خبریں/تبصرے

عمار جان کی گرفتاری ساتھیوں نے ناکام بنا دی، پیر کو حنا جیلانی درخواست ضمانت دائر کریں گی

لاہور (نامہ نگار) گذشتہ روز طلبہ یکجہتی مارچ میں شرکت کے بعد پولیس نے حقوق خلق موومنٹ کے رہنما عمار علی جان کو گلبرگ کے علاقے میں گھر جاتے ہوئے گرفتار کرنے کی کوشش کی مگر ان کے ہمراہ موجود ساتھیوں نے پولیس کی یہ کوشش ناکام بنا دی۔

پولیس نے یہ گرفتاری ضلعی انتظامیہ کی جانب سے عمار علی جان کو ایک ماہ کے لئے کوٹ لکھپت جیل میں بند کرنے کے حکم کے بعد کی۔ ڈپٹی کمشنر کی جانب سے جاری کئے گئے ایک نوٹس میں عمار علی جان پر نقص امن عامہ پیدا کرنے کا الزام لگایا گیا ہے۔

یاد رہے گذشتہ سال بھی 29 نومبر کو ہونے والے طلبہ یکجہتی مارچ کے بعد عمار علی جان اور فاروق طارق سمیت چھ رہنماؤں پر غداری کے مقدمے بنائے گئے جبکہ ایک طالب علم رہنما عالمگیر وزیر پہلے لاپتہ کئے گئے پھر انہیں کئی ماہ تک جیل میں بند رکھا گیا۔ یہ سب رہنما ابھی تک غداری کے مقدمے میں ضمانت پر ہیں۔

دریں اثنا، اطلاعات کے مطابق عمار علی جان روپوش ہیں جبکہ معروف وکلا حنا جیلانی، سلمان اکرم راجہ اور پاکستان بار کونسل کے رہنما عابد ساقی بھٹی پیر کے روز عمار علی جان کی جانب سے درخواست ضمانت دائر کریں گی۔

عمار علی جان کو گرفتار کرنے کی کوشش کے خلاف سوشل میڈیا پر زبردست رد عمل دیکھنے میں آیا۔ پولیس کی جانب سے اس گرفتاری پر حکومت اور انتظامیہ کی مذمت کی گئی۔