Month: 2020 ستمبر

فاروق سلہریا روزنامہ جدوجہد کے شریک مدیر ہیں۔ گذشتہ پچیس سال سے شعبہ صحافت سے وابستہ ہیں۔ ماضی میں روزنامہ دی نیوز، دی نیشن، دی فرنٹئیر پوسٹ اور روزنامہ پاکستان میں کام کرنے کے علاوہ ہفت روزہ مزدور جدوجہد اور ویو پوائنٹ (آن لائن) کے مدیر بھی رہ چکے ہیں۔ اس وقت وہ بیکن ہاوس نیشنل یونیورسٹی میں اسسٹنٹ پروفیسر کے طور پر درس و تدریس سے وابستہ ہیں۔


بھولپن کا تجارتی قتل

ملک میں ثقافتی پیمانے اور ذوق اس قدر گر چکا ہے کہ لذت اور حظ کے پیمانے سوشل میڈیا پر ہونے والی حماقتیں بن چکی ہیں۔ لوگوں کا مذاق اس حد تک گر چکا کہ انہیں ایسی انٹرٹینمنٹ چاہئے جس پر دماغ نہ کھپانا پڑے یا جسے سمجھنے، لطف اٹھانے اور حظ اٹھانے کے لئے کسی تہذیبی تربیت کی ضرورت نہ ہو۔

فیض اور فن برائے انقلاب

فیض احمد فیض پر یہ الزام کہ انہوں نے اپنی شاعری کو محنت کشوں کی آواز بنا کر اسے کمزور کردیا، نیا نہیں ہے۔ دراصل یہ الزام طویل عرصے سے رائج اس نظرئیے کا عکاس ہے جسے بعض حلقوں میں بہت فوقیت دی جاتی ہے کہ آرٹ (اور اسے ہونا بھی چاہیے) ’مہذب‘ لوگوں کی میراث ہے (دولت مندوں کی خوش طبعی کی لئے)۔