پاکستان

جموں کشمیر: وزیر اعظم کی ’سکیورٹی میں خلل‘، صحافی بھارتی ایجنٹ قرار دے دیئے گئے

حارث قدیر

پاکستان کے زیر انتظام جموں کشمیر کے وزیر اعظم کی زندگی کو مبینہ خطرات کے خلاف آج تحریک انصاف ریاست گیر احتجاج کر رہی ہے۔ ترجمان وزیر اعظم نے اپنے کارکنوں کے ذریعے 2 صحافیوں، تحریک انصاف اور دیگر سیاسی جماعتوں کے 13 کارکنوں اور رہنماؤں کے خلاف ایف آئی آر درج کرنے کی استدعا کرتے ہوئے انہیں بھارتی خفیہ ادارے ’را‘ کا ایجنٹ قرار دے دیا ہے۔

عوام علاقہ حلقہ 4 پونچھ کے نام سے دی گئی درخواست میں لکھے گئے درخواست گزاروں میں ’تحریک جوانان کشمیر‘ نامی ایک جماعت کے رہنما و کارکنان شامل ہیں۔ یہ جماعت اسی حلقہ انتخاب میں قائم ہوئی اور انتخابات میں اس جماعت کے سربراہ نے حصہ لیتے ہوئے 5 ہزار سے زائد ووٹ بھی حاصل کئے تھے۔ مذکورہ جماعت کے سربراہ عرفان اشرف بعد ازاں تحریک انصاف کی حکومت میں صوابدیدی عہدے پر فائز ہوئے اور حالیہ تحریک عدم اعتماد کی منظوری کے بعد انہیں وزیر اعظم کا ترجمان مقرر کرنے کیلئے ایک خصوصی عہدہ تشکیل دیا گیا۔

ترجمان وزیر اعظم کی طرف سے 8 جون کو میڈیا کو دی گئی تفصیلات کے مطابق 3 اور 4 جون کی درمیانی رات 2 بجے کے قریب وزیر اعظم ہاؤس مظفر آباد میں وزیر اعظم کی خواب گاہ میں ایک غیر متعلقہ شخص داخل ہوا۔ وزیر اعظم تنویر الیاس نے اسے دیکھ لیا اور وہ موقع سے فرار ہو گیا۔

ترجمان وزیر اعظم نے اس واقعہ کو بہت سنگین قرار دیتے ہوئے بتایا کہ وزیر اعظم کی زندگی کو خطرہ لاحق ہے۔ سکیورٹی خلل کا ذمہ دار انہوں نے پرنسپل سیکرٹری برائے وزیر اعظم احسان خالد کیانی، پولیس کے دو ڈی آئی جی یاسین قریشی اور ڈاکٹر لیاقت کو قرار دیا اور یہ دعویٰ کیا کہ انہیں معطل کر دیا گیا ہے۔ تاہم ابھی تک ان تینوں افسران کو معطل نہیں کیا گیا، البتہ تینوں افسران کو تبدیل کر دیا گیا ہے۔

ترجمان وزیر اعظم نے یہ بھی بتایا کہ واقعہ کی اعلیٰ سطحی تحقیق ہو رہی ہے اور ایس ایس پی مظفر آباد یاسین بیگ اس معاملے کی تحقیقات کر رہے ہیں۔ تاہم انکا کہنا تھا کہ اس واقع کے تانے بانے بھارت سے ملتے ہیں۔ راولاکوٹ سے گرفتاریاں ہوں گی اور اصل حقائق سامنے آ جائیں گے۔

تاہم 9 جون کو راولاکوٹ میں ایس ایس پی پونچھ کے پاس ایک درخواست جمع کرواتے ہوئے مقدمہ درج کرنے کی استدعا کی گئی۔ مذکورہ درخواست میں دو صحافیوں راقم (حارث قدیر)اور آصف اشرف کے علاوہ تحریک انصاف کے رہنما نعیم الیاس، لبریشن فرنٹ کے رہنما شبیر عثمانی، پیپلز پارٹی رہنما سہیل سدوزئی کے علاوہ ایک بزرگ مقامی شاعر الیاس امین جنڈالوی اور ایک قوم پرست جماعت یو کے پی این پی کے سربراہ شوکت علی کشمیری کے نام شامل کرتے ہوئے مجموعی طور پر 15 افراد کو نامزد کیا گیا تھا۔

