خبریں/تبصرے

ہارون رشید کی بہتان تراشی کے خلاف قانونی چارہ جوئی کریں گے: عمار علی جان

لاہور (جدوجہد رپورٹ) گذشتہ روز چینل 92 پر اپنے پروگرام میں معروف تجزیہ نگار ہارون رشید نے پروفیسر پرویز ہود بھائی اور ڈاکٹر عمار علی جان کی ایف سی کالج سے برطرفی پر تبصرہ کرتے ہوئے، ان کی برطرفی کا دفاع کیا اور کہا کہ پروفیسر ہود بھائی امریکی سفارت خانے کے ملازم ہیں جبکہ ڈاکٹر عمار علی جان کو انہوں نے پی ٹی ایم، را، سی آئی اے اور افغان خفیہ ایجنسی این ڈی ایس کا ایجنٹ قرار دے دیا۔

اس کے جواب میں ڈاکٹر عمار علی جان نے گذشتہ روز اپنی فیس بک وال پر مندرجہ ذیل بیان جاری کیا (اردو ترجمہ):

”ہارون رشید صاحب نے دعویٰ کیا ہے کہ پروفیسر ہود بھائی امریکی سفارت خانے کے ملازم ہیں جبکہ میں پی ٹی ایم، سی آئی اے اور این ڈی ایس کے لئے کام کرتا ہوں۔ ہارون رشید کا ذہنی خبط ملاحظہ فرمائیے! میں دنیا کی اتنی طاقتور ایجنسیوں کے لئے کام کر رہا ہوں مگر اس کے باوجود ایف سی کالج میں اپنی نوکری تک نہیں بچا سکا۔

انسان ہارون رشید کی باتوں کو درخور اعتنا نہ سمجھے مگر مصیبت یہ ہے کہ یہی سازشی سوچ ان حلقوں میں بھی پائی جاتی ہے جن کے ہاتھ میں یہاں کی باگ ڈور ہے۔ ان کے مطابق سوچنے والا ہر شخص غدار ہے جو کسی مبینہ دشمن کے ہاتھوں میں کھیل رہا ہے۔ اس کا نتیجہ یہ نکلے گا کہ ملک میں صرف ایسے کند ذہن لوگ رہ جائیں گے جو ایک ناکام نظام کے آگے ہر وقت سر نگوں رہیں گے۔

ہم ہارون رشید صاحب کی بہتان تراشی کے خلاف قانونی چارہ جوئی کریں گے۔ ان بزدل ’تجزیہ نگاروں‘ کو سبق سکھانے کا وقت آ چکا ہے تا کہ یہ آئندہ بہتان تراشی اور بلیک میلنگ کی مدد سے دوسروں کی زندگیاں تباہ کرنا بند کر دیں “۔