تاریخ

بھگت سنگھ: بہروں کو سنانے کے لئے اونچا بولنا پڑتا ہے (دوسرا حصہ)

زین العابدین

پہلا حصہ

بھگت سنگھ کا کہنا تھا:

”سرمایہ دار اور استحصالی سماج کے طفیلی ہیں، جو اپنی خواہشات پر کروڑوں ضائع کرتے ہیں۔ یہ خوفناک عدم مساوات اور مواقع کی جبری تفاوت افراتفری کا باعث بنتی ہے۔ یہ کیفیت زیادہ دیر تک قائم نہیں رہ سکتی، اور ظاہر ہے کہ خرمستیوں میں مگن اس معاشرے کی موجودہ ترتیب آتش فشاں کے دہانے پر ہے۔تہذیب کی پوری عمارت اگر وقت پر نہ بچائی گئی تو گر جائے گی۔ اس لیے ایک بنیادی تبدیلی ضروری ہے اور یہ ان لوگوں کا فرض ہے جو سمجھتے ہیں کہ وہ سماج کو سوشلسٹ بنیادوں پر دوبارہ منظم کیا جائے۔ جب تک یہ کام نہیں کیا جاتا اور انسانوں کے ذریعے انسانوں کا اور قوموں کے ذریعے قوموں کا استحصال ختم نہیں کیا جاتا، ان مصائب اور قتل عام کو روکا نہیں جا سکتا جس سے آج انسانیت کو خطرہ لاحق ہے۔ اس کے بغیر جنگ کے خاتمے اور عالمگیر امن کے دور کے آغاز کی تمام باتیں کھلی منافقت ہے۔’انقلاب‘ سے ہمارا مطلب معاشرے کے ایک ایسے نظام کا حتمی قیام ہے جسے اس طرح کی ٹوٹ پھوٹ سے خطرہ نہ ہو۔ ایک عالمی سوشلسٹ فیڈریشن کو انسانیت کو سرمایہ داری کی غلامی اور سامراجی جنگوں کے مصائب سے نجات دلانی چاہیے۔“

فلم کے آخر میں پروڈکشن نوٹ ہمیں یاد دلاتے ہیں کہ بھگت سنگھ اور ان کے ساتھیوں نے ایک آزاد، جمہوری اور سیکولر ہندوستان کے لیے اپنی جانیں قربان کیں۔ ہمارے سامنے یہ سوال ہے کہ کیا بھگت سنگھ کی قربانی سے دھوکہ کیا گیا؟ ستم ظریفی یہ ہے کہ بھگت سنگھ کے آدرشوں کی فراہم کی گئی فہرست سے واضح طور پر غائب ایک لفظ اس غداری کی نشاندہی کر رہا ہے۔ وہ محض ایک سیکولر اور جمہوری ہندوستان کیلئے نہیں جئے اور مرے، بلکہ ایک ایسے ہندوستان کیلئے جو سوشلسٹ ہوگا، نہ کہ نہروئین یا فیبئن معنوں میں۔ یہی سے بھگت سنگھ کیلئے جنگ کی لکیریں کھینچی گئی تھیں۔

ہم بھگت سنگھ کی جانب سے کانگریس اور گاندھی کی مخالفت کو کیسے بیان کر سکتے ہیں؟ کیا وہ جمہوریت کیلئے جدوجہد نہیں کر رہے تھے؟ کیا کانگریس سیکولرازم کیلئے کام نہیں کر رہی تھی؟اور کون کہہ سکتا ہے کہ وہ آزادی نہیں چاہتے تھے۔ یہی وجہ ہے کہ سنتوشی کا بھگت سنگھ اور کانگریس/گاندھی کوآپس میں جوڑنا اس کی سیاسی برتری کھو دیتا ہے۔ ہم صرف یہ دیکھتے ہیں کہ ’آہنسا کا فرقہ‘ اور’تشدد کا فرقہ‘ سطحی طریقے سے ایک دوسرے کے خلاف ہیں۔ دونوں کے سماجی اور سیاسی موادپر ناکافی تحقیق کی گئی اور اس کے حوالہ جات بہت احتیاط سے بیان کئے گئے ہیں۔

اپنی ’پاک بازی‘ کے باوجود گاندھی ہندوستانی کمپراڈور بورژوازی کے نمائندہ تھے، جو خود کو نوآبادیاتی آقاؤں کی جگہ لینے کیلئے تیار کر رہے تھے۔ اس طبقے کے مفاد کیلئے یہ عمل پرامن اور غیر انقلابی بلکہ قانونی اور آئینی ہونا چاہیے، جس کی بنیاد سمجھوتے اور رعایت کی حکمت عملی پر ہو۔ گاندھی کی آہنسا نے اس طبقے کو جدوجہد کے محنت کش طبقات کے ہاتھ میں جانے اور انقلابی کردار اختیار کرنے کے خوف میں مبتلا کیا۔ بھگت سنگھ نے جدوجہد کے بورژوا کردار کا مقابلہ کرنے اور اسے تبدیل کرنے کی کوشش کی۔ انقلابی وژن نے جمہوریت اور سیکولرازم کے کانگریسی برانڈ اور بھگت سنگھ کے نظریات کے درمیان فرق قائم کر دیا، جو ہندوستانی طبقاتی ڈھانچے کو مکمل تبدیل کرنے کیلئے کھڑا تھا، جس کا سیدھا مطلب یہ تھا کہ آزادی کا عمل انقلابی ہونا چاہیے اور اسکی باگ ڈور عوام کے کے ہاتھ میں ہو۔

ایک حقیقت جو فلم میں نہیں بتائی گئی وہ یہ ہے کہ بھگت سنگھ کو خود احساس ہو گیا تھا کہ اس جدوجہد میں وہ کہاں غلطی کر گئے ہیں۔ جیل سے اسمگل کئے گئے ایک خط ’نوجوان سیاسی کارکنوں کے نام‘میں انہوں نے لکھا:

”بظاہر میں نے ایک دہشت گرد کی طرح کام کیا ہے، لیکن میں دہشت گرد نہیں ہوں۔ میں پوری طاقت کے ساتھ اعلان کرتا ہوں کہ میں دہشت گرد نہیں ہوں اور شاید اپنے انقلابی کیریئر کے آغازکے سوا کبھی تھا بھی نہیں۔ مجھے یقین ہے کہ ہم ان طریقے سے کچھ حاصل نہیں کر سکتے۔ یہ سوچ سمجھ کر میری رائے ہے کہ بم ہمارے مقصد کو پورا نہیں کر سکتے۔ یہ ہندوستان سوشلسٹ ریپبلکن ایسوسی ایشن کی تاریخ سے ثابت ہے۔ بم پھینکنا نہ صرف بیکار ہے بلکہ نقصان دہ بھی ہے۔ ان کا استعمال صرف بعض مواقع پر کرنا ہے۔ ہمارا بنیادی مقصد محنت کش عوام کو متحرک کرنا ہے۔ فوجی ونگ کو خصوصی مواقع پر استعمال کیلئے جنگ کا مواد اکٹھا کرنا چاہیے۔“

بھگت سنگھ نے دہشت گردی کو ترک کیا لیکن انقلابی تشدد نہیں۔

زینو (صفدر میر) نے ایک بار انقلابیوں کے لیے درپیش سوال کی اہمیت پر روشنی ڈالی:

”قومی آزادی کو برقرار رکھنے کے لیے یقینا ایک پاپولرمسلح فورس کی ضرورت ہے۔ عام طور پر یہ مسلح قوت آزادی کی مسلح جدوجہد سے ہی جنم لیتی ہے۔ بصورت دیگر جو ہم آزادی کے تناظر میں دیکھتے ہیں وہ قومی ریاست کی مسلح قوت ہے،جسے پرانے حکمرانوں نے تشکیل دیا اور منظم کیاہوتا ہے، جوسٹیٹس کو کی نمائندگی کرنے والے طبقات کے مسلح محافظ کے طور پر کام کرتی ہے۔ یہ قوت اپنے سابق آقاؤں یعنی سامراجیوں کے ساتھ ملی بھگت سے قومی اور بین الاقوامی سطح پر کلونیل ازم/ نیوکلونیل ازم کو دوام بخشنے کے لیے کام کرتی ہے۔“

دلچسپ بات یہ ہے کہ خود زینو کو بھگت سنگھ کی تنظیم کے ایک رکن نے جوانی میں مارکسزم کی طرف راغب کیا تھا۔