مذکورہ درخواست میں یہ موقف اپنایا گیا کہ مذکورہ افراد نے وزیر اعظم اور ترجمان وزیر اعظم سے متعلق ایک جعلی خبر کو سوشل میڈیا پر وائرل کر کے ان کی ساکھ کو نقصان پہنچایا۔ یہ اقدام انہوں نے بھارتی خفیہ اداروں کی ایما پر سرانجام دیا اور یہ لوگ بھارتی خفیہ ادارے کے ساتھ کام کرنے والے گروہ کا حصہ ہیں۔

پولیس کا کہنا ہے کہ درخواست پر کچھ اعتراضات لگا کر سائلین کو واپس دی گئی تھی اور تاحال بعد از درستگی درخواست جمع نہیں کروائی گئی۔ درخواست آنے کے بعد قانونی رائے لیتے ہوئے اس پر کارروائی کی جائیگی۔

دوسری طرف وزیر اعظم ہاؤس میں تمام عملہ کو تبدیل کر دیا گیا ہے، سکیورٹی ہائی الرٹ کر دی گئی ہے اور تحریک انصاف کی جانب سے ریاست گیر احتجاج بھی منعقد کئے جا رہے ہیں۔ تاہم یہ واضح نہیں کہ یہ احتجاج کس کے خلاف کئے جائیں گے۔

سکیورٹی خلل کے واقع سے متعلق وزیر اعظم ہاؤس کے متعلقین کے بیانات بھی متضاد ہیں اور آزاد ذرائع سے تاحال اصل واقعہ کی تصدیق نہیں ہو پائی ہے۔ ترجمان وزیر اعظم کی جانب سے یہ بتایا گیا ہے کہ وزیر اعظم ہاؤس کے سی سی ٹی وی کیمرے اس وقت بند تھے اور خواب گاہ میں داخل ہونے والا شخص اہم راز چوری کرنے کی غرض سے داخل ہوا تھا۔ ایک موقع پر انہوں نے کہا کہ شاید وہ وزیر اعظم کو قتل کرنے کی غرض سے آیا تھا۔ پہلے یہ بیان دیا گیا کہ وزیر اعظم ہاؤس کے عقبی دروازوں پر سکیورٹی موجود نہیں ہوتی، ساتھ ہی انہوں نے یہ بھی کہا کہ خواب گاہ میں داخل ہونے والا شخص وزیر اعظم ہاؤس کے اندر سے ہی تھا اور اس کے ہینڈلر راولاکوٹ میں موجود تھے۔

تاہم سی سی ٹی وی کیمروں کی بندش کے حوالے سے انکوائری کی بابت وہ کوئی جواب نہیں دے سکے۔

وزیر اعظم کے پریس سیکرٹری سید خالد گردیزی نے کسی بھی قسم کا موقف دینے سے انکار کر دیا ہے۔ انکا کہنا تھا کہ انہیں اس معاملہ پر کوئی بھی بات کرنے سے روکا گیا ہے۔ اس معاملہ پر صرف ترجمان وزیر اعظم ہی موقف دے سکتے ہیں۔

ایک اور قریبی ذرائع نے نام ظاہر نہ کرنے کی شرط پر بتایا کہ پرنسپل سیکرٹری اور پولیس افسران کو معطل نہیں کیا گیا، نہ ہی ان کی تبدیلی کا اس سکیورٹی خلل سے کوئی تعلق ہے۔ وہ وزیر اعظم کے امور میں رکاوٹیں پیدا کر رہے تھے اور وزیر اعظم کے خلاف مبینہ طور پر پھیلنے والی افواہوں کے ذمہ دار بھی تھے، جس وجہ سے انہیں تبدیل کیا گیا ہے۔

انہوں نے یہ بھی دعویٰ کیا کہ سی سی ٹی وی کیمروں کے آپریٹر گرفتار ہیں اور ان سے تفتیش کی جا رہی ہے۔ انہوں نے انکوائری سے متعلق ترجمان وزیر اعظم کے موقف کی تردید کرتے ہوئے کہا کہ چیف سیکرٹری اس انکوائری کی سربراہی خود کر رہے ہیں۔ تاہم انکا کہنا تھا کہ یہ لوگ سویلین ہیں اور سیاسی جماعتوں نے بھرتی کئے ہوتے ہیں، اس لئے ان کی گرفتاری سے متعلق آن ریکارڈ نہیں بتایا گیا ہے۔

سابق پریس سیکرٹری برائے وزیر اعظم راجہ وسیم نے اس معاملہ کی تردید کرتے ہوئے بتایا کہ وزیر اعظم ہاؤس کی سکیورٹی پر ریاستی پولیس کی ایک پلاٹون تعینات ہوتی ہے۔ 100 سے 110 تک افسران اور اہلکاران حفاظتی دستوں کی صورت موجود رہتے ہیں اور تمام حفاظتی امور کی نگرانی کرتے ہیں۔ سی سی ٹی وی کیمروں کی نگرانی بھی یہی پولیس اہلکاران و افسران ہی کرتے ہیں۔ تاحال کسی پولیس اہلکار یا افسر کے خلاف کسی انکوائری کی کوئی خبر نہیں ہے۔

وزیر اعظم ہاؤس کے ایک اہلکار نے نام ظاہر نہ کرنے کی شرط پر بتایا کہ گزشتہ کچھ دنوں سے وزیر اعظم اپنی سکیورٹی پر ذاتی محافظوں کو رکھنا چاہتے تھے، تاہم پرنسپل سیکرٹری اور پولیس افسران رکاوٹیں کھڑی کر رہے تھے۔ انکا موقف تھا کہ وزیر اعظم کی سکیورٹی پر قانونی طور پر ریاستی پولیس کے دستوں کو ہی فرنٹ لائن پر رکھا جا سکتا ہے۔ تاہم دوسری اور تیسری ترجیح پر وہ ذاتی محافظ بھی رکھ سکتے ہیں، لیکن وزیر اعظم فرنٹ لائن پر اپنے ذاتی محافظ رکھنا چاہتے تھے۔

وزیر اعظم کے سابق پی ایس او نے اپنا نام ظاہر نہ کرنے کی شرط پر بتایا کہ ابھی تک یہ معاملہ جو ظاہر کیا جا رہا ہے، اس طرح کا نظر نہیں آ رہا ہے۔ تاہم اگر واقعی کوئی شخص وزیر اعظم کی خواب گاہ تک پہنچا ہے تو یہ انتہائی سنگین معاملہ ہے، اس کی اعلیٰ سطحی تحقیقات ہونی چاہئیں۔ انکا کہنا تھا کہ جس طرح سے یہ تماشا بنایا جا رہا ہے، اس سے ظاہر یہی ہو رہا ہے کہ اس کے پیچھے وزیر اعظم اور ان کے عملہ کے کچھ ذاتی یا سیاسی مقاصد ہیں۔

انکا یہ بھی کہنا تھا کہ وزیر اعظم ہاؤس میں رات دیر تک چہل پہل معمول کی بات ہے۔ موجودہ وزیر اعظم تو رات 2 بجے تک ملاقاتوں میں مصروف رہتے ہیں۔ وزیر اعظم کے بیڈ روم میں مہمانوں کا ٹھہرنا بھی ایک معمول ہے۔ سکیورٹی عملہ کے اعتراضات کے باوجود ماضی میں کچھ صحافیوں سمیت دیگر مہمان وزیر اعظم کے بیڈ روم میں رہائش پذیر ہوتے رہے ہیں۔ اس کے علاوہ وزیر اعظم کی رہائش کے باہر اکثر ان کے کارکنوں کا ہجوم بھی رات گئے تک موجود رہتا ہے۔

