پاکستان

عورت مارچ خلیل الرحمٰن قمر والی گھٹیا سوچ کے خلاف ہمارا جواب ہے

فاروق طارق

”عورت مارچ“ رجعتی عناصر کے لئے ایک ڈراؤنا خواب بن کر ان کی زندگی کو تنگ کر رہا ہے۔ عورتوں کی جانب سے مذہب کے نام پر بنائی گئی زنجیروں سے بندھی مضبوط متعصبانہ رسموں کو توڑنے کی جو ہوا چلی ہے وہ اب رکنے والی نہیں ہے۔ ہر بڑے شہر میں عورت مارچ ہو رہے ہیں۔ پاکستان میں بھی عورتوں کا عالمی دن عورتوں کی زنجیریں توڑنے کا دن بن کر ابھر رہا ہے۔ آٹھ مارچ عورتوں کی حقیقی جاگرتی کا دن تھا، ہے اور رہے گا۔

اس کے جواب میں رجعتی عناصر کی جانب سے عورتوں کے عالمی دن کے موقع پر ہونے والے ”عورت مارچ“ کے خلاف زبردست حملے جاری ہیں۔ عورتوں کے عالمی دن کے موقع پر ہونے والے ”عورت مارچ“ کا دفاع ہر سوشلسٹ کا بنیادی فرض ہے اور اسے ہر صورت اس میں حصہ لینا چاہئے۔

جماعت اسلامی جو کبھی 8 مارچ (عورتوں کا عالمی دن) اور یوم مئی (محنت کشوں کا عالمی دن) کی نظریاتی مخالف تھی، اب مختلف شکلوں میں ان دونوں موقعوں پر مخالفانہ مارچ منظم کرتی ہے۔ اور تو اور ویلنٹائنز ڈے پر یوم حیا کا انعقاد بھی کرنے لگی ہے۔ اس دفعہ خاص طور پر 8 مارچ کو جماعت اسلامی نے لاہور میں عورتوں کے مقبول ترین نعرے ”میرا جسم میری مرضی“ کے جواب میں ”میری زندگی اللہ کی مرضی“ کا نعرہ دیا ہے اور لاہور میں اس نعرے والے بینرز لگائے جا رہے ہیں۔

ملا حضرات عورت کو ہر صورت مذہب کی آڑ میں اپنا غلام بنائے رکھنے پر تلے ہوئے ہیں۔ ”میرا جسم میری مرضی“ کے نعرے نے مذہبی جنونیت کی چولیں ہلا دی ہیں اور مضبوط انداز میں ملا ازم کو چیلنج کیا ہے۔

عورتوں کے عورت مارچ سے گھبرا کر رجعتی سوچوں کے علمبردار خلیل الرحمان قمر نے ماروی سرمد کے ساتھ انتہائی غلیظ زبان استعمال کی ہے، اس کی ہم شدید مذمت کرتے ہیں۔ خلیل ا لرحمان قمر کی سوچ یہ ہے کہ عورت سے بد تمیزی سے بات کرنا، اس کو اپنے سے کمتر سمجھنا، عورت پر ہاتھ اٹھانا اوراس کو گالیاں دینا مرد کا حق ہے۔ عورت مارچ اس گھٹیا سوچ کے خلاف ہمارا جواب ہے۔

آئیے کھل کر”عورت مارچ“ کا ساتھ دیں اور اس میں شمولیت کے لئے سب کو موبلائز کریں۔

فارق طارق روزنامہ جدوجہد کی مجلس ادارت کے رکن ہیں۔ وہ پاکستان کسان رابطہ کمیٹی کے جنرل سیکرٹری ہیں اور طویل عرصے سے بائیں بازو کی سیاست میں سرگرمِ عمل ہیں۔