تاریخ

جب طوفان جھوم کے اٹھے!

عمران کامیانہ

”25 اکتوبر 1917ءکو کو سمولنی انسٹیٹیوٹ میں دنیا کی سب سے جمہوری پارلیمنٹ کا اجلاس شروع ہونا تھا۔ شاید یہ دنیا کی سب سے اہم پارلیمنٹ بھی تھی۔

”مصالحت پسند دانشوروں کے اثر و رو سوخ سے آزاد ہو کر مقامی سوویتوں (پنچایتوں) نے زیادہ تر مزدوروں اور سپاہیوں کو بھیجا تھا۔ اُن کی اکثریت عام لوگوں پر مشتمل تھی، جنہوں نے خود کو عمل میں منوایا تھا اور اپنے علاقوں کا دیرپا اعتماد حاصل کیا تھا۔ محاذ سے آنے والے کم و بیش سب کے سب عام سپاہی تھے، جو مندوبین کے طور پر آئے تھے۔ اُن کی اکثریت انقلاب کے ساتھ سیاسی زندگی گزارنے لگی تھی۔ اُنہیں آٹھ مہینوں کے تجربے نے بدل ڈالا تھا۔ وہ بہت تھوڑا جانتے تھے، لیکن بہت اچھی طرح سے جانتے تھے۔ کانگریس کی بیرونی صورت ہی اِس کی ترکیب کا پتا دے رہی تھی۔ سوویتوں کی پہلی کانگریس میں نظر آنے والے افسروں کی وردیوں کے امتیازی نشانات اور دانشوروں کی ٹائیاں اور چشمے اب کم و بیش مکمل طور پر غائب ہو گئے تھے۔ وردیوں سے چہروں تک، ہر جگہ سرمئی رنگ چھایا ہوا تھا۔ جنگ کے دوران سب کے کپڑے گھِس گئے تھے۔ شہر کے بہت سے مزدوروں نے سپاہیوں کے کوٹ حاصل کر لئے تھے۔ محاذ کے مورچوں کے مندوبین کی حالت بھی کچھ اتنی اچھی نہیں تھی: لمبے عرصے سے شیو نہیں کر پائے تھے، پھٹے پرانے برساتی کوٹوں میں ملبوس تھے، بکھرے ہوئے بالوںپر لمبی اونی ٹوپیاں (Papakhi) چڑھائے ہوئے تھے جن کے سوراخوں میں سے روئی باہر نکل آئی تھی۔ سخت موسم نے چہروں کا برا حال کر دیا تھا۔ بھاری ہاتھ چٹخ گئے تھے۔ انگلیاں تمباکو سے پیلی ہو چکی تھیں۔ بٹن ٹوٹے ہوئے تھے۔ پیٹیاں لٹک رہی تھیں۔ لمبے عرصے سے پالش نہ ہونے والے بوٹوں میں دراڑیں پڑ گئی تھیں اور زنگ لگ گیا تھا۔ عام لوگوں کی قوم نے پہلی بار کسی رنگ روغن کے بغیر اپنی کھری نمائندگی بھیجی تھی جو اُس کی حقیقی تصویر پیش کرتی تھی!

”کانگریس کے آغاز پر ووٹ ڈالنے کا حق رکھنے والے مندوبین کی تعداد 650 تھی: 390 کا تعلق بالشویک دھڑے سے تھا، جو سب کے سب پارٹی کے رکن تو نہیں تھے لیکن عوام کے حقیقی نمائندے تھے۔ عوام کے پاس بالشویک راستے کے سوا کوئی راستہ نہیں بچا تھا! شکوک و شبہات کے ساتھ آنے والے کئی مندوبین پیٹروگراڈ کے تپتے ہوئے ماحول میں تیزی سے پختہ ہو رہے تھے…“ (لیون ٹراٹسکی، انقلابِ روس کی تاریخ)

