اداریہ

کوئٹہ جلسہ: سخت گیر تقریروں کا مقابلہ

اداریہ جدوجہد

گوجرانوالہ کے بعد کراچی میں پی ڈی ایم کا جلسہ موجودہ حکومت کے ناقدین کو شائد کچھ پھیکا سا لگا ہو۔ یہ کہ نواز شریف نے جلسے سے خطاب نہیں کیا، کچھ افواہوں کا باعث بھی بنا۔ ایسے میں توقع کی جا رہی تھی کہ شائد کوئٹہ کا جلسہ نہ صرف مزید پھیکاثابت ہو گا بلکہ شائد لوگوں کی بڑی تعداد بھی جلسے میں شامل نہ ہو۔ ’دی فرائیڈے ٹائمز‘ میں شائع ہونے والے ایک تجزئیے میں صحافی عدنان عامر نے اپنے تجزئیے میں نشاندہی کی تھی کہ مسلم لیگ اور نیشنل پارٹی نے تحریک انصاف حکومت سے قبل لگ بھگ پانچ سال حکومت کی مگر کوئی مسئلہ حل نہ کیا۔ اس لئے لوگ بڑی تعداد میں جلسے میں شرکت نہیں کریں گے۔

ایسا نہیں ہوا۔ گذشتہ روز پی ڈی ایم کا جلسہ شائد کوئٹہ شہر کی تاریخ کا سب سے بڑا جلسہ تھا۔ کوئٹہ میں ایک بڑا جلسہ ہونا ہی تھا کیونکہ بلوچستان کا مسئلہ اِس حکومت یا اُس حکومت تک محدود نہیں۔ بلوچستان میں لاپتہ افراد کا مسئلہ اس قدر گھمبیر ہے، ریاست سے بیگانگی اس قدر عام ہے اور مرکز سے شکایات اس قدر زیادہ ہیں کہ ایک بڑا جلسہ متوقع تھا کیونکہ بلوچستان کے پاس ایک موقع تھا کہ وہ مضافات سے نکل کر مین سٹریم بن جائے۔ ایسا ہی ہوا۔

مریم نواز شریف نے کھل کر لاپتہ افراد کی بات کی۔ حسیبہ قمبرانی، جن کے تین بھائی لاپتہ ہیں، کے ساتھ مریم نواز شریف کی بات چیت کا ویڈیو کلپ تا دمِ تحریر سوشل میڈیا پر وائرل ہے۔ مریم نے حسیبہ کا ذکر اپنی تقریر میں بھی کیا اور انہیں سٹیج پر بھی بلایا۔ لاپتہ بلوچ افراد کا ذکر کرنے پر لوگ خود لاپتہ ہو جاتے تھے لیکن کل لاپتہ افراد کا مقدمہ پنجاب کی قیادت لڑ رہی تھی۔

یہی نہیں۔ نواز شریف نے ایک مرتبہ پھر کھل کر فوجی قیادت کا نام لے کر ذکر کیا البتہ انہوں نے چالاکی کے ساتھ جرنیلوں اور سپاہیوں میں فرق کیا اور فوجی جوانوں اور افسروں سے اپیل کی کہ وہ آئین کی حفاظت بھی اسی طرح کریں جس طرح سرحدوں کی حفاظت کرتے ہیں۔

سخت ترین تقریر اختر مینگل کی تھی۔ اختر مینگل موجودہ وفاقی حکومت کے حامی اور اتحادی تھے۔ عمران خان کو اعتماد کا ووٹ دے کر اختر مینگل نے اپنے سیاسی کیرئیر کا ایک بڑا جوا کھیلا تھا۔ ان پر قوم پرست اور ترقی پسند حلقوں کی جانب سے کافی تنقید بھی ہوئی۔ غالباً اسی داغ کو دھونے کے لئے انہوں نے سب سے زیادہ سخت تقریر کی اور اس تقریر کے لئے انہوں نے کوئٹہ کا انتخاب کیا جو ایک قدرتی بات تھی۔

جلسے سے ایک روز قبل رکن قومی اسمبلی اور پی ٹی ایم کے رہنما محسن داوڑ کو کوئٹہ ائر پورٹ پر ہی گرفتار کر لیا گیا اور انہیں جلسے میں شرکت سے روکنے کے لئے صوبہ بدر کر دیا گیا۔

اگر حکومتی نقطہ نظر سے دیکھا جائے تو سراسیمگی کا شکار انتظامیہ کا ایک یہ بالکل غیر دانشمندانہ فیصلہ تھا۔ محسن داوڑ ایسی سخت باتیں نہ کہتے جو نواز شریف اور اختر مینگل نے کہیں۔ محسن داوڑ کی صوبہ بدری نے موجودہ حکومت کے غیر جمہوری تاثر کو مزید گہرا کیا۔

دریں اثنا، میڈیا پر تقریریں سنسر ہوتی رہیں مگر ملک بھر میں لوگوں نے سوشل میڈیا پر تقاریر سنیں، شیئر کیں اور تبصرے کئے۔ ایسا اَسی کی دہائی کے بعد پہلی دفعہ ہو رہا ہے کہ لوگ تقریروں کے متن میں دلچسپی لے رہے ہیں۔ یہ درست ہے کہ نوے کی دہائی کے آغاز میں، پھر مشرف دور میں، بعد ازاں تحریک انصاف کے جلسوں میں لوگ جلسہ گاہ میں آتے رہے لیکن قائدین کی تقاریر نعرے بازی تک محدود رہتیں۔ لوگ بھی کسی قائد کی تقریر میں دلچسپی نہیں رکھتے تھے۔

ایسا ایم آر ڈی کی تحریک کے دوران دیکھنے میں آیا تھا کہ ملک بھر کے شہری سیاسی قائدین کی تقریروں کے متن میں دلچسپی لیتے تھے۔ اب پھر سے ایسا ہو رہا ہے۔ یہ بدلی ہوئی سیاسی سوچ کا ایک اور اظہار ہے۔

پی ڈی ایم کی موجودہ جلسہ پالیسی کے دوران موجودہ حکومت کا سب سے بڑا امتحان پشاور میں ہونے والا جلسہ ہو گا کیونکہ خیبر پختونخواہ پی ٹی آئی کا گڑھ سمجھا جاتا رہا ہے۔ اگر پشاور میں بھی لوگ سڑکوں پر نکل آئے تو اس حکومت کے قدم لڑکھڑا جائیں گے۔

ادھر پی ڈی ایم کو بھی سوچنا ہو گا کہ 13 دسمبر کے بعد کیا ہو گا جب جلسہ پالیسی کا آخری مرحلہ لاہور میں طے ہو جائے گا؟