اداریہ

مولانا طارق جمیل سی سی پی او عمر شیخ کی مذہبی شکل ہیں

 اداریہ جدوجہد

موٹر وے سانحے کے بارے میں گذشتہ روز مولانا طارق جمیل کا ایک ویڈیو بیان سامنے آیا۔ حسب توقع مولانا نے سارا معاملہ اجتماعی بے حیائی اوراخلاقی گراوٹ کے ذمے ڈال کر دو نئی باتیں کیں۔ ایک تو انہوں نے کھل کر ’سر تن سے جدا‘ والی سزاوں کا مطالبہ کیا۔ دوسرا وہ مخلوط نظام تعلیم پر حملہ آور ہوئے۔

سوشل میڈیا پر ان کے ناقدین نے، بجا طور پر، انہیں یاد دلایا کہ مدارس میں تو مخلوط تعلیم نہیں پھر مدارس کیوں جنسی تشدد کا گڑھ بنے ہوئے ہیں۔ تجارتی میڈیا چونکہ سنجیدہ بحث سے خوفزدہ رہتا ہے اور سوشل میڈیا کی جمالیات کسی سنجیدہ بحث کی اجازت نہیں دیتی اس لئے مولانا کے اس بیان کا سطحی پن صحیح طور پر آشکار کرنا ضروری ہے۔

گو مولانا نے براہ راست عورتوں کوبے حیا قرار نہیں دیا۔ وہ ایک چالاک کھلاڑی ہیں۔ وہ ہمیشہ اجتماعی بے حیائی کا رونا روتے ہیں…مگر ہم سب جانتے ہیں کہ اس معاشرے میں بے حیائی کا بوجھ عورت پر ڈال دیا جاتا ہے۔ مرد جینز پہن لے تو خیر ہے، عورت کو اجازت نہیں۔ مرد سگریٹ پئے تو بری عادت۔ عورت سگریٹ پئے تو بری عورت۔ مرد کا معاشقہ اس کے ’مرد‘ ہونے کی نشانی ہے۔ عورت کسی کو دل میں بھی پسند کرنے لگے تو وہ اخلاق باختہ ٹہرتی ہے۔ اس موازنے کی ایک لمبی فہرست تیار کی جا سکتی ہے۔

اس لئے جب مولانا ’بے حیائی‘ کی بات کرتے ہیں تو نہ صرف وہ عورت کو ریپ کلچر کی جڑ قرار دیتے ہیں بلکہ سی سی پی او لاہور کی طرح یہ کہہ رہے ہوتے ہیں کہ عورت اگر بے حیا نہ ہوتی تو ریپ نہ ہوتا۔

دوم، مولانا کی ’بے حیائی‘ کی تعریف سرے سے غلط اور منافقانہ ہے۔ منافقانہ اس لئے کہ انہوں نے کبھی مدراس میں بچوں کے ساتھ ہونے والے زیادتی کے واقعات پر کبھی لب کشائی نہیں کی۔ غلط اس لئے کہ انہیں استحصال، طبقاتی جبر، منافع خوری، ریاستی جبر اور پدر شاہی فحش نظر نہیں آتے۔

سوم، عورتوں کو مورد الزام ٹہرا کر وہ مشکل سوالوں سے جان چھڑا لیتے ہیں۔ برصغیر کی جدید تاریخ میں دو مرتبہ بڑے پیمانے پر ریپ کو بطور جنگی ہتھیار استعمال کیا گیا۔ پہلے 1947ء میں۔ دوسری بار 1971ء میں۔ برصغیر ہی نہیں۔ دنیا بھر کی تاریخ میں جنگوں کے دوران ریپ بطور ہتھیار استعمال ہوتا آیا ہے۔ بوسنیا اور رو انڈا اس کی تازہ ترین مثالیں ہیں۔

کیا 1947ء یا 1971ء یا بوسنیا اور روانڈا میں بے حیائی کی وجہ سے ماس ریپ ہوئے تھے؟

مولانا تو بیان دیتے ہوئے یہ تک بھول گئے کہ جس وزیر اعظم کی وہ آگے پیچھے اور دائیں بائیں سے حفاظت چاہتے ہیں، وہ خود مخلوط تعلیم کی پیداوار ہیں۔

مولانا نے یہ وضاحت نہیں کی کہ کیا صرف تعلیم اداروں میں اختلاط بے حیائی ہے یا ہسپتالوں، دفتروں، کھیتوں اور فیکٹریوں میں بھی یہ بے حیائی تصور ہو گا؟

دلچسپ بات ہے جماعت اسلامی ایک دور میں مخلوط تعلیم کے خلاف مہم چلایا کرتی تھی۔ پھر ایک دن ایسا بھی آیا کہ قاضی حسین احمد کی صاحبزادی سمیت تمام مذہبی سیاسی جماعتوں کی خواتین مخلوط قومی اسمبلی اور مخلوط سینٹ میں بیٹھنے لگیں۔

کیا مولانا مذہبی جماعتوں کو یہ مشورہ دیں گے کہ وہ مخلوط سینٹ اور مخلوط قومی اسمبلی سے اپنی خواتین ارکان کو واپس بلا لیں؟

ویسے تو مولانا کو یہ اعلان بھی کر دینا چاہئے کہ جس کھیت میں کسان مرد اور عورت مخلوط محنت کریں گے، وہ اس کھیت کی گندم نہیں کھائیں گے چاہے بھوک سے ان کی جان چلی جائے۔

قصہ مختصر، ہماری نظر میں مولانا کا یہ بیان ان کی روایتی عورت دشمنی کا ایک اور اظہار ہے۔ انہیں اس بیان پر نہ صرف پاکستان کی عورتوں سے معافی مانگنی چاہئے بلکہ ایسے موضوعات پر بیان بازی سے پرہیز کرنا چاہئے جن کے بارے میں ان کا علم انتہائی محدود ہے۔