتے ہیں۔ یہی مؤقف بلوچستان میں رہنے والے پشتون، ہزارہ اور جنوبی ایشیا اور دوسرے خطوں میں رہنے والے محکوم محنت کشوں اور نوجوانوں کے لیے بھی ہے۔“ اسی خط میں انہوں نے یہ بھی لکھا تھا کہ ”ہم بین الا قوامیت پسند ہیں۔ مارکسزم انٹرنیشنلزم کے سوا کچھ بھی نہیں ہے۔ ہم سمجھتے ہیں کہ موجودہ ریاستی ڈھانچے، اس کی مصنوعی سرحدوں اور سرمایہ دارانہ نظام کے اندر رہتے ہوئے محکوم قوم کی قومی آزادی اور طبقاتی آزادی ممکن نہیں ہے۔“ یہ خطوط تاریخی دستاویز کی حیثیت رکھتے ہیں جو مارکسی اساتذہ کے حوالہ جات سے بھرے پڑے ہیں۔ ان خطوط کا نہ صرف ہر سوشلسٹ بلکہ قوم پرست رحجانات رکھنے والوں کو بھی مطالعہ کرنا چاہیے اور نتائج اخذ کرنے چاہیے۔

قومی سوال اور مسلح جدوجہد ایک طویل موضوع ہے جس پر عالمی پیمانے پر ہزاروں مضامین اور سینکڑوں کتابیں لکھی جا چکی ہیں اور مزید بھی لکھی جا سکتی ہیں۔ بہرحال انفرادی دہشتگردی کے واقعات نہ صرف ملک گیر سطح کی قومی و نسلی پروفائلنگ اور ہراسانی کا باعث بنتے ہیں بلکہ خود محکوم قومیتوں کی معاشی و طبقاتی تحریکوں کو کچلنے کا بھی ریاست کو جواز فراہم کرتے ہیں۔ جون 2020ء میں کراچی سٹاک ایکسچینج پر اسی مسلح تنظیم کے حملے سے قبل بلوچستان میں طلبہ کی ایک جرات مندانہ تحریک منظم ہو رہی تھی۔ جس میں بلوچ سٹوڈنٹس ایکشن کمیٹی (بساک)کی قیادت میں طلبہ آن لائن کلاسوں کے خلاف احتجاج کر رہے تھے۔ طالبات کی قیادت میں اس جرات مند تحریک کا دائرہ کار بڑھ رہا تھا۔ اس تحریک کے ساتھ ملک بھر کے دیگر شہروں کے طلبہ کی ہمدردیاں اور یکجہتی مضبوط ہو رہی تھی۔ حتیٰ کہ کراچی، لاہور، اسلام آباد سمیت کشمیر اور دیگر علاقوں میں یکجہتی مظاہرے ہوئے۔ طویل عرصے بعد طلبہ کی سیاسی جڑت میں اضافہ ہو رہا تھا۔ اسی وقت پوری دنیا کورونا وبا کی لپیٹ میں تھی۔ کوئٹہ میں ڈاکٹر ز، نرسز اور پیرامیڈیکل سٹاف نے حفاظتی سازو سامان کے حصول کی تحریک منظم کی۔ جن پر پولیس کا بدترین تشدد کیا گیا۔ لیکن تحریک مسلسل آگے بڑھی جس کا پھیلاؤ ملک گیر سطح کا تھا۔ ایسے میں کراچی سٹاک ایکسچینج پر ’بلوچ لبریشن آرمی‘ کے مسلح حملے نے ایک ہیجانی صورتحال پیدا کر دی۔ ریاست نے پورے زور سے یلغار کر دی۔ اس حملے نے طلبہ، محنت کشوں اور محکوموں کی طبقاتی یکجہتی کو زِ ک ضرور پہنچائی۔ اسی طرح اگر ماضی قریب کی بلوچستان میں امڈنے والی تحریکوں کا جائزہ لیا جائے تومعلوم پڑتا ہے کہ بنیادی مسائل کی حامل تحریکوں نے نہ صرف بلوچستان بلکہ ملک گیر سطح پر مزاحمتی تحریکوں کو ایک نئی جست دی ہے۔ سرکاری ملازمین، پروفیسرز اور لیکچررز کی جفا کش تحریکیں کامیابی سے ہمکنار ہوئیں۔ آئی ایم ایف اور نجکاری مخالف تحریکیں منظم ہوئیں۔ تنخواہوں میں اضافے جیسے بنیادی مسئلے کو انتھک اور پرامن جدوجہد سے محنت کشوں نے فتح کیا۔ اسی طرح خاص طور پر بلوچستان کے طلبہ کی تحریک نے ملک بھر پر چھائے دہائیوں کے طلبہ تحریک کے جمود کو کاری ضربیں لگائیں۔ گوادر میں مہنگائی اور دوسرے ایشوز کے خلاف ہونے والے احتجاجی مظاہروں نے یہاں ایک نئی ریت ڈالی۔ اسی طرح بلوچستان کے ڈاکٹرز اور نرسز مسلسل برسر پیکار رہے۔ ان تمام تحریکوں میں خواتین کا کلیدی کردار رہا۔ ریاست ان تحریکوں کے سامنے بے بس تھی۔ ایسا نہیں کہ ان پر تشدد نہیں ہوا۔ بلکہ ڈاکٹروں اور طلبہ پر بدترین تشدد کیا گیا۔ انہیں جیلوں میں بند کیا گیا لیکن اپنی تمام تر ہیبت اور طاقت کے باوجود ریاست ان کے سامنے بے بس تھی۔ وہ انہیں کچل نہیں سکی۔ اور بعض واقعات میں تو حکمرانوں کو ان کے سامنے جھکنا پڑا۔ جابر ریاستوں کے لیے یہ تحریکیں مسلح تحریکوں سے کہیں زیادہ خطرناک ہوتی ہیں۔ کیونکہ یہ تحریکیں لوگوں کو قومی ونسلی بنیادوں پر کاٹنے کی بجائے تیز تر طبقاتی مسائل اور سوالات کے گرد جوڑ رہی ہوتی ہیں۔ اب ایک خاتون خود کش حملہ آور کو جواز بنا کر بلوچستان کی خصوصاً سرگرم خواتین کے خلاف بھی ایک منظم یلغار کا خطرہ ہے۔ اسی طرح ملک بھر کے دیگر شہروں میں مقیم بلوچستان سے تعلق رکھنے والوں کے لیے بھی زمین تنگ کی جارہی ہے۔ ان کو پہلے ہی ہراسانی کا سامنا ہے جس میں مزید شدت آئے گی۔ نوجوانوں کی پکڑ دھکڑ، اغوا اور گرفتاریوں کا سلسلہ شروع ہو چکا ہے۔ بغیر کسی الزام یا ایف آئی آر کے ماورائے قانون نوجوانوں پر ستم کے پہاڑ توڑے جائیں گے۔ اس جبر کے خلاف ملک بھر کے طلبہ کو متحد ہو نا ہوگا۔ کیمپس سے اغوا کاری کو طلبہ کی منظم یکجہتی ہی شکست دے سکتی ہے۔ طلبہ کی ہراسانی و تذلیل پھر مسلح جتھوں کے لیے ایندھن کا کام کرتی ہے۔ ریاستی تشدد کے ایسے ہی واقعات کی بدولت یونیورسٹیوں کے طلبہ، اساتذہ یا ڈاکٹر سب کچھ تیاگ کر سنگلاخ چٹانوں میں رائفلیں تھامے مزاحمت کا راستہ اختیار کرتے ہیں۔ پھر انہی میں سے کوئی شاری بلوچ یاشاہ داد بلوچ دریافت ہوتے ہیں۔ یہ بھی لازم نہیں کہ سبھی براہ راست ریاستی تشدد کو کسی نہ کسی شکل میں برداشت کرکے اس راہ پر نکلتے ہیں بلکہ بہت سارے ایسے بھی ہیں جن کی روحیں یہ سب دیکھ کر زخمی ہوئی ہوتی ہیں۔ ان کی جذبات بھی سچے ہیں اور تکلیف بھی المناک لیکن پھر اس سب کے باوجود ان کا راستہ درست نہیں۔ ہر انقلابی ان کی محرومیوں اور تکالیف کو محسوس کرتا ہے اور اپنی بے بسی کو بھی۔ ان تک انقلابی سوشلزم کے نظریات لے کر جانا بھی ہر انقلابی کا بنیادی فریضہ ہے۔اور یہی نظریہ نجات کی واحد ضمانت ہے۔