انکا یہ بھی کہنا تھا کہ ابھی تک کسی بھی نوعیت کی سنجیدہ انکوائری ہوتے ہوئے نظر نہیں آ رہی ہے۔ محض وزیر اعظم ہاؤس کا عملہ تبدیل کیا گیا ہے۔ کسی بھی نوعیت کی انکوائری کیلئے پہلے انکوائری کمیٹی قائم کی جاتی ہے، اس کے ٹی او آرز اور مدت کا تعین کیا جاتا ہے۔ تاہم اس معاملہ میں ابھی تک ایسا کچھ بھی نہیں کیا گیا ہے، محض بیان بازی پر کام چلایا جا رہا ہے۔

انکا یہ بھی کہنا تھا کہ وزیر اعظم کے بیڈروم میں ایسا کوئی راز موجود نہیں ہوتا، جسے کوئی چورانے کیلئے آئے گا، اگر کوئی حملہ آور وزیراعظم کو نقصان پہنچانے کی غرض سے آیا تھا تو پھر وزیر اعظم کے سامنے آنے پر اس کا بھاگ جانا سمجھ سے بالاتر ہے۔ اس لئے یقین سے کچھ نہیں کہا جا سکتا کہ کوئی آیا، نہیں آیا، سکیورٹی خلل ہوا یا پھر ایک سیاسی سٹنٹ ہے۔

وزیر اعظم ہاؤس میں سکیورٹی پرمعمور رہنے والے ایک پولیس افسر نے اپنا نام ظاہر نہ کرنے کی شرط پر بتایا کہ وزیر اعظم کی سکیورٹی میں اس طرح کا خلل بہت سنگین نوعیت کا معاملہ ہوتا ہے۔ متعلقہ پولیس اہلکاران، افسران کے معطل ہونے سمیت اس وقت تک کئی گرفتاریاں ہو جانی چاہئیں تھیں، لیکن جس طرح سے راولاکوٹ میں درخواست دی گئی ہے، اس سے یہی ظاہر ہوتا ہے کہ ایک تیر سے کئی شکار کرنے کی حکمت عملی بنائی گئی ہے۔ لگ یہی رہا ہے کہ مظفر آباد میں وزیر اعظم کو درپیش کچھ رکاوٹیں دور کرنے کے ساتھ ساتھ اپنے مخالفین کو بھی زیربار کرنے کی کوشش کی جا رہی ہے۔

انکا کہنا تھا کہ اتنا سنگین واقعہ پیش آنے کے 4 روز بعد میڈیائی واویلا بھی یہ سمجھنے کیلئے کافی ہے کہ یہ سب ڈرامے بازی کی جا رہی ہے۔ بیوروکریسی کے حلقوں میں یہ بات بھی گردش کر رہی ہے کہ وزیر اعظم کے بیڈ روم سے شور کی آواز ضرور سنی گئی، تاہم اس کی نوعیت اور وجہ کیا ہے، یہ کوئی بھی نہیں جانتا، یا شاید کوئی کچھ بتانا نہیں چاہتا۔

سیاسی و سماجی رہنماؤں، وکلا، صحافیوں، طالبعلم رہنماؤں اور ٹریڈ یونین رہنماؤں نے صحافیوں اور سیاسی کارکنوں کے خلاف بے بنیاد مقدمات قائم کرنے اور ہراساں کرنے کیلئے دی گئی حکومتی درخواست پر سخت تشویش کا اظہار کیا ہے۔ سوشل میڈیا کے مختلف پلیٹ فارمز پر صحافیوں اور سیاسی کارکنوں کو ہراساں کرنے کی مذمت کی جا رہی ہے اور مطالبہ کیا جا رہا ہے کہ ترجمان وزیر اعظم کے خلاف کارروائی کی جائے۔

حارث قدیر کا تعلق پاکستان کے زیر انتظام کشمیر کے علاقے راولا کوٹ سے ہے۔  وہ لمبے عرصے سے صحافت سے وابستہ ہیں اور مسئلہ کشمیر سے جڑے حالات و واقعات پر گہری نظر رکھتے ہیں۔