مارکسی تعلیم

[molongui_author_box]

بھوک، انسومنیا اور سوشلزم

انسومنیا اصل میں اس خوف کا نام ہے جو رات بھر سونے کے بعد بھی صبح آنکھ کھلتے ہی کسی خوف کی طرح حملہ آور ہوتا ہے کہ اگلی رات کو کیسے سوئیں گے؟ کیا سو بھی پائیں گے یا نہیں؟
انسومنیا اس بیماری کا نام ہے کہ شام ڈھلتے ہی نیند نہ آنے کا خوف انسان کو گھیر لے اور دل ڈوبنے لگے۔ بے چینی چیونٹیوں کی طرح کندھوں میں سر سرانے لگے۔
بعینیہ ہی بھوک محض بھوکے رہنے کا نام نہیں۔ بھوک اس خوف کا نام ہے کہ آج تو پیٹ بھر کر کھا لیا، کل روٹی نصیب ہو گی کہ نہیں۔بھوک کا احساس روزہ رکھ لینے سے نہیں ہو جاتا۔روزہ رکھنے والے کو معلوم ہوتا ہے کہ افطاری پر پیٹ بھر کھانا میسر ہو گا۔بھوک روٹی بارے بے یقینی کا نام ہے۔
میری نظر میں سوشلزم اس نظام کا نام ہے جو انسان سے ان کی نیند نہیں چھینتا اور انسان کو بھوک نامی خوف سے نجات دلا دیتا ہے۔

خوابوں سے متصادم زندگی

محنت کش مرد و زن کے لیے زندگی کی ذلتوں اور اذیتوں سے نجات اس وقت تک ممکن نہیں،جب تک وہ امیر بننے کی بجائے امارت اور غربت کی طبقاتی تفریق کے خاتمے کی جدوجہد کرتے ہوئے ایسے نظام کی بنیاد نہیں رکھتے ہیں،جہاں کوئی امیر اورکوئی غریب نہ ہو، جہاں رشتے مفادات کی بنیاد پر قائم نہ ہوں۔سوشلسٹ انقلاب کے بعد ہی مرد محنت کش محنت کی اذیت اور خواتین محنت کش گھریلو مشقت سے نجات حاصل کر سکتے ہیں۔

مارکس کے خطوط

جہاں تک میری ذات کا تعلق ہے، جدید معاشرے میں طبقوں کے وجود یا ان کے مابین جدوجہد بارے دریافت کرنے کا سہرا کسی صورت میرے سر نہیں باندھا جا سکتا۔ مجھ سے بہت پہلے بورژوا تاریخ دان اس طبقاتی جدوجہد کے تاریخی ارتقا جبکہ بورژوا معیشیت دان طبقوں کی معاشی بنت بارے بیان کر چکے تھے۔
میں نے جو نیا کیا وہ یہ ثابت کرنا تھا:
۱)کہ طبقوں کا وجود پیداوار میں ارتقا کے دوران مخصوص تاریخی مرحلے سے جڑا ہوتا ہے،
۲)کہ طبقاتی جدوجہد لازمی طور پر پرولتاری آمریت کا راستہ ہموار کرتی ہے،
۳) کہ یہ پرولتاری آمریت ہی تمام طبقوں کے خاتمے اور غیر طبقاتی سماج کے قیام کی جانب جانے کے لئے ایک عبوری مرحلہ ہے۔

فرانز مہرنگ: مارکس کا پہلا سوانح نگار، نطشے کا سوشلسٹ ناقد

کارل مارکس کے پہلے سوانح نگار فرانز مہرنگ تھے۔ وہ جرمنی میں سب سے زیادہ مقبول سوشلسٹ صحافیوں میں شمار ہوتے تھے اور جرمن سوشل ڈیموکریٹک پارٹی کے اہم رہنماؤں میں گنے جاتے تھے۔ انہوں نے جرمن سوش ڈیموکریٹک پارٹی کی تاریخ بھی لکھی۔ اس کے علاوہ بھی ان کا بے شمار تحریری کام موجود ہے۔

مارکس: ’سیاسی تحریک اور معاشی جدوجہد کا فرق‘

دوسری جانب، آٹھ گھنٹے کام وغیرہ کے لئے چلنے والی تحریک کو قانونی شکل دینا ایک سیاسی تحریک کے مترادف ہے۔ اس طرح سے علیحدہ علیحدہ معاشی جدوجہدوں کے بطن سے ہر جگہ ایک سیاسی تحریک جنم لیتی ہے،یعنی، طبقاتی تحریک پیدا ہوتی ہے،جس کا مقصد ہوتا ہے اپنے مفادات کو عمومی شکل میں لاگو کرنا، ایک ایسی شکل میں لاگو کرنا جو عمومی بھی ہو اور سماجی طور پر طاقت کی حامل بھی ہو۔

میں نے جو نیا کیا وہ یہ ثابت کرنا تھا کہ…

جہاں تک میری ذات کا تعلق ہے، جدید معاشرے میں طبقوں کے وجود یا ان کے مابین جدوجہد بارے دریافت کرنے کا سہرا کسی صورت میرے سر نہیں باندھا جا سکتا۔ مجھ سے بہت پہلے بورژوا تاریخ دان اس طبقاتی جدوجہد کے تاریخی ارتقا جبکہ بورژوا معیشیت دان طبقوں کی معاشی بنت بارے بیان کر چکے تھے۔