یہ روس کے مزدوروں، کسانوں اور سپاہیوں کے اُس اجلاس کا آنکھوں دیکھا حال ہے جسے اگلے چند گھنٹوں میں انقلابِ روس کے مقدر کا فیصلہ کر کے اسے آج تک کی انسانی تاریخ کا عظیم ترین انقلاب بنانا ہے۔ یوں یہ ایک تاریخ ساز اجلاس ہے۔ یخ بستہ روس پچھلے آٹھ مہینوں سے انقلابی بحران کی حدت کی زد میں ہے۔ فروری میں انہی محنت کشوں کے ہاتھوں کئی سو سال سے بدترین جبر کی علامت سمجھی جانے والی بادشاہت (زار شاہی) کا خاتمہ ہو چکا ہے۔ اس سرکشی کا آغاز کرنے والی روس کی محنت کش خواتین تھیں جو زیادہ تر محاذِ جنگ پہ لڑنے والے سپاہیوں کی بیویاں تھی اور جنہیں روٹی کی قلت نے بغاوت پر مجبور کر دیا تھا۔ اب پرانے روسی کیلنڈر کے مطابق اکتوبر کے مہینے کے آخری دن چل رہے ہیں جو جدید کیلنڈر کے مطابق نومبر کے مہینے کا پہلا عشرہ بنتا ہے۔ پچھلے آٹھ مہینوں میں روس میں بہت کچھ بدل گیا ہے۔ بائیں بازو کے اصلاح پسندوں اور حکمران طبقے کے لبرل نمائندوں کے مطابق اب انقلاب کو ختم ہو جانا چاہئے کیونکہ جس دیوہیکل بادشاہت کے خلاف یہ ابھرا تھا وہ ڈھے چکی ہے۔ اب ایک سرمایہ دارانہ جمہوریہ قائم ہونی چاہئے۔ لیکن اتنی بڑی تبدیلی کے باوجود شاید کچھ بھی نہیں بدلا ہے… عام لوگوں کے حالاتِ زندگی وہی ہیں۔ روس اب بھی اس عالمی سامراجی جنگ کا حصہ ہے جس میں اسے سرمایہ داروں کی ایما پر زار شاہی نے چار سال پہلے جھونک دیا تھا۔ جنگ کی بربادی پورے ملک میں سرایت کر چکی ہے۔ ہر طرف بھوک ہے۔ انفراسٹرکچر برباد ہو چکا ہے۔ محاذِ جنگ سے لاشوں کی ترسیل مسلسل جاری ہے۔ جنگ میں اعضا سے محروم ہو جانے والے سپاہی جابجا نظر آ رہے ہیں۔ فوج انہدام کے دہانے پہ کھڑی ہے۔ سب سے بڑھ کے طبقاتی جبر و استحصال نہ صرف جاری ہے بلکہ اور بھی شدید ہو گیا ہے۔

سرمایہ دار آج بھی کروڑوں محنت کشوں کی زندگیوں کی قیمت پہ جنگ سے منافع کما رہے ہیں۔ دہقان اور مزارع آج بھی زمیندار کے رحم و کرم پہ ہیں۔ پچھلے آٹھ مہینے میں انقلاب کئی طرح کے اتار چڑھاﺅ سے گزرا ہے۔ پے درپے کئی عبوری حکومتیں آئی ہیں۔ لیکن جن سلگتے مسائل سے تنگ آکر روس کے محنت کشوں نے زار شاہی کا دھڑن تختہ کیا تھا‘ ان میں سے کسی ایک کو بھی حل کرنے سے قاصر رہی ہیں۔ ہر گزرتے دن کے ساتھ واضح ہوتا جا رہا ہے کہ روس کا سرمایہ دار طبقہ اس انقلابی بحران کو حل کرنے کی صلاحیت سے تاریخی طور پہ محروم ہے۔ حکمران طبقے کے نمائندوں سے عوام کی امیدیں ایک ایک کر کے دم توڑ چکی ہیں۔ لیکن حل کیا ہے؟ صدیوں کی محرومی و ذلت اور چار سالہ سامراجی جنگ کی نہ ختم ہونے والی بربادی سے نجات کیونکر ممکن ہے؟ دائیں اور بائیں بازو کے درجنوں سیاسی رجحانات میں سے صرف ایک پارٹی ہے جو حل پیش کر رہی ہے۔ یہ ولادیمیر لینن کی بالشویک پارٹی ہے۔ اس پارٹی کا پروگرام، جو کچھ مہینے پہلے تک بالکل ناقابلِ عمل‘ بلکہ مضحکہ خیز معلوم ہوتا تھا، اب تیزی سے محنت کشوں میں مقبولیت حاصل کرتا جا رہا ہے۔ بالشویکوں کا خیال ہے کہ ملک کا اقتدار محنت کشوں کی ان پنچایتوں (سوویتوں) کو باضابطہ طور پر اپنے ہاتھ میں لینا ہو گا جو فروری کے بعد سے پورے ملک میں کھمبیوں کی طرح پھوٹ پڑی ہیں۔ بالشویکوں کا نعرہ ہے: ”سارا اقتدار سوویتوں کے پاس!“ لیکن کیا محنت کش طبقہ اقتدار پر قبضہ کرنے کے لئے تیار ہے؟ سوویتوں کے مذکورہ بالا اجلاس کو یہی فیصلہ آج کرنا ہے۔ یہ انسانی تاریخ کے اہم ترین فیصلوں میں سے ایک ہے۔