بلوچستان کی آزدی کی تحریک بھی کئی مراحل سے گزرتی ہوئی یہاں تک پہنچی ہے۔ یہاں مسلح یا گوریلا جدوجہد کی تاریخ بھی بہت پرانی ہے۔ بلوچستان کی آزادی کی تحریک میں شیر محمد مری اور خیر بخش مری جیسے کامریڈ بھی شریک رہے ہیں۔ جن کے بارے میں ڈاکٹر لال خان مندرجہ بالا حوالہ دیے گئے خط میں لکھتے ہیں کہ ”انقلاب اور مارکسزم کا گہرامطالعہ کرنے کے بعد انہوں نے یہ نتائج اخذ کیے تھے کہ حقیقی معاشی اور قومی آزادی کا واحد راستہ سوشلسٹ انقلاب کے ذریعے ممکن ہے اور یہ صرف طبقاتی جد وجہد کے ذریعے نہ کہ قومی جدوجہد کے ذریعے حاصل کی جاسکتی ہے۔ تاہم وہ بلوچستان کی قومی آزادی کو سوشلسٹ فتح کے لیے طبقاتی جدوجہد سے جوڑنے کے لیے پورے خطے کی حمایت حاصل کرنے کی کوشش کررہے تھے۔“ لیکن 90ء کی دہائی کے دیوہیکل واقعات نے تاریخ کو پھر سے موڑ دیا۔ سوویت یونین کی ٹوٹ پھوٹ اور چین کی افسر شاہی کی مصالحانہ روش نے دنیا بھر کے کمیونسٹوں کے اوسان خطا کر دیے۔ جہاں کئیوں نے خود کشیاں کیں وہیں مرحلہ وار انقلاب کے متروک سٹالنسٹ رحجان نے بیشتر کو قوم پرستانہ رحجانات میں غرق کر دیا۔ بورژوا سیاسی افق پر بھی بلوچ لیڈران کے پنجابی حکمرانوں کے ساتھ گٹھ جوڑ اور سانجھی حکومتوں نے ان کے خصی پن اور متروکیت کو بھی نوجوانوں پر آشکار کر دیا ہے۔ یہ نوجوان اپنے سوالوں کے جوابات اور کسی انقلابی راہ کے متلاشی ہیں۔ ان تک مارکسزم کے نظریات لے کر جانے کی ضرورت ہے۔ ان نوجوانوں کا مقدر زندگانی بخشنا ہونا چاہیے۔ نہ کہ دوسری قوموں کے اپنے جیسے ہی استحصال زدہ اور غریب لوگوں کی زندگیاں چھیننا۔

لیکن پھر ہمیں آج کے عہد میں سامراجیت کے کردار کو بھی سمجھنے کی ضرورت ہے۔ آج کے عہد میں کسی بھی شکل کی سامراجی امداد یا آشیر باد میں کسی جابر ریاست سے آزادی ممکن نہیں۔ نہ ہی ان سامراجیوں کے بنائے اقوام متحدہ جیسے عالمی اداروں سے ایسی امیدیں وابستہ کی جاسکتی ہے۔ ایسے سب ادارے سامراج اور سرمائے کی لونڈی کی حیثیت رکھتے ہیں۔ وسائل کی لوٹ مار اور جغرافیائی اہمیت کے سبب آج یہ خطہ سامراجیوں کی آپسی پراکسی جنگوں کی آماجگاہ بن چکا ہے۔ مذہبی فرقہ واریت سے لے کر قومی شاونزم تک سبھی نے اس خطہ کو تاراج اور یہاں محکوموں کو برباد ہی کیا ہے۔ آج ہر آزادی کی جدوجہد کا راستہ طبقاتی جدوجہد کے ساتھ جڑا ہوا ہے۔ ہم بھی ان نوجوانوں کو وہی پیغام دیتے ہیں جو کامریڈ لال خان نے بابو نوروز بلوچ عرف محراب سنگت کے ساتھیوں کو دیا تھا:

”ہم عالمی انقلاب کی پرولتاری فوج کے سپاہی ہیں۔ ہم آپ کی قومی جبر کے خلاف جدوجہد کو دوسری محکوم قوموں کی طبقاتی جد وجہد کے ساتھ جوڑنے کی حمایت کرتے ہیں۔ ہم اس سیارے کے ہر کونے میں اس استحصالی نظام اور اس کی ریاستوں کو اکھاڑ پھینکنے کی عالمی جد وجہد میں آپ کو دعوت دیتے ہیں۔ سوشلزم نجی ملکیت کی نفسیات اور قومی جبر کا خاتمہ کرتا ہے جو آخری تجزیے میں وسائل، دولت اور جائیداد کی ملکیت کا سوال ہے۔ بلوچستان کے وسائل صرف اسی صورت میں یہاں کے لوگوں کے ہوسکتے ہیں جب نجی ملکیت کے نظام اور ذرائع پیداوارکی نجی ملکیت، تقسیم اور تبادلہ کے نظام کا خاتمہ کر کے اجتماعی ملکیت کو رائج کیا جائے۔ یہ صرف محنت کشوں کے جمہوری کنٹرول کے تحت سوشلسٹ منصوبہ بند معیشت کے ذریعے ہی ممکن ہے۔“

اویس قرنی ’ریولوشنری سٹوڈنٹس فرنٹ‘ کے مرکزی آرگنائزر ہیں اور ملک بھر میں طلبہ کو انقلابی نظریات پہ منظم اور متحرک کرنے میں سرگرم عمل ہیں۔