شہرت چاہئے نہ اتھارٹی: مارکس کا ایک خط

میں (بہ الفاظِ ہینے) ’ناراض نہیں‘،نہ ہی اینگلز غصے میں ہے۔ ہم دونوں شہرت بارے رتی برابر پروا نہیں کرتے۔اس کا مثلاََایک ثبوت یہ ہے کہ شخصیت پرستی سے بیزاری کی وجہ سے میں نے کبھی اجازت نہیں دی کہ انٹرنیشنل سے وابستگی کے دوران، مختلف ملکوں سے مجھے موصول ہونے والے تعریفی خطوں کی کبھی بھی تشہیر نہیں کی،نہ کبھی ایسے خطوں کا جواب دیا۔ ہاں اگر کبھی ایسا کیا بھی تو اس کا مقصد سرزنش کرنا تھا۔

ہمارے نظریئے کو مارکسزم کیوں کہتے ہیں؟

اس موقع پر مجھے ایک ذاتی وضاحت کا موقع دیجئے۔ حالیہ کچھ عرصے میں [مارکسی] نظرئے میں میری خدمات کا بار بار حوالہ دیا گیا ہے۔ اس لئے ضروری ہے اس نقطے کی وضاحت کر دی جائے۔

میں اس بات سے انکار نہیں کرتا کہ مارکس کے ساتھ چالیس سالہ رفاقت کے دوران بھی اور اس سے قبل بھی، میں نے اس نظرئے کی بنیاد رکھنے میں،بالخصوص اس کی تفصیلات کے حوالے سے،اپنے طور پر کچھ حصہ ڈالا۔

لیکن اس کے بنیادی اصول طے کرنے میں،بالخصوص معیشیت اور تاریخ کے زمرے میں،سب سے اہم یہ بات کہ اس نظرئے کے اساسی کلئے متعین کرنے میں مارکس کا بنیادی کردار تھا۔

مارکسزم اور مذہب

مارکسزم اور مذہب پر بنیادی بحث تین حوالوں سے کی جا سکتی ہے۔ اؤل، مارکسزم نے مذہب پر کیا تھیوری دی یا یہ کہ مذہب کو کیسے تھیورائز کیا گیا۔ دوم، بطور مارکسی پارٹی مختلف خطوں اور وقتوں میں مارکسی تنظیموں کا مذہب کی جانب کیا رویہ رہا۔ اسی پہلو کا تیسراحصہ یہ ہے کہ بعض ممالک جہاں مارکس وادی کہلانے والی پارٹیاں اقتدار میں آ گئیں، وہاں ان تنظیموں نے کیا طریقہ کار اپنایا (بہ الفاظ دیگر ’حزب اختلاف‘ اور بطور حزب اقتدار مارکسی تنظیموں کا رویہ مذہب کی بابت کیسا رہا)۔

مارکسزم اور مذہب (آخری حصہ)

اس مضمون کے آخری حصے میں اس بات پر بحث کریں گے کہ پاکستان میں بائیں بازو کا موقف کیا ہونا چاہئے؟
۱۔ اس سوال کا جواب عملی طور پر بایاں بازو دے چکا ہے: مذہب فرد کا نجی معاملہ ہے، نہ مذہب کا سیاسی استعمال کرو، نہ مذہب پر تنقید کرو۔
بائیں بازو کے مخالفین اکثر یہ ’تجزیہ‘ پیش کرتے ہیں کہ پاکستان میں بائیں بازو کی ’ناکامی‘ کی وجہ یہ ہے کہ یہ لوگ مذہب دشمن تھے۔ اس سے زیادہ شرمناک تجزیہ ممکن نہیں۔ اؤل تو یہ کہ بائیں بازو کو ناکام قرار دینے والے بھول جاتے ہیں کہ جب ملک میں پہلی بار عام انتخابات ہوئے تو رائے دہندگان نے ایسی جماعتوں (عوامی لیگ، پی پی پی، اے این پی) کو ووٹ دیا جو خود کو سوشلسٹ بنا کر پیش کر رہی تھیں (وہ سوشلسٹ تھیں یا نہیں، علیحدہ بحث ہے)۔ حالت یہ تھی کہ مسلم لیگ (دولتانہ) نے بھی اپنے انتخابی منشور میں سوشلزم کا وعدہ کر رکھا تھا۔ جب تک طلبہ یونین کے انتخابات ہوتے رہے، کراچی سے پشاور اور کوئٹہ سے راولپنڈی تک، سوشلسٹ طلبہ تنظیمیں ہر سال انتخابات جیتتی رہیں۔ ٹریڈ یونین یا وکیلوں صحافیوں اور ڈاکٹروں کی ملگ گیر تنظیموں یا ایسی دیگر پروفیشنل تنظیموں کے انتخابات اور ریفرنڈم بھی بایاں بازو بھاری اکثریت سے مسلسل بنیادوں پر جیت رہا تھا۔