خبریں/تبصرے

جو بائیڈن صدر کا حلف اٹھائیں گے لیکن کئی عدالتی اپیلوں پر فیصلوں کے بعد

قیصر عباس

امریکہ میں ہفتے کی صبح واشنگٹن ڈی سے نیویارک تک اور ڈلیور سے میامی تک کئی شہروں میں لوگوں کی ایک بڑی تعداد رقص و سرور اور نعروں سے آنے والے نئے سیاسی موسم کااستقبال کرنے گلیوں اور سڑکوں پر نکل آئی۔ ذرائع ابلاغ میں اس اعلان کے بعد ہی کہ جوبائیڈن نے امریکی صدر کا انتخاب جیت لیا ہے، ایک نئے سیاسی دور کی امید نے پورے امریکہ کو اپنی گرفت میں لے لیا۔

اسی رات اپنی ریاست ڈلیور میں منتخب صدر جو بائیڈن نے خطاب کرتے ہوئے قوم کو امید، تعاون اور اتحاد کے پیغام دیا۔ انہوں نے کہاکہ ہم نے اپنی انتخابی مہم کے دوران امریکہ کے شہریوں، اقلیتوں، افریقی امریکیوں، ریڈانڈین، عورتوں اور ملک کے تمام باشندوں کے درمیان امن و تعاون کا ہاتھ پھیلایا اور ہم آنے والے نئے دور میں بھی اس تعاون کے لئے کام کریں گے۔ لوگوں کی تالیوں میں انہوں نے اعلان کیاکہ امریکہ میں ”آج نسل اور رنگ کے تعصب کا آخری دن ہے۔“

انہوں نے قوم کو سماجی ہم آہنگی اور امن کے ایک نئے دن کی امید دلاتے ہوئے کہا ”میں آج آپ سے یہ وعدہ کرنا چاہتا ہوں کہ ملک کے صدر کی حیثیت سے قوم کو تقسیم کرنے کے بجائے اسے متحدرکھنے کے لئے کام کروں گا۔ میرے لئے ملک سرخ (رپبلکن پارٹی) اور نیلے رنگ (ڈیموکریٹک پارٹی) میں بٹا ہوا نہیں بلکہ اس کانام ریاست ہائے متحدہ امریکہ ہے۔“

ان سے پہلے کاملا ہیرس نے خطاب کرتے ہوئے کہاکہ ”میں اس ملک کی پہلی خاتون اور اقلیتی نائب صدر ضرور ہوں لیکن آخری نہیں ہوں گی اور آج ملک کی ہر لڑکی جانتی ہے کہ اس کے لئے ملک میں امکانات کے تمام دروازے کھلے ہیں۔“ ان کے مطابق امریکیوں نے ”اس انتخاب میں اپنا حق رائے دہی استعمال کرتے ہوئے امید، تعاون، رواداری، سائنس اور سچائیت کو ووٹ دیا ہے۔“

کاملا امریکہ کی تاریخ میں نہ صرف پہلی خاتون ہیں جو ملک کے اعلیٰ ترین عہدے کے لئے منتخب ہوئی ہیں بلکہ اس عہدے پر فائز ہونے والی پہلی افریقی النسل اور بھارتی نثراد لیڈر بھی ہیں۔ ان کی والدہ کا تعلق انڈیا سے اور والد کا جمیکا سے تھا۔

الیکشن کے بعدپانچ دنوں کے دوران جو بائیڈن اور ڈونلڈ ٹرمپ کے درمیان انتخابی معرکے بے یقینی کاشکار رہے جن میں دونوں امیدوار کبھی ہار اور کبھی جیت کے مرحلوں سے گزرتے رہے لیکن حیران کن بات یہ نہیں تھی کہ جو بائیڈن وائٹ ہاؤس کے قریب تر آ رہے تھے بلکہ یہ کہ گزشتہ چار سال کے بد ترین سیاسی دور کی صدارت کے باوجود ٹرمپ انتخابی نتائج میں زیادہ پیچھے نہیں تھے۔ بلکہ کہا جا سکتا ہے کہ انہوں نے ہر ریاست میں اپنے حریف سے کانٹے کا مقابلہ کیا۔

امریکہ کی سیاسی تاریخ میں ایسا بہت کم ہوا ہے کہ ایک امید وار مجموعی ووٹ اور الیکٹورل کالج دونوں میں سبقت حاصل کرے لیکن یہ اعزاز بھی جو بائیڈن کو حاصل ہوا ہے کہ وہ ان دونوں میں بہتر کارکردگی دکھاکر امریکہ کے صدر منتخب ہوچکے ہیں۔

ایسوسی ایٹڈ پریس کے مطابق بائیڈن نے پورے ملک میں 50.6 فیصد ووٹ حاصل کر کے کامیابی حاصل کہ جب کہ ٹرمپ کو 47.7 فیصد ووٹ ملے۔ الیکٹورل ووٹ میں بھی، جن کی بنیاد پر صدارتی انتخاب کا فیصلہ ہوتاہے اور جیتنے والے امیدوار کو کم از کم 270 ووٹ حاصل کرنا ہوتے ہیں، جوبائیڈن 290 او ر ٹرمپ صرف 214 ووٹ حاصل کر سکے۔

انتخابی معرکوں کی آخری جنگ پنسلوینیا، نیواڈا، ایریزونا، مشیگن، جارجیہ اور فلوریڈا کی فیصلہ کن ریاستوں میں ہوئی جہاں فلوریڈا کے علاوہ تمام ریاستوں میں با ئیڈن اپنے حریف سے آگے تھے مگر کم برتری کے ساتھ۔ ان ریاستوں میں دونوں امیدواروں کے انتخابی نتائج فیصد ووٹوں کے اعتبارسے کچھ اس طرح تھے:

ریاست          بائیڈن          ٹرمپ

جارجیہ          49.5           49.3 
ایریزونا         48.9          49.6     
ٖفلوریڈا          51.2          47.9  
مشیگن        47.9        50.6   
نیواڈا             47.9         49.9
پنسلوینیا     49.2        49.7    

جیسا کہ پہلے بھی روزنامہ جدوجہد کے ان تجزیوں میں صدر ٹرمپ کی شکست کی پیش گوئی کرتے ہوئے ہم کہہ چکے ہیں کہ ٹرمپ وہ کھلاڑی نہیں ہیں جو آسانی سے میدان سے باہرچلے جائیں، ہارنے کے بعد بھی!

صدر ٹرمپ اور رپبلکن پارٹی نے انتخابی تنائج کو کئی ریاستوں میں قانونی طور پر چیلنج کیا ہے لیکن کہا جاتاہے کہ ان عدالتی اپیلوں کی بنیاد ٹھوس حقائق پر کم اور شکوک و شبہات پر زیادہ ہے۔ اگرچہ امید یہی کی جا رہی ہے کہ جنوری میں جو بائیڈن صدارتی عہدے کااور کاملا ہیرس نائب صدر کاحلف اٹھائیں گی لیکن اس عرصے میں کئی عدالتی اپیلوں پر فیصلوں کے بعد۔

کہا جا سکتا ہے کہ اس سال پورے ملک میں پھیلی کروناوائرس کی خطرناک وبا نہ صرف لاکھوں لوگوں کے لئے مہلک ثابت ہوئی بلکہ ڈونلڈ ٹرمپ کی صدارت کو بھی لے ڈوبی جنہوں نے اپنی صدارتی مہم اور اس سے پہلے وبا سے نبٹنے کا کوئی منصوبہ نہیں بنایا اور خود بھی اس میں گرفتار ہو کر ہسپتال میں داخل بھی رہے۔

بہت سے لوگوں کے لئے کاملا ہیرس اور جوبائیڈن امریکہ میں امید کی ایک نئی کرن بن کر آئے ہیں لیکن دیکھنا یہ ہے کہ ڈیموکریٹک پارٹی آئندہ چارسالوں کے دوران اقتصادی استحکام، کرونا وائرس، نسلی تعصبات، اقلیتوں کے حقوق، تارکین وطن، صحت عامہ، علاج کی عام لوگوں تک رسائی اور ملک میں سماجی انصاف جیسے سنگین مسائل کو کس طرح حل کرتی ہے۔

Qaisar Abbas

ڈاکٹر قیصرعباس روزنامہ جدوجہد کی مجلس ادارت کے رکن ہیں۔ وہ پنجاب یونیورسٹی  سے ایم اے صحافت کے بعد  پاکستان میں پی ٹی وی کے نیوزپروڈیوسر رہے۔ جنرل ضیا کے دور میں امریکہ آ ئے اور پی ایچ ڈی کی۔ کئی یونیورسٹیوں میں پروفیسر، اسسٹنٹ ڈین اور ڈائریکٹر کی حیثیت سے کام کرچکے ہیں۔ آج کل سدرن میتھوڈسٹ یونیورسٹی میں ایمبری ہیومن رائٹس پروگرام کے ایڈوائزر ہیں۔