خبریں/تبصرے

افغانستان میں جنگی جرائم: آسٹریلوی فوجی سربراہ نے افغان عوام سے معافی مانگ لی

لاہور (جدوجہد رپورٹ) آسٹریلیا کی فوج کے سربراہ نے چار سال کی تحقیقات کے بعد آسٹریلوی فوج کے افغانستان میں جنگی جرائم ثابت ہونے پر افغان عوام سے معافی مانگ لی ہے۔

بین الاقوامی میڈیا کی رپورٹس کے مطابق آسٹریلوی فوج کے سربراہ کا کہنا ہے کہ 39 افغان شہریوں اور قیدیوں کو آسٹریلوی فوجیوں نے غیر قانونی طور پر قتل کیا ہے، تمام ثبوتوں سمیت یہ معاملہ سپیشل وائر کرائمز پراسیکیوٹر کو بھیجا جا رہا ہے۔

جمعرات کے روز فوجی سربراہ نے 465 صفحات پر مشتمل رپورٹ پیش کی، جس میں ایسے درجنوں قتل عام کے واقعات کی انکوائری شامل تھی جو میدان جنگ سے باہر کئے گئے تھے۔ رپورٹ میں 19 افراد کو پولیس کے حوالے کرنے اور متاثرین کو معاوضہ جات کی ادائیگی کی سفارش کی گئی ہے۔

2005ء سے 2016ء کے دوران افغانستان میں تعینات آسٹریلوی فوجیوں کی جانب سے کئے جانے والے اقدامات پر سالوں سے تحقیقات جاری تھیں۔ رپورٹ میں کہا گیا ہے کہ گشت کرنیوالے فوجیوں نے قانون کو اپنے ہاتھ میں لے کر انسانی حقوق کی خلاف ورزیاں کیں اور شہریوں کو قتل کیا گیا، قیدیوں کو بھی قتل کیا گیا۔ گشت کرنیوالی ٹیم نے نئے فوجی ارکان کو قیدیوں کو قتل کرنے پر مجبور کیا تاکہ وہ اپنا پہلا شکار کر سکیں۔ یہ رسم بلڈنگ (خون بہانا) کہلاتی ہے۔

آسٹریلوی فوجی سربراہ نے کہا کہ جونیئر فوجی قتل کے بعد واقعے کو جھڑپ بنا کر ظاہر کرتے تھے۔ 39 افغان شہریوں کے غیر قانونی قتل میں ملوث اہلکار اپنی رجمنٹ، فوج اور آسٹریلیا کی بدنامی کا باعث بنے ہیں اور ان سے جنگی جرائم کے قوانین کے تحت ہی تفتیش کی جائیگی۔

انہوں نے 2007ء سے 2013ء تک افغانستان میں خدمات سرانجام دینے والی سپیشل آپریشن فورسز سے اعزازی میڈلز بھی واپس لینے کا اعلان کیا۔

رپورٹ میں شامل واقعات میں ایک چھ سالہ بچے کو قتل کرنے سے لیکر ہیلی کاپٹر میں جگہ بنانے کیلئے ایک قیدی کو قتل کر کے نیچے پھینکنے جیسے واقعات بھی شامل ہیں۔

میڈیا رپورٹس کے مطابق آسٹریلوی حکومت نے رپورٹ کو چھپانے کی کوشش بھی کی، جبکہ گزشتہ ہفتے آسٹریلوی وزیراعظم نے خصوصی تفتیشی کی تعیناتی کا اعلان بھی کیا تاکہ عالمی عدالت انصاف میں ہونے والی کسی بھی کارروائی کا راستہ روکا جا سکے۔

آسٹریلوی حکومت ماضی میں فوج کی جانب سے کئے گئے جنگی جرائم کو چھپانے کی کوشش کرتی رہی، فوج کے ان اقدامات کو رپورٹ کرنے والے صحافیوں سے بھی پولیس نے تفتیش کی تھی۔ ایک نشریاتی ادارے کے دفاتر پر بھی چھاپے مارے گئے۔