مارکسی تعلیم

[molongui_author_box]

کیا اجتماعی آزادی کے بغیر شخصی آزادی ممکن ہے؟

”سماج کی کوئی بھی شکل ہو انسان کے باہمی اقدامات کا نتیجہ ہے۔کیا لوگ سماج کی ایک یا دوسری شکل کا انتخاب کرنے میں آزاد ہیں؟ کسی طرح نہیں۔یہ بات کہنا زیادہ ضروری ہے کہ لوگ اپنی پیداواری طاقتوں کا انتخاب کرنے کے لیے آزاد نہیں ہیں کیوں کے ہر پیداواری طاقت ایک حاصل کی ہوئی طاقت ہوتی ہے جو پچھلی نسلوں کی سرگرمیوں کا پھل ہے۔اس طرح پیداواری طاقتیں انسان کی عملی قوت کا نتیجہ ہیں۔انسان کی سماجی تاریخ انسان کی انفردی بقا ء کی تاریخ کے سوا کچھ نہیں ہے خواہ وہ اس کا شعور رکھتے ہوں یا نہ۔“

لینن کی میراث کے 100 سال

21 جنوری 1924ء کو ولادیمیر لینن کی وفات کے بعد سو سال سے زائد کا عرصہ بیت چکا ہے۔ کارل مارکس کی طرح لینن کا شمار بھی ان لوگوں میں ہوتا ہے جن پر بہتان تراشی کے معاملے میں حکمران طبقات نے کبھی کوئی کسر نہیں چھوڑی۔ نہ صرف قدامت پرست بلکہ لبرل بھی اسے ایک خونی آمر اور اقتدار کے بھوکے غاصب کے طور پر پیش کرتے ہیں۔ جبکہ بائیں بازو کے بیشتر اصلاح پسند‘ حکمران طبقات کے یہ الزامات دہرانے کے ساتھ ساتھ لینن کو ایک ایسے بے صبرے مہم جو کے طور پر پیش کرتے ہیں جس نے اکتوبر 1917ء میں ریاستی اقتدار تک اپنی پارٹی کی رہنمائی کر کے انقلابِ روس کے نامیاتی عمل کو سبوتاژ کر دیا۔ ایسے میں بالشویک انقلاب کو بھی مزدوروں اور کسان سپاہیوں کی ایک عوامی (لیکن منظم) سرکشی کی بجائے ایک ’کُو‘ (اقتدار پر قبضے کی گروہی سازش) کے طور پر پیش کیا جاتا ہے۔ اگر کبھی اکتوبر کی سرکشی میں بڑے پیمانے کی عوامی حمایت اور عمل دخل کو تسلیم بھی کیا جاتا ہے تو اسے ایک ’’قبل از وقت‘‘ (پری میچور) اقدام قرار دیا جاتا ہے۔ یہ بھی کہا جاتا ہے کہ لینن کی پالیسیوں نے ہی آخر کار سٹالنزم کا راستہ ہموار کیا۔

بھوک، انسومنیا اور سوشلزم

انسومنیا اصل میں اس خوف کا نام ہے جو رات بھر سونے کے بعد بھی صبح آنکھ کھلتے ہی کسی خوف کی طرح حملہ آور ہوتا ہے کہ اگلی رات کو کیسے سوئیں گے؟ کیا سو بھی پائیں گے یا نہیں؟
انسومنیا اس بیماری کا نام ہے کہ شام ڈھلتے ہی نیند نہ آنے کا خوف انسان کو گھیر لے اور دل ڈوبنے لگے۔ بے چینی چیونٹیوں کی طرح کندھوں میں سر سرانے لگے۔
بعینیہ ہی بھوک محض بھوکے رہنے کا نام نہیں۔ بھوک اس خوف کا نام ہے کہ آج تو پیٹ بھر کر کھا لیا، کل روٹی نصیب ہو گی کہ نہیں۔بھوک کا احساس روزہ رکھ لینے سے نہیں ہو جاتا۔روزہ رکھنے والے کو معلوم ہوتا ہے کہ افطاری پر پیٹ بھر کھانا میسر ہو گا۔بھوک روٹی بارے بے یقینی کا نام ہے۔
میری نظر میں سوشلزم اس نظام کا نام ہے جو انسان سے ان کی نیند نہیں چھینتا اور انسان کو بھوک نامی خوف سے نجات دلا دیتا ہے۔

خوابوں سے متصادم زندگی

محنت کش مرد و زن کے لیے زندگی کی ذلتوں اور اذیتوں سے نجات اس وقت تک ممکن نہیں،جب تک وہ امیر بننے کی بجائے امارت اور غربت کی طبقاتی تفریق کے خاتمے کی جدوجہد کرتے ہوئے ایسے نظام کی بنیاد نہیں رکھتے ہیں،جہاں کوئی امیر اورکوئی غریب نہ ہو، جہاں رشتے مفادات کی بنیاد پر قائم نہ ہوں۔سوشلسٹ انقلاب کے بعد ہی مرد محنت کش محنت کی اذیت اور خواتین محنت کش گھریلو مشقت سے نجات حاصل کر سکتے ہیں۔