لیکن یہ اجلاس صرف اس حوالے سے انوکھا نہیں ہے کہ آج زرق برق لباسوں میں ملبوس ارب پتی سرمایہ داروں اور جاگیرداروں کی بجائے پھٹے پرانے کپڑوں میں ملبوس خستہ حال محنت کش ‘ سولہ کروڑ افراد کے ملک کے مقدر کا فیصلہ کرنے بیٹھے ہے۔ بلکہ ایک اور دلچسپ امر یہ ہے کہ اجلاس کے شور کو باہر جاری گولہ باری کی گھن گرج مسلسل چیر رہی ہے۔ یہ انقلابی سرکشی ہے جو پیٹروگراڈ سوویت کی ’عسکری انقلابی کمیٹی‘ کی رہنمائی میں پیٹروگراڈ کے طول و عرض میں جاری ہے۔ اس عسکری کمیٹی کی قیادت لیون ٹراٹسکی کر رہا ہے جو پیٹروگراڈ سوویت کا قائد بھی ہے۔ سرخ ملیشیا کے مسلح محنت کش اور سپاہی مختلف حکومتی مراکز اور محلات پر قبضہ کر رہے ہیں۔ ردِ انقلابی عبوری حکومت کی آخری پناہ گاہ ’سرما محل‘ (Winter Palace) پر گولہ باری بھی جاری ہے۔ تاریخ نے ایسا منظر شاید پہلے کبھی نہیں دیکھا ہو گا۔ ایک طرف محنت کشوں کے نمائندوں کے اجلاس کا ایجنڈا پڑھا جا رہا ہے۔ دوسری طرف سینکڑوں بندوقیں اور توپیں، جو آج محنت کشوں کے کنٹرول میں ہیں، اس ایجنڈے کی فوری منظوری بھی دے رہی ہیں۔ انقلابی قائدین اجلاس کے ہال اور عسکری انقلابی کمیٹی کے ہیڈ کوارٹر کے درمیان مسلسل بھاگ رہے ہیں۔ انہیں انقلابی سرکشی کو منظم بھی کرنا ہے اور ان اصلاح پسندوں کی تنقید کا جواب بھی دینا ہے جو اقتدار پر محنت کشوں کے قبضے کے سخت مخالف ہیں۔ انقلابِ روس اپنے فیصلہ کن مرحلے میں داخل ہو چکا ہے!

سمولنی انسٹیٹیوٹ، جہاں عسکری انقلابی کمیٹی کا ہیڈکوارٹر واقع ہے، کچھ عرصہ پہلے تک امیروں کی لڑکیوں کا سکول تھا جہاں شاہی اشرافیہ کی خواتین کو رقص اور مصوری وغیرہ سکھائی جاتی تھی۔ اب یہ عمارت انقلاب کے بجلی گھر کا منظر پیش کرتی ہے۔ ”لوگوں کا ایک سیلاب ملحقہ سڑکوں کی پگڈنڈیوں پر بہہ رہا ہے۔ داخلی اور خارجی دروازوں پر الاﺅ جل رہے ہیں۔ اُن کی ٹمٹماتی روشنی میں مسلح مزدور اور سپاہی بہت باریک بینی سے عمارت میں داخلے کے پاسوں کا معائنہ کر رہے ہیں۔ صحن میں کھڑی بہت سی بکتر بند گاڑیاں اپنے انجنوں کے ارتعاش سے کپکپا رہی ہیں۔ مشینیں ہوں یا انسان، کوئی بھی چیز رُکنا نہیں چاہتی ہے۔ ہر داخلی راستے پر مشین گنیں نصب ہیں، جن کے لئے گولیوں کی کوئی کمی نہیں ہے۔ لامحدود، نیم روشن، اداس راہداریوں میں قدموں کی آوازیں اور نعرے گونج رہے ہیں۔ آنے اور جانے والے کشادہ سیڑھیوں پر اوپر نیچے متحرک ہیں۔ زیادہ بے چین اور اہم افراد اِس انسانی لاوے کو چیرتے ہوئے اپنا راستہ بنا رہے ہیں۔ یہ سمولنی کے مزدور، قاصد اور کمیسار (کسی شعبے کے ذمہ دار افراد) ہیں جو ایک ہاتھ میں کوئی حکم نامہ بلند کئے ہوئے ہیں، کندھے پر رائفل لٹک رہی ہے یا بغل میں کاغذات دبائے ہوئے ہیں۔

