پاکستان

میر جعفر، میر صادق والا بیانیہ اور تاریخ کا سامنا کرنے سے انکار

فاروق سلہریا

آج کل میر جعفر اور میر صادق کا ذکر عروج پر ہے۔ بچپن میں ہی مطالعہ پاکستان کی مدد سے یہ سبق رٹا دیا جاتا ہے کہ میر جعفر اور میر صادق کی غداری کی وجہ سے ٹیپو سلطان اور سراج الدولہ کو شکست ہوئی، غدار برداشت نہیں کئے جانے چاہئیں، ان کو عبرتناک سزا دینی چاہئے ورنہ ’کافر‘ ایک مرتبہ پھر جیت جائے گا۔’مشرقی پاکستان بھی مجیب جیسے غداروں کی وجہ سے علیحدہ ہوا‘۔ اس بیانئے کا ایک فائدہ یہ ہوتا ہے کہ یحییٰ خان اور اس کی بہادر سپاہ کا ذکر گول ہو جاتا ہے یا لیاقت سرکار سے لے کر ایوب سرکار تک جو زیادتیاں مشرقی پاکستان کے ساتھ ہوئیں، ان کے لئے سر نہیں کھپانا پڑتا۔ ایک ٹویٹ میں ساری بات سمجھا دی جاتی ہے، بات سمجھ لی جاتی ہے۔

علامہ اقبال سے لے کر عمران خان تک، یہ بیانیہ من و عن تسلیم کر لیا گیا ہے۔ افسوس پاکستانی تاریخ دان بھی کم کم ہی اس بے سرو پا بیانئے کو چیلنج کرتے دکھائی دیتے ہیں۔ کبھی کسی نے نہیں پوچھا کہ بھائی اگر میر جعفر اور میر صادق نہ ہوتے تو کیا کمپنی بہادر یا تاج برطانیہ کو ہندوستان میں شکست ہو جاتی اور لندن میں اسلام کا سبز ہلالی پرچم لہرا رہا ہوتا؟

چلیں میسور اور بنگال میں تو میر حضرات لے ڈوبے، پنجاب میں سکھ سلطنت کو کیوں شکست ہوئی؟ پھر یہ کہ برطانیہ نے ہندوستان کی بیسیوں ریاستوں کو ہی نہیں، آدھی دنیا کو کالونی بنایا…کیا سب جگہ میر جعفر اور میر صادق تھے جو کلونیل ازم کی وجہ بنے؟

سیدھی سی بات ہے: برطانیہ اور بعض دیگر یورپی ریاستوں میں سرمایہ داری نے جنم لیا جس نے ٹیکنالوجی کو معجزاتی ترقی دی۔ ان کے پاس بندوق تھی، ہندوستان کے پاس تلوار۔ ہندوستان گھوڑوں اور ہاتھیوں پر تھا اور برطانیہ کے پاس سٹیم انجن۔ وہ ایک ماہ میں لندن سے کلکتہ پہنچ جاتے تھے۔ ہندوستان پر حکمرانی کرنے والوں کی اکثریت کو لندن کا علم تک نہیں تھا۔ ہندوستان، چین، سلطنت عثمانیہ کی بوسیدہ جاگیرداری برطانوی یا فرنچ سرمایہ داری کا مقابلہ کرنے کی سکت رکھتی تھی نہ اہلیت۔

شروع میں ہندوستان علما ہی نہیں، پورے عالم اسلام کو لگا کہ دین سے دوری کی وجہ سے یورپ غالب آ گیا لہٰذا جگہ جگہ دیوبند اور بریلی کی طرز پر مدرسے کھلے۔ ہندوستان میں بعد میں میر جعفر اور صادق والا بیانیہ بھی گھڑ لیا گیا۔ کم سے کم ہندوستان کی حد تک (تا آنکہ کمیونسٹ تحریک کی بنیاد پڑی) کسی مسلمان مفکر کو نہ کلونیل ازم کی سمجھ آئی نہ سرمایہ داری کی۔ کمزور بنیادوں پر کھڑی اسلامک ریپبلک آف پاکستان کے حکمرانوں کو بھی میر جعفر میر سادق والا بیانیہ سود مند دکھتا ہے لہٰذا خوب بیچا جاتا ہے۔

قوم یوتھ کو راقم کا مشورہ:

فوری طور پر ستیہ جیت رے کی فلم ’شطرنج کے کھلاڑی‘ دیکھئے شائد کچھ پلے پڑے۔ بعد میں ہندوستان بارے کارل مارکس کے مضامین یا باری علیگ جیسے مارکسی دانشور، جنہیں سعادت حسن منٹو اپنا استاد مانتے تھے، کی کتاب ’کمپنی کی حکومت‘ کا مطالعہ بھی کیجئے۔ امید ہے افاقہ ہو گا۔

فاروق سلہریا روزنامہ جدوجہد کے شریک مدیر ہیں۔ گذشتہ پچیس سال سے شعبہ صحافت سے وابستہ ہیں۔ ماضی میں روزنامہ دی نیوز، دی نیشن، دی فرنٹئیر پوسٹ اور روزنامہ پاکستان میں کام کرنے کے علاوہ ہفت روزہ مزدور جدوجہد اور ویو پوائنٹ (آن لائن) کے مدیر بھی رہ چکے ہیں۔ اس وقت وہ بیکن ہاوس نیشنل یونیورسٹی میں اسسٹنٹ پروفیسر کے طور پر درس و تدریس سے وابستہ ہیں۔