مارکس کے خطوط

جہاں تک میری ذات کا تعلق ہے، جدید معاشرے میں طبقوں کے وجود یا ان کے مابین جدوجہد بارے دریافت کرنے کا سہرا کسی صورت میرے سر نہیں باندھا جا سکتا۔ مجھ سے بہت پہلے بورژوا تاریخ دان اس طبقاتی جدوجہد کے تاریخی ارتقا جبکہ بورژوا معیشیت دان طبقوں کی معاشی بنت بارے بیان کر چکے تھے۔
میں نے جو نیا کیا وہ یہ ثابت کرنا تھا:
۱)کہ طبقوں کا وجود پیداوار میں ارتقا کے دوران مخصوص تاریخی مرحلے سے جڑا ہوتا ہے،
۲)کہ طبقاتی جدوجہد لازمی طور پر پرولتاری آمریت کا راستہ ہموار کرتی ہے،
۳) کہ یہ پرولتاری آمریت ہی تمام طبقوں کے خاتمے اور غیر طبقاتی سماج کے قیام کی جانب جانے کے لئے ایک عبوری مرحلہ ہے۔

فرانز مہرنگ: مارکس کا پہلا سوانح نگار، نطشے کا سوشلسٹ ناقد

کارل مارکس کے پہلے سوانح نگار فرانز مہرنگ تھے۔ وہ جرمنی میں سب سے زیادہ مقبول سوشلسٹ صحافیوں میں شمار ہوتے تھے اور جرمن سوشل ڈیموکریٹک پارٹی کے اہم رہنماؤں میں گنے جاتے تھے۔ انہوں نے جرمن سوش ڈیموکریٹک پارٹی کی تاریخ بھی لکھی۔ اس کے علاوہ بھی ان کا بے شمار تحریری کام موجود ہے۔

مارکس: ’سیاسی تحریک اور معاشی جدوجہد کا فرق‘

دوسری جانب، آٹھ گھنٹے کام وغیرہ کے لئے چلنے والی تحریک کو قانونی شکل دینا ایک سیاسی تحریک کے مترادف ہے۔ اس طرح سے علیحدہ علیحدہ معاشی جدوجہدوں کے بطن سے ہر جگہ ایک سیاسی تحریک جنم لیتی ہے،یعنی، طبقاتی تحریک پیدا ہوتی ہے،جس کا مقصد ہوتا ہے اپنے مفادات کو عمومی شکل میں لاگو کرنا، ایک ایسی شکل میں لاگو کرنا جو عمومی بھی ہو اور سماجی طور پر طاقت کی حامل بھی ہو۔

میں نے جو نیا کیا وہ یہ ثابت کرنا تھا کہ…

جہاں تک میری ذات کا تعلق ہے، جدید معاشرے میں طبقوں کے وجود یا ان کے مابین جدوجہد بارے دریافت کرنے کا سہرا کسی صورت میرے سر نہیں باندھا جا سکتا۔ مجھ سے بہت پہلے بورژوا تاریخ دان اس طبقاتی جدوجہد کے تاریخی ارتقا جبکہ بورژوا معیشیت دان طبقوں کی معاشی بنت بارے بیان کر چکے تھے۔

شہرت چاہئے نہ اتھارٹی: مارکس کا ایک خط

میں (بہ الفاظِ ہینے) ’ناراض نہیں‘،نہ ہی اینگلز غصے میں ہے۔ ہم دونوں شہرت بارے رتی برابر پروا نہیں کرتے۔اس کا مثلاََایک ثبوت یہ ہے کہ شخصیت پرستی سے بیزاری کی وجہ سے میں نے کبھی اجازت نہیں دی کہ انٹرنیشنل سے وابستگی کے دوران، مختلف ملکوں سے مجھے موصول ہونے والے تعریفی خطوں کی کبھی بھی تشہیر نہیں کی،نہ کبھی ایسے خطوں کا جواب دیا۔ ہاں اگر کبھی ایسا کیا بھی تو اس کا مقصد سرزنش کرنا تھا۔

ہمارے نظریئے کو مارکسزم کیوں کہتے ہیں؟

اس موقع پر مجھے ایک ذاتی وضاحت کا موقع دیجئے۔ حالیہ کچھ عرصے میں [مارکسی] نظرئے میں میری خدمات کا بار بار حوالہ دیا گیا ہے۔ اس لئے ضروری ہے اس نقطے کی وضاحت کر دی جائے۔

میں اس بات سے انکار نہیں کرتا کہ مارکس کے ساتھ چالیس سالہ رفاقت کے دوران بھی اور اس سے قبل بھی، میں نے اس نظرئے کی بنیاد رکھنے میں،بالخصوص اس کی تفصیلات کے حوالے سے،اپنے طور پر کچھ حصہ ڈالا۔

لیکن اس کے بنیادی اصول طے کرنے میں،بالخصوص معیشیت اور تاریخ کے زمرے میں،سب سے اہم یہ بات کہ اس نظرئے کے اساسی کلئے متعین کرنے میں مارکس کا بنیادی کردار تھا۔