”عسکری انقلابی کمیٹی نے ایک منٹ کے لئے بھی کام نہیں چھوڑا۔ اِس کے پاس مسلسل مندوبین، قاصد، رضاکار مخبر، بے لوث دوست اور لُچے قسم کے لوگ بھی آ رہے تھے۔ یہ شہر کے تمام کونوں میں کمیسار بھیج رہی تھی، احکامات اور اسناد پر بے شمار مہریں ثبت کر رہی تھی اور یہ سب کچھ جانچ پڑتال، فوری رابطوں، ٹیلیفون کی گھنٹیوں اور ہتھیاروں کی کھڑکھڑاہٹ کے بیچوں بیچ ہو رہا تھا۔ تھکاوٹ سے خستہ حال لوگ، جو کئی دنوں سے سوئے تھے نہ ٹھیک سے کچھ کھا پی سکے تھے، شیو بڑھی ہوئی تھی، کپڑے گندے ہو چکے تھے، آنکھیں سوجھ چکی تھیں، بیٹھی ہوئی آوازوں میں چلّاتے تھے، ہاتھوں سے عجیب و غریب اشارے کرتے تھے۔ اگر وہ نیم مردہ ہو کر زمین پر نہیں گرے تو شاید صرف اِرد گرد پھیلے انتشار کی وجہ سے، جو اُنہیں جھنجوڑ دیتا تھا اور اپنے بے لگام پروں پر دوبارہ اڑا لے جاتا تھا۔

”اکتوبر کا پیٹروگراڈ بارش کی چھتری تلے زندگی گزار رہا ہے۔ لمبے عرصے سے صاف نہ کی جانے والی سڑکیں گندی ہیں۔ سمولنی کے صحن میں بے شمار جوہڑ بن گئے ہیں۔ سپاہیوں کے بوٹوں کے ساتھ یہ کیچڑ راہداریوں اور ہالوں میں آ جاتا ہے۔ لیکن اب کوئی بھی نیچے نہیں دیکھ رہا ہے۔ ہر کسی کی نظر سامنے ہے!

”دنیا کی تخلیق کے بعد سے اِتنے احکامات کبھی جاری نہیں ہوئے ہوں گے… منہ زبانی، پنسل سے، ٹائپ رائٹر سے، تار سے، ایک کے بعد دوسرا حکم، ہزاروں اور دسیوں ہزار احکامات، جو ہمیشہ اختیار رکھنے والوں کی طرف سے جاری نہیں کئے جاتے تھے اور شاذ و نادر ہی اُنہیں جاری کئے جاتے تھے جو اُن پر عمل درآمد کے قابل ہوتے تھے۔ لیکن یہیں ایک معجزہ پوشیدہ تھا۔ اِس باﺅلے انتشارکی بھی ایک داخلی منطق تھی۔ لوگ ایک دوسرے کو سمجھ رہے تھے۔ سب سے اہم اور ضروری کام ہو رہے تھے۔ پرانی انتظامیہ کی جگہ لیتی نئے انتظامیہ کے تانے بانے بُنے جا رہے تھے۔ انقلاب زور پکڑ رہا تھا۔“ (ایضاً)