ہمیں عمل کے طور پر بہت سارے بھگت سنگھ دیکھنے کو ملتے ہیں لیکن نظریات کے حوالے سے بھگت سنگھ تقریباً غیر موجود ہیں۔ وہ سیاست اور تاریخ پر 1920 کی دہائی کے ہندوستان میں سب سے زیادہ پڑھے جانے والے افراد میں سے ایک تھے۔ ان کے بے شمار خطوط، مضامین اور تقاریر کام میں ایک زبردست دانش موجود ہے۔ ہندوستان میں فرقہ وارانہ مسئلہ پر ان کی تحریریں پیغمبرانہ طور پر درست ثابت ہوئی ہیں۔ انہوں نے کال کوٹھڑی میں بھی تخلیقی چنگاری نہیں کھوئی۔ ان کی ڈائری اور دیباچہ جو انہوں نے لالہ رام سرن داس کی ’انٹروڈکشن ٹو دی ڈریم لینڈ‘کے لئے لکھا ہے، اس کی گواہی دیتے ہیں۔

جیل میں لکھا گیا ایک مضمون’میں ملحد کیوں ہوں‘، اب ایک تاریخی دستاویز بن گیا ہے، جسے ہندوستانی بائیں بازو نے ہندو فاشزم کے خلاف اپنی جدوجہد میں استعمال کیا ہے۔ یہ افسوس کی بات ہے کہ فلم اس شخص کی شخصیت کے اس پہلو پر کوئی روشنی نہیں ڈالتی، جس کی موت پر معروف مورخ بپن چندر نے ان الفاظ میں افسوس کا اظہار کیا:”یہ ہمارے لوگوں کا سب سے بڑا المیہ ہے کہ دیوقامت دماغ نوآبادیاتی حکام نے اتنی جلدی بند کر دیا تھا۔“

فلم بھگت سنگھ کے الحاد کو محض ایک افیکٹ کے طور پردکھاتی ہے، لیکن یہاں بھی یہ معاملہ سیاق و سباق کے بغیر رہتا ہے۔ فلم میں بھگت سنگھ کے کچھ ساتھیوں پر بہت کم توجہ دی گئی ہے۔ ہم جانتے ہیں کہ کنول نات تیواری اور مہابیر سنگھ وہیں موجود ہوتے ہیں جب ہم جج کو ان کے خلاف فیصلہ سناتے ہوئے سنتے ہیں، لیکن ہمیں یہ کبھی نہیں معلوم ہوتا کہ ملزموں میں سے مہابیر یا تیواری کون ہے۔ جن لوگوں کو عمر قید کی سزا سنائی گئی انہوں نے اپنی جدوجہد کو ختم نہیں کیا۔ انڈمان جزائر میں قیدیوں کے حقوق کیلئے ایک اور بھوک ہڑتال میں مہابیر کی موت ہو گئی۔ ان سب نے اس مقصد کیلئے بے پناہ قربانیاں دیں، جو انہیں بھگت سنگھ سے جوڑتا تھا۔ ان کے ساتھ جو کچھ ہوا اس کا فلم کے آخر میں مختصر ذکر ضرور کیا جانا چاہیے تھا۔

اگرچہ’دی لیجنڈ‘ بھگت سنگھ کے ویژن کی شدت کو کم کرتی ہے، لیکن یہ نوجوان شہیدوں کی بہادری اور بے لوثی کو پیش کرنے میں کامیاب ہوجاتی ہے، جنہوں نے انسان کے ہاتھوں انسان کے استحصال کو ختم کرنے کی لڑائی میں 23 مارچ 1931 کی شام 7بجے لاہور سنٹرل جیل میں اپنی جانیں قربان کیں۔

(زین العابدین ’دی نیوز‘ کے ادارتی مدیر تھے۔ وہ2021 میں وفات پا گئے۔ ان کا شمار اپنے وقت کے اہم ترین مارکسی دانشوروں میں کیا جا سکتا ہے۔ انہوں نے بھگت سنگھ پر طویل مضمون لکھا جو دی نیوز میں قسط وار شائع ہوا۔ اس کا دوسراحصہ یہاں پیش کیا جا رہا ہے۔ اس کا مقصد بھگت سنگھ کو خراج تحسین پیش کرنے کے علاوہ زین العابدین کی یاد زندہ رکھنا بھی ہے۔ ہماری کوشش ہو گی کہ ہم اپنے مرحوم ساتھی زین العابدین کی مزید تحریریں بھی اردو میں ترجمہ کریں)۔

Roznama Jeddojehad
+ posts