پاکستان

فرسٹ جنریشن وارفیئر

عدنان فاروق

سوشل میڈیا پر ان دنوں ضیا الحق کی امریکی خاتون جواین ہیرنگ کے ساتھ مندجہ ذیل تصویر شیئر کی جا رہی ہے۔ کچھ سال پہلے جب ہالی وڈ فلم چارلی ولسنز وار ریلیز ہوئی تھی تو بھی اس تصویر کا چرچا ہوا تھا کیونکہ ضیا الحق اور جو این ہیرنگ اس فلم میں اہم کردار بن کر ابھرتے ہیں۔


معروف پاکستانی ناول نگا ر محمد حنیف نے اپنے شہرہ آفاق ناول ”پھٹتے آموں کا کیس‘‘ میں اس خاتون کا دلچسپ خاکہ پیش کیا ہے۔

جنرل ضیا کی تصویر شیئر کرنا مگر جنرل ایوب اور کرسٹین کیلر کا ذکر نہ کرنا در اصل تاریخ کے ساتھ نا انصافی کرنے والی بات ہے۔ دراصل پہلی بار اگر کوئی غیر ملکی سفید فام خاتون پاکستانی سیاست میں اہم کردار بن کر ابھریں تو وہ برطانوی ماڈل کرسٹین کیلر تھیں جن کا انتقال کچھ عرصہ قبل ہوا۔

کرسٹین کیلر کے بارے میں جانکاری مجھے پہلی بار طارق علی کی سوانح حیات ’دی اسٹریٹ فائٹنگ ائیرز‘ سے ملی۔ طارق علی لکھتے ہیں کہ جب ساٹھ کی دہائی میں وہ برطانیہ پہنچے تو انہیں اچھی طرح معلوم تھا کہ کچھ سیکس اسکینڈلز کی وجہ سے ٹوری پارٹی کافی غیر مقبول ہے۔ ان معلومات کی ایک وجہ یہ بھی تھی کہ اسکینڈلز کا ایک اہم کردار کرسٹین کیلر تھیں جن کے ساتھ فیلڈ مارشل نے سوئمنگ کی تھی۔ ہلکی سی تفصیلات مندجہ ذیل اخباری ٹکڑے میں دستیاب ہیں:

طارق علی کا کہنا ہے کہ اس سکینڈل کی وجہ سے ایوب آمریت کا خاتمہ نہیں ہوا۔ اپنے مخصوص طنزیہ انداز میں وہ لکھتے ہیں کہ الٹا ایوب خان کی پاکستان میں مقبولیت بڑھ گئی کیونکہ کچھ لوگوں کا خیال تھا کہ ایوب خان اپنی حرکتوں میں برطانوی حکمرانوں کے ہم پلہ ہیں۔

طارق علی کی کتاب سے متعلقہ حصے کا عکس ذیل میں پیش ہے:

Adnan Farooq

عدنان فاروق ایک صحافی اور ہیومن رائٹس ایکٹیوسٹ ہیں۔