دوسری طرف سوویتوں کی کانگریس کا اجلاس جاری ہے۔ تند و تیز بحثیں ہو رہی ہیں۔ بالشویکوں پر الزام لگا یا جا رہا ہے کہ وہ انقلا ب کو برباد کر رہے ہیں۔ دونوں اطراف سے مقررین ایک دوسرے پر تابڑ توڑ حملے کر رہے ہیں۔ بالشویک انتہائی صبر و اطمینان سے تنقید کا جواب دے رہے ہیں۔ مخالفین کے بہت سے دھڑے بھی رفتہ رفتہ ان کے ساتھ شامل ہو رہے ہیں۔ ان میں منشویک انٹرنیشنلسٹ اور بائیں بازو کے سوشل انقلابی سر فہرست ہیں۔ بالشویک کچھ مہینے قبل تک ایک چھوٹی سی اقلیت تھے اور ایک وقت میں تو اپنی جانیں بچاتے پھر رہے تھے۔ جون میں ہونے والی سوویتوں کی کُل روس کانگریس کے تقریباً 1100 مندوبین میں سے بالشویک مندوبین کی تعداد صرف 105 تھی۔ بعد کے دن ان پر اور بھی بھاری تھے۔ وہ حکومتی کریک ڈاﺅن کی زد میں تھے اور لینن سمیت ان کے کئی اہم رہنماﺅں کو جان بچانے کے لئے روپوش ہونا پڑا تھا۔ جبکہ ٹراٹسکی سمیت بہت سوں کو جیل میں ڈال دیا گیا۔ لیکن آج وہ اکثریت میں ہیں اور پیٹروگراڈ سمیت بیشتر علاقوں کی سوویتوں کی قیادت کر رہے ہیں۔ لیکن اکثریت کی یہ قوت دھونس اور رعونت نہیں بلکہ ایک نیا سماج تعمیر کرنے کے عزم سے سرشار ہے۔ انہوں نے محنت کشوں کا یہ اعتماد مسلسل صبر آزما وضاحت سے حاصل کیا ہے۔ آٹھ مہینوں کے تجربات، حالات اور واقعات کی روشنی میں عوام نے ان کے موقف کو پرکھا ہے اور درست جانا ہے۔

رات کے دو بج چکے ہیں۔ تناﺅ بھرا ماحول ہے۔ ہال کھچا کھچ بھرا ہو ہے۔ سینکڑوں مندوبین ایک دوسرے کے ساتھ سمٹے بیٹھے ہیں تاکہ زیادہ سے زیادہ لوگوں کی جگہ بنا سکیں۔ انقلاب نے سمٹ کر بیٹھنے کا فن بھی سکھا دیا ہے۔ تمباکو نوشی مسلسل جاری ہے۔ فضا دھویں سے بوجھل ہے۔ مجلس صدارت کی جانب سے آدھے گھنٹے کے وقفے کا اعلان کیا جاتا ہے۔ ان وقفوں میں مختلف پارٹیوں کے دھڑے آپس میں مشاورت اور جوڑ توڑ کرتے ہیں۔ یہ عمل دوپہر سے جاری ہے۔ لیکن اسی دوران انقلابی ہیڈ کوارٹر سے ایک پیغام موصول ہوتا ہے جو کانگریس کے ماحول کو تازہ ہوا کے جھونکے کی طرح خوشگوار کر دیتا ہے۔ کامینیف، جو بالشویک پارٹی کے رہنماﺅں میں شامل ہے اور اجلاس کی صدارت کر رہا ہے، چبوترے سے اعلان کرتا ہے: ”عسکری انقلابی کمیٹی کے دستوں نے سرما محل پر قبضہ کر لیا ہے، (حکومت کے سربراہ) کیرنسکی کے سوا ساری عبوری حکومت کو گرفتار کر لیا گیا ہے۔“ انقلابی طبقے کو اقتدار سے جدا کرنے والی خلیج پھلانگ لی گئی ہے۔ کچھ مہینے پہلے تک دربدر ہو جانے والے بالشویک آج حکمرانوں کی حیثیت سے سرما محل میں داخل ہو ئے ہیں۔ آج روس میں سوویتوں کے اقتدار کے سوا کوئی دوسرا اقتدار نہیں ہے۔ جذبات کا پیچیدہ الجھاﺅ اچانک تالیوں اور نعروں میں پھٹ پڑتا ہے۔ تالیوں کی گونج اور نعروں کی گرج بڑھتی چلی جا رہی ہے۔ کام مکمل ہو چکا ہے!

لینن، جسے ابھی تک کانگریس نے نہیں دیکھا تھا، کو بات کرنے کے لئے سٹیج پر مدعو کیا جاتا ہے۔ وہ چبوترے پر نمودار ہوا تو فلک شگاف نعروں اور تالیوں کا نہ رکنے والا سلسلہ شروع ہو گیا۔ محاذِ جنگ سے آنے والے سپاہی اِس پراسرار ہستی کو ٹکٹکی باندھ کر دیکھتے چلے جا رہے تھے جس سے اُنہیں نفرت کرنا سکھایا گیا تھا اور جسے دیکھے بغیر ہی وہ اُس سے محبت کرنے لگے تھے۔ ریڈنگ سٹینڈ کو پکڑ کر اپنی چھوٹی آنکھیں جھپکاتے ہوئے سارے مجمع پر نظریں دوڑاتا لینن وہاں کھڑا انتظار کر رہا تھا… مسلسل بلند ہوتے نعروں اور تالیوں پر بظاہر کوئی توجہ نہیں دے رہا تھا۔ جب یہ سلسلہ کچھ تھما تو اُس نے بس اتنا ہی کہا: ’اب ہم ایک سوشلسٹ نظام کی تعمیر کی طرف بڑھیں گے۔‘

امریکی انقلابی جان ریڈ، جو انقلاب کے وقت روس میں موجود تھا اور جس نے بہت قریب سے ان واقعات کا مشاہدہ کیا، اپنی کتاب ’دنیا کو جھنجوڑ دینے والے دس دن‘ میں لکھتا ہے، ”بالشویک وہ واحد پارٹی تھے جن کے پاس ایک تعمیری پروگرام اور اسے نافذ کرنے کی صلاحیت موجود تھی۔ وہ کوئی تخریبی قوت نہیں تھے۔ اس میں کوئی شک نہیں ہے کہ اگر وہ اقتدار پر قبضہ کرنے میں کامیاب نہ ہوتے تو دسمبر تک جرمنی کی افواج ماسکو اور پیٹروگراڈ میں ہوتیں اور زار دوبارہ روس پر مسلط ہو جاتا… بالشویزم کے بارے میں کوئی کچھ بھی کہتا رہے‘ اس بات سے انکار ممکن نہیں کہ انقلابِ روس انسانی تاریخ کے عظیم ترین واقعات میں سے ایک ہے اور بالشویکوں کا ابھار ایک عالمگیر اہمیت کا حامل مظہر ہے۔“

انقلابِ روس نے ثابت کیا کہ سرمایہ دارانہ ارتقا میں پیچھے رہ جانے والے ممالک کی بورژوازی اس قابل نہیں ہے کہ خود اپنے نظام کے تاریخی فرائض ادا کر سکے۔ اگر روسی بورژوازی 1917ء میں ایک قومی جمہوری انقلاب کرنے کی اہل ہوتی تو بالشویک کبھی اقتدار میں نہ آتے۔ درحقیقت اپریل 1917ءکے بعد بالشویک پروگرام کا بنیادی نکتہ ہی یہ تھا کہ روس کا سرمایہ دار طبقہ تاریخی طور پہ کوئی ترقی پسندانہ کردار ادا کرنے سے عاری ہے اور سرمایہ داری کے ادھورے تاریخی فرائض بھی اب محنت کش طبقے کو سوشلسٹ اقدامات کے ذریعے ادا کرنے ہوں گے۔ ساتھ ہی انقلابِ روس نے عملی طور پہ یہ بھی ثابت کر دیا کہ محنت کش طبقہ نہ صرف اپنی محنت سے نظام کو چلاتا ہے بلکہ اپنی بغاوت اسے یکسر بدل بھی سکتا ہے اور یہ کہ سماج کو سرمایہ داروں، زمینداروں اور بینکاروں کے بغیر بھی بطریقِ احسن چلایا جا سکتا ہے۔ جیسا کہ لیون ٹراٹسکی نے نقل کیا ہے: ”اپنے غصے کا اظہار کرتے ہوئے ایک روسی جرنیل زالسکی لکھتا ہے، ’کون مانے گا کہ عدالت کی عمارت کا جمعدار یا چوکیدار اچانک اعلیٰ عدالت کا چیف جسٹس بن گیا؟ یا ہسپتال کا چپڑاسی ہسپتال کا منیجر بن گیا، ایک نائی ایک بڑا اہلکار بن گیا، کل کا حوالدار آج سپہ سالار بن گیا، کل کا نوکر اور عام مزدور آج بلدیہ کا صدر بن گیا، کل تک ٹرینوں کو تیل دینے والا آج سٹیشن منیجر بن گیا، کل کا مستری آج فیکٹری کا سربراہ بن گیا؟‘ کون مانے گا؟ اُنہیں ماننا پڑا۔ نہ ماننا ممکن ہی نہیں تھا۔ جب حوالداروں نے جرنیلوں کو شکست دی، جب عام مزدوروں کی صفوں سے آنے والے بلدیہ کے صدور نے کل کے آقاﺅں کی مزاحمت کو کچلا، جب ٹرینوں کو تیل دینے والوں نے ٹرانسپورٹ کا نظام درست کیا اور جب مستریوں نے منتظم بن کر صنعت کو بحال کیا۔“

انقلاب کے قائد لینن کے بقول ”انقلا ب کے اہم ترین فرائض میں سے ایک یہ ہے کہ … ہر قیمت پر ہمیں اس پرانے، نامعقول، وحشی اور گھٹیا عقیدے کو نیست و نابود کرنا ہے کہ صرف نام نہاد اشرافیہ، امیر طبقہ یا امیروں کے تعلیمی اداروں میں پڑھنے والے ہی ریاست کو چلا سکتے ہیں…“

انقلاب سے سماجی و معاشی تبدیلی کے ایک نئے عہد کا آغاز ہوا۔ صنعتوں اور بینکوں سمیت معیشت کے کلیدی حصوں کو نو زائیدہ مزدور ریاست نے قومی تحویل میں لیا۔ منافع خوری پر مبنی نظام پیداوار کا خاتمہ کیا گیا اور انسانی ضروریات کو پیداوار کی بنیادی قوت محرکہ قرار دیا گیا۔ سرمایہ داری کے خاتمے اور منصوبہ بند معیشت کی استواری سے پیداواری قوتیں نجی ملکیت کی جکڑ سے آزاد ہوئیں اور تیز معاشی ترقی اور جدید انفراسٹرکچر کی تعمیر کا آغاز ہوا۔ سرمایہ دارانہ ریاست کے خاتمے اور محنت کش طبقے کی نمائندہ انقلابی پارٹی کے اقتدار میں آنے سے محنت کش نئی مزدور ریاست کے امور اور فیصلہ سازی میں براہ راست طور پر شریک ہوئے۔ یوں مراعات اور عیاشیوں والی سرکاری اشرافیہ کا خاتمہ کر دیا گیا۔ دو عالمی جنگوں اور ایک انتہائی خونریز خانہ جنگی (جو انقلاب کو کچلنے کے لئے 21 سامراجی ممالک کی روس پر جارحیت کا نتیجہ تھی) سے گزرنے کے باوجود منصوبہ بند معیشت نے چند دہائیوں میں سوویت یونین کو ایک پسماندہ زرعی ملک سے دنیا کی دوسری بڑی صنعتی اور عسکری طاقت بنا دیا جہاں روزگار ہر انسان کو میسر تھا اور تعلیم و علاج کی سہولیات کا کاروبار ایک جرم سمجھا جاتا تھا۔

1913ء(قبل از جنگ پیداوار کا عروج) سے 1963ءکے پچاس برسوں میں مجموعی صنعتی پیداوارمیں 52 گنا سے زیادہ اضافہ ہوا۔ اسی دوران امریکہ میں یہ اضافہ چھ گنا سے کم تھا۔ 1917ءمیں روسی مردوں میں خواندگی کی شرح 37 فیصد جبکہ خواتین میں صرف 12 فیصد تھی۔ چند دہائیوں بعد یہی روس دنیا کا پہلا مصنوعی سیٹیلائٹ خلا میں چھوڑ رہا تھا اور امریکہ اور جاپان کے مجموعے سے زیادہ سائنس دان اور انجینئر سوویت یونین میں تھے۔ اس دوران اوسط عمر دوگنا ہو گئی اور بچوں میں شرح اموات نو گنا کم ہوئی۔ اتنے مختصر وقت میں اتنی بڑی معاشی ترقی کی مثال دنیا کی تاریخ میں نہیں ملتی۔ رہائش کے مسائل حل کرنے کے لئے پانچ کروڑ ساٹھ لاکھ فلیٹ تعمیر کئے گئے۔ سماجی، معاشی اور سیاسی زندگی کے تمام شعبوں میں خواتین کی شمولیت اور برابری کو یقینی بنایا گیا۔ سکول میں کھانے کی مفت فراہمی، بچوں کے لیے دودھ، حمل کے مشورہ مراکز، زچگی کے مراکز، چھوٹے بچوں کی نگہداشت کے مراکز اور دوسری مفت سہولیات مزدور ریاست کی جانب سے فراہم کی جاتی تھیں۔ منصوبہ بند معیشت کی برتری جدلیات کی زبان میں نہیں بلکہ بے مثال سماجی اور مادی ترقی کی شکل میں دنیا پر ثابت کی گئی۔

لیکن بالشویک انقلاب کے قائدین کے نزدیک یہ کسی ایک ملک یا قوم کا انقلاب نہ تھا بلکہ سرمایہ دارانہ نظام کے خلاف عالمگیر انقلاب کی پہلی کڑی تھا۔ تاہم جرمنی (1918ء اور 1923ء)، چین (1924-25ء) اور برطانیہ (1926ء) سمیت دیگر کئی ممالک میں انقلابات کی شکست سے سوویت یونین عالمی سطح پر تنہائی کا شکار ہو گیا۔ 1917ءکے بعد کی کچھ دہائیوں میں معاشی، سماجی اور ثقافتی پسماندگی کے خوفناک حالات میں انقلاب کی قائم کردہ مزدور جمہوریت مسخ ہو گئی اور سٹالن کی قیادت میں ایک سیاسی ردِ انقلاب نے جنم لیا۔

ٹراٹسکی نے واضح کیا تھا کہ منصوبہ بند معیشت کے لیے محنت کشوں کی جمہوریت ویسے ہی اہم ہے جیسے انسانی جسم کے لیے آکسیجن۔ 1928ء میں پانچ سالہ منصوبوں کے آغاز کے وقت چھوٹی اور سادہ معیشت کی منصوبہ بندی افسر شاہی کے لئے آسان تھی لیکن 1960ء کی دہائی میں سوویت معیشت 25 لاکھ اشیا پیدا کر رہی تھی۔ جمہوری منصوبہ بندی کے بغیر چند ہزار بیوروکریٹوں کے لئے اتنی بڑی معیشت کو چلانا نا ممکن تھا۔ چنانچہ 1970ء میں معیشت جمود کا شکار ہو گئی اور بدانتظامی بڑھنے لگی۔ 1936ء میں اپنی شہرہ آفاق کتاب ”انقلاب سے غداری“ میں ٹراٹسکی نے لکھا کہ ”سیاسی انقلاب کے ذریعے موجودہ افسر شاہانہ آمریت کا خاتمہ کر کے ایک صحت مند سوشلسٹ حکومت قائم نہ ہوئی تو اس کا نتیجہ سرمایہ داری کی جانب واپسی اور صنعت اور ثقافت میں تباہ کن زوال ہو گا۔“ 1989ءکے بعد کے واقعات سے یہ پیش گوئی ایک منفی انداز میں درست ثابت ہوئی۔

لیکن آج بالشویک انقلاب کے 103 سال بعد سوال یہ ہے کہ کیا سرمایہ داری انسانیت کے مسائل حل کر رہی ہے یا انہیں زیادہ گھمبیراور پیچیدہ بنا رہی ہے؟ امارت اور غربت کی خلیج اتنی وسیع پہلے کبھی نہ تھی جتنی آج ہے۔ جہاں سات افراد کے پاس دنیا کی آدھی آبادی سے زائد دولت ہے۔ ایک طرف غربت، بیروزگاری اور محرومی کی نہ ختم ہونے والی ذلتیں ہیں‘ دوسری طرف ماحولیات کی تباہی ساری نسل انسان کے وجود کے لئے ہی خطرہ بن رہی ہے۔ پچھلے سو سال میں بہت کچھ بدل گیا ہو گا لیکن طبقاتی تضاد اور جبر و استحصال کم نہیں بلکہ شدید ہی ہوئے ہیں۔ جس وقت یہ سطور تحریر کی جا رہی ہیں‘ لبنان، ایکواڈور، چلی، فرانس، سپین اور عراق سمیت دنیا کے بیشتر ممالک بڑے پیمانے کے احتجاجی مظاہروں اور عوامی تحریکوں کی زد میں ہیں۔ مہنگائی، بیروزگاری اور نجکاری کی جو یلغار اس وقت پاکستان میں جاری ہے‘ دنیا کے بیشتر ممالک کے محنت کش عوام کو بھی سرمایہ داری کے ایسے ہی سماجی اور معاشی حملوں کا سامنا ہے۔ 2008ء میں عالمی سرمایہ داری جس بحران میں داخل ہوئی تھی اب تک اس سے نکل نہیں سکی ہے۔ اپنے بحران کیساتھ یہ نظام زیادہ جابر اور خونریز ہوتا جاتا ہے۔ جب تک طبقاتی تفریق اور استحصال موجود ہے‘ بغاوتیں ہوتی رہیں گی۔ ان بغاوتوں کو انقلابات میں بدلنے اور انقلابات کو سوشلسٹ فتح سے ہمکنار کرنے کے لئے بالشویک انقلاب آج بھی مشعل راہ ہے۔

Imran Kamyana

عمران کامیانہ گزشتہ کئی سالوں سے انقلابی سیاست اور صحافت سے وابستہ ہیں۔ سیاسی معاشیات اور تاریخ ان کی دلچسپی کے موضوعات ہیں۔