خبریں/تبصرے

’جنگ ٹلتی رہے تو اچھا ہے‘: 1 ملین جاپانی سپاہی 75 سال سے لاپتہ

لاہور (جدوجہد رپورٹ) دوسری عالمی جنگ کو ختم ہوئے 75 سال بیت گئے لیکن بیرونی محاذ پر جانے والے ایک ملین (دس لاکھ) جاپانی سپاہیوں کا آج بھی کوئی سراغ موجود نہیں۔

ہفتے کے روز پیسیفک جنگ کے خاتمے کی سالگرہ ہے۔ اس موقع پر ان لاپتہ جاپانیوں بارے ایک مرتبہ پھر بات ہو رہی ہے جو محاذ جنگ پر بھیجے گئے مگر لوٹ کر نہیں آئے۔

بیسویں صدی کے شروع میں جاپان نے جن جنگوں میں حصہ لیا ان کے نتیجے میں 24 لاکھ جاپانی سپاہی بیرونی محاذ پر مارے گئے۔ ان میں سے دس لاکھ بارے کچھ پتہ نہیں چلا کہ وہ کب کہاں کیسے مارے گئے۔ خیال یہ کیا جاتا ہے کہ ان لاپتہ سپاہیوں میں سے بھی آدھوں کی تلاش نا ممکن ہے کیونکہ وہ سمندر برد ہو گئے ہوں گے یا ایسی جگہوں پر موت کا شکار ہوئے ہوں گے کہ اب پتہ لگانا ہی ممکن نہ ہو۔

پچاس کی دہائی میں جاپان کی حکومت نے اپنے لاپتہ سپاہیوں کی لاشیں تلاش کرنے کا کام شروع کیا مگر اسے روکنا پڑا کیونکہ بہت سے ممالک جو جاپانی فوج کے ظلم و بربریت کا شکار ہوئے، وہ تعاون کرنے پر تیار نہ تھے۔ یہ کام روکنا پڑا مگر اندرونی دباو پر ساٹھ کی دہائی میں یہ کام دوبارہ شروع ہوا۔

2016ء میں جاپانی پارلیمنٹ میں قانون منظور ہوا کہ 2024ء تک لاشوں کی تلاش کا کام جاری رکھا جائے۔ اس تلاش کے نتیجے میں اب تک تین لاکھ سے زائد سپاہیوں کی ڈی این اے کی مدد سے شناخت ہو سکی ہے۔