Day: نومبر 3، 2022

فاروق سلہریا روزنامہ جدوجہد کے شریک مدیر ہیں۔ گذشتہ پچیس سال سے شعبہ صحافت سے وابستہ ہیں۔ ماضی میں روزنامہ دی نیوز، دی نیشن، دی فرنٹئیر پوسٹ اور روزنامہ پاکستان میں کام کرنے کے علاوہ ہفت روزہ مزدور جدوجہد اور ویو پوائنٹ (آن لائن) کے مدیر بھی رہ چکے ہیں۔ اس وقت وہ بیکن ہاوس نیشنل یونیورسٹی میں اسسٹنٹ پروفیسر کے طور پر درس و تدریس سے وابستہ ہیں۔


عمران خان پر حملہ: عمران کا جوابی حملہ

عمران خان کی ترجمانی کرتے ہوئے اسد عمر نے اس حملے کا الزام شہباز شریف، رانا ثنا اللہ اور ’میجرجنرل فیصل نصیر‘ پر لگایا۔ بہ الفاظ دیگر عمران خان نے کھل پر فوج پر الزام لگایا ہے۔ اگر ڈی جی آئی ایس آئی جنرل ندیم انجم اور ڈی جی آئی ایس پی آر جنرل بابر افتخار کی پریس کانفرنس پاکستان تحریک انصاف کو چتاؤنی تھی تو عمران خان کا ایک میجر جنرل پر قاتلانہ حملے کا الزام لگانا جوابی حملہ ہے۔ گویا عمران خان نے بھی کھل کر جنگ کا ا علان کر دیا ہے۔

’جدوجہد بینیفٹ ڈنڑ‘: روزنامہ جدوجہد کی ترویج تیز کرنے کا عزم

”یہ ایک سوشلسٹ، فیمن اسٹ اور ماحولیات دوست اخبار ہے جس کا ایک اہم فوکس عالمی حالات و واقعات کی کوریج بھی ہے۔ انہوں نے کہا کہ جنگ یوکرین سے لے کر ایران کے موجودہ انقلاب تک، پاکستان کا سرمایہ دار پریس خاموش ہے لیکن روزنامہ جدوجہد کے قارئین تک ان اہم عالمی واقعات کی خبریں جس طرح، محدود وسائل کے باوجود، روزنامہ جدوجہد پہنچا رہا ہے وہ ایک اہم کامیابی ہے۔“ انہوں نے کہا کہ ”روزنامہ جدوجہد ابھی ایک محدود آڈینس تک پہنچ رہا ہے مگر بائیں بازو کے لئے یہ فخر کی بات ہے کہ اس ملک میں بائیں بازو کا ایک اخبار روز شائع ہوتا ہے۔“

شہباز شریف کا کسان پیکیج کسانوں سے دھوکا ہے

ضرورت تھی حقیقی زرعی اصلاحات کے اعلان کی۔ بے زمین کسانوں اور ہاریوں کے لئے زمین، جاگیرداروں کی زمین ضبط کر کے مزارعوں اور بے زمین کسانوں میں تقسیم۔ پائیدار قدرتی نظام کاشتکاری کے اصولوں کو ریاستی سطح پر اختیار کرتے ہوئے نئی زرعی ترقی کے لئے بنیادیں ہموار کرنا۔ ہم اس کسان پیکیج کے زیادہ تر حصے کو رد کرتے ہیں اور روایتی کاشتکاری سے علیحدہ ہونے کے اقدامات اٹھانے کا مطالبہ کرتے ہیں۔