خبریں/تبصرے

ٹڈی دل کے بچوں اور انڈوں کو فوری تلف کیا جائے: پاکستان کسان رابطہ کمیٹی

لاہور (جدوجہد رپورٹ/پاکستان کسان رابطہ کمیٹی) ٹڈی دل کے بچوں اور انڈوں کو فوری تلف کیا جائے، جنگلات اور جنگلی حیات ختم کرنے سے ٹڈی دل پر قدرتی طور پر قابو نہ پایا جا سکا۔ حکومت کاغذوں میں دعوؤں کی بجائے عملی اقدامات کرے؛ پاکستان کسان رابطہ کمیٹی۔

پاکستان کسان رابطہ کمیٹی کے دوسرے آن لائن اجلاس سے خطاب کرتے ہوئے کسان راہنماؤں نے کہا کہ ٹڈی دل کے گزشتہ حملے نے لاکھوں ایکڑ اراضی پر کھڑی فصلوں کو تباہ کردیا اور حکومت تماشائی بنی رہی اور کاشتکاروں کا اربوں کا نقصان ہو گیا۔

اجلاس کی صدارت صائمہ ضیانے کی۔ کسان راہنماؤں نے کہا کہ اب جو انڈے ٹڈی دل دے گئی تھی اس میں سے بھی بچے نکلنا شروع ہوگئے ہیں اور تباہی کا وہی منظر انکی آنکھوں میں دوبارہ گردش کر رہا ہے اور حکومتی کارگردگی جوں کی توں ہے جو انتہائی قابل تشویش اور قابل مزمت ہے۔ ان انڈوں اور بچوں کی تلافی کے فوری اقدامات کئے جائیں۔

اجلاس میں خیبر پختونخوا، بلوچستان، سندھ، گلگت بلتستان اور پنجاب سے تعلق رکھنے والی 30 کسان تنظیموں کے رہنماؤں نے شرکت کی۔ اجلاس میں کووڈ 19 اور ٹڈی دل کے حملوں سے چھوٹے زمینداروں اور کسانوں کو پہنچنے والے نقصانات کا جائزہ لیا گیا اور مطالبہ کیا گیا کہ حکومت ان نقصانات کا جائزہ لینے اور اس کی تلافی کرنے کے لئے فوری اقدامات کرے۔

کسان راہنما رشید احمد ڈوگر نے اجلاس سے خطاب کرتے ہوئے ٹڈی دل کو روکنے میں ریاستی نااہلی کو باعث تشویش قرار دیا اور کہا اسکے منڈلاتے ہوئے خطرات پر حکام کا آنکھیں بند کرلینا قابل مزمت ہے۔ جبکہ اس سال زراعت کیلئے نہ ہونے کے برابر بجٹ مختص کرنا کاشتکاروں کے زخموں پر نمک چھڑکنے کے مترادف ہے۔

خیبر پختونخواہ سے کسان رہنما گلزار خان نے کہا کہ کسانوں کے نام پر اربوں روپے کی سبسڈی کی رقم صنعت کاروں میں بانٹ دی گئی اور اب اس پر تشویش یہ ہے کہ کھاد منڈیوں سے ہی غائب ہے اور کسان شدید دشواریوں کا شکار ہیں۔ انکا یہ بھی کہنا تھا کہ آٹا اور چینی ہی کی طرح ہم سب کیلئے یہ واضح ہے کہ کھاد بھی انہی اربوں کے مالک صنعت کاروں کے گوداموں ہی سے ملے گی۔

اجلاس سے خطاب کرتے ہوئے بھکر سے تعلق رکھنے والے کسان راہنما محمد ریاض نےکہا کہ ٹڈی دل نے ان کی فصلوں کو تباہ کیا اب وہاں انڈوں سے بچے نظر آ رہے ہیں مگر حکومت خاموش تماشائی بنی ہوئی ہے۔ اس کا سدباب کرنے کی فوری ضرورت ہے۔

کسان راہنما ملک نصیر احمد کا کہنا تھا کہ ٹڈی دل کے اس پیمانے پر پھیلاؤ اور اثرات کی وجہ ہی یہ ہے کہ ہم نے اپنے جنگلات اور جنگلی حیات ختم کردی ہے۔ اگر پرندوں کی بھرمار ہوتی تو شاید ٹڈی دل پر قدرتی طور پر ہی قابو پالیا جاتا مگر ہم نے جنگلات ختم کر کے اور کاشتکاری میں پیسٹیسائیڈ جیسے زہروں کو ملا کر پرندوں کا خاتمہ کردیا ہے۔

کراچی سے ماہی گیر رہنما سعید بلوچ کا کہنا تھا کہ جون اور جولائی کے دو ماہ مچھلی کا افزائشی موسم ہوتا ہے اور اس دوران ماہی گیروں کی زندگی بہت مشکل ہوجاتی ہے جبکہ اس بار تو اس سے دو ماہ پہلے ہی سے لاک ڈاؤن کے باعث ماہی گیروں کے روزگار بند ہیں سو یہ وقت ان پر قیامت سے کم نہیں۔ انہوں نے صنعتی ماہی گیری کی شدید الفاظ میں مزمت کی کہ جس کے باعث سمندری حیات کو ناقابل تلافی نقصان ہوا ہے اور مٹھی بھر سرمایہ داروں کا منافع لاکھوں ماہی گیروں کے روزگار اور بقا پر سبقت لے گیا ہے۔

ہنزہ سے شریک رحیم خان کا کہنا تھا کہ گلگت بلتستان کی معیشت کا انحصار سیاحت اور یہاں پیدا ہونے والی اجناس کی جنوبی پاکستان کی منڈیوں میں فروخت پر ہے۔ لاک ڈاؤن کے باعث یہ دونوں ذرائع ہی مکمل طور پر رک چکے ہیں اور عوام الناس شدید طرح کی دشواریوں کا شکار ہیں۔ اس کے علاوہ موسمیاتی تبدیلی ایک مستقل وبا کی شکل اختیار کرچکی ہے جس سے ہر سال شدید مالی و جانی نقصان اٹھانا پڑ رہا ہے۔

سندھ سے شریک ہاری رہنما یونس راہو کا کہنا تھا کہ اس غیر یقینی صورتحال میں سندھ کا محنت کش طبقہ جس انداز سے متاثر ہوا ہے اسے بیان کرنا مشکل ہے۔ حالات اس نہج پر پہنچ چکے ہیں کہ کئی کسان عورتوں، ہاریوں اور مزدوروں نے گزشتہ چند دنوں میں خودکشیاں کیں ہیں اور اس سب کو برداشت کرنا ہر گزرتے دن کیساتھ ناممکن ہوتا جارہا ہے۔

کسان راہنماؤں کا کہنا تھا کہ حکمرانوں کو اپنی آسائشوں اور محلوں سے باہر نکل کر دیکھنا ہوگا کہ اس ملک کا کسان اور عام آدمی کن حالات کا شکار ہے اور ان مسائل کا فوری طور پر سدباب کرنا ہوگا اس سے پہلے کہ یہ غم و غصہ ایک سیلابی ریلے کی شکل اختیار کرلے اور انکی اس شیشے کی بنائے ہوئی مصنوعی دنیا کو بہا لے جائے۔

اجلاس سے خطاب کرنے والوں میں میاں آصف شریف، فاروق طارق، ڈیوڈ زاہد، عزیز بلوچ، رفعت مقصود، عبدالرزاق، محسن رائے، ہاشم بن راشد، تجمل حسین گجر اور دیگر شامل تھے۔