خبریں/تبصرے

اردگان نے فوجی دستے لیبیا روانہ کر دیے: بن غازی میں ترکی مخالف مظاہرے

عدنان فاروق

اتوار کے روز سی این این (ترک)سے بات کرتے ہوئے صدر رجب طیب اردگان نے بتایا کہ ترک فوجی دستے لیبیا روانہ کر دیے گئے ہیں۔ یہ دستے دارلحکومت تریپولی میں اقوام ِمتحدہ کی تسلیم شدہ حکومت (جی این اے یعنی گرینڈ نیشنل اکارڈ) کا دفاع کریں گے۔ اس سے قبل 2 جنوری کو ترک پارلیمان نے لیبیا میں فوجی دستوں کی تعیناتی کی منظوری دی تھی۔

یاد رہے جی این اے کو جنرل خلیفہ ہفتر کی لیبین نیشنل آرمی (ایل این اے) نے تریپولی تک محدود کر دیا ہے۔ ایل این اے کا مرکز تبروک ہے اور اسے ملک کے مشرقی حصے کا کنٹرول حاصل ہے۔ ایل این اے نے اپریل میں تریپولی کا محاصرہ شروع کیا جس کے بعد سے لیبیا میں خانہ جنگی مزید خونی شکل اختیار کر گئی ہے۔

جنرل خلیفہ ہفتر نے ترک دستوں کی تعیناتی کی مخالفت کی ہے اور لوگوں سے کہا ہے کہ وہ ترکی کی جانب سے لیبیا کو عثمانی سلطنت کا صوبہ بنانے کے خلاف جہاد کریں۔ ادھر، بن غازی میں تین ہزار افراد نے ترک افواج کی تعیناتی کے خلاف مظاہرہ بھی کیا ہے۔

جی این اے اور ایل این اے کو مختلف ممالک مدد دے رہے ہیں۔ جی این اے کی حمایت اور عملی فوجی مدد اٹلی، قطر اور ترکی کی جانب سے کی جا رہی ہے۔ ایل این اے کو متحدہ عرب امارات، مصر، فرانس اور روس کی مدد حاصل ہے۔

عدنان فاروق ایک صحافی اور ہیومن رائٹس ایکٹیوسٹ ہیں۔