خبریں/تبصرے

’دہلی چلو‘ کسان مارچ کا 5 واں دن: ہزاروں کسانوں نے دہلی کی سرحدیں بند کر دیں

لاہور (جدوجہد رپورٹ) بھارت کے کسانوں کا ’دہلی چلو مارچ‘ پانچویں روز میں داخل ہو گیا ہے۔ تین بنیادی مطالبات کے گرد 26 نومبر کوشروع ہونیوالا ’دہلی چلو مارچ‘ پولیس نے متعدد بڑی رکاوٹیں کھڑی کر کے دہلی داخل ہونے سے روک دیا تھا۔ شرکا مارچ نے گزشتہ چار روز سے پنجاب اور ہریانہ سے ملانے والی سرحد پر دو بڑی اور پانچ چھوٹی شاہراہوں پر دھرنا دے رکھا ہے۔

احتجاج کی یہ کال بھارتی حکومت کی جانب سے نجی سرمایہ داروں کے حق میں بنائے جانیوالے قوانین کے خلاف ’آل انڈیا کسان سنگھرش کوآرڈینیشن کمیٹی‘، ’راشٹریہ کسان مہاسنگ‘ اور ’بھارتی کسان یونین‘ نے دے رکھی تھی جس میں بھارتی کسانوں کی تیس سے زائد کسان یونینیں شامل ہیں۔

کسانوں کے دہلی پہنچنے کا راستہ روکنے کیلئے بھارتی حکومت نے دہلی کے تمام داخلی راستے بلاک کر دیئے تھے۔ کسانوں کو دہلی میں داخل ہونے سے روکنے کیلئے پولیس نے واٹر کینن، آنسو گیس اور لاٹھی چارج کا استعمال کیا، جس کے بعدمظاہرین اور پولیس کے مابین جھڑپیں ہوئیں۔

’دہلی چلو مارچ‘ میں بھارت کی شمالی ریاستوں ہریانہ اور پنجاب کے ہزاروں کسان شامل ہیں۔ بعد ازاں اتر پردیش، اترا کھنڈ اور دیگر ریاستوں سے بھی ہزاروں کسان اس مارچ میں شامل ہوئے، بھارتی میڈیا کے مطابق جنوبی ریاستوں آندھرا پردیش، تمل ناڈو اور کیرالہ میں بھی کسان سراپا احتجاج ہیں۔

یہ کسان بھارتی حکومت کی جانب سے نیو لبرل سرمایہ دارانہ پالیسیوں کے نفاذ کے سلسلہ میں زرعی اصلاحات کے نام پر کسانوں کو سرمایہ داروں کے رحم و کرم پر چھوڑنے کے حوالے سے متعارف کروائے گئے قوانین کے خلاف سراپا احتجاج ہیں۔ کسانوں کے تین بڑے مطالبات میں سر فہرست مطالبہ کم سے کم سپورٹ پرائس (ایم ایس پی) کا ختم کرنیکا فیصلہ واپس لینے کا ہے۔ مذکورہ قانون کسانوں کو نجی سرمایہ داروں اور منڈی سے محفوظ رکھنے کی بنیادی کڑی تھی۔ اس قانون کے خاتمے کے بعدزرعی اجناس کی فروخت اور قیمتوں کا تعین وغیرہ منڈی کے رحم و کرم پر رہ جائے گا۔ نجی سرمایہ دار اور کارپوریٹ سیکٹر قیمتوں کے تعین میں بااختیار ہو جائے گا، جس کے بعد ذخیرہ اندوزی اوردیگر حربوں کے ذریعے کسانوں کا معاشی قتل عام کیا جائے گا۔

کسانوں کا دوسرا مطالبہ بجلی کا ترمیمی بل واپس لینے کا ہے۔ مذکورہ ترمیمی بل کے ذریعے سے کسانوں کو مفت بجلی کی فراہمی کا سلسلہ بند ہو جائیگا اور نجکاری کو فروغ دیا جائے گا۔ کسانوں کا تیسرا مطالبہ کھیتوں میں مڈھوں کو آگ لگانے والے کو پانچ سال قید یا ایک کروڑ روپے جرمانے کی سزا مقرر کرنیوالی قانون سازی ختم کرنا ہے۔

بھارتی وزیر داخلہ امت شاہ نے مذاکرات کو کسانوں کے سڑکیں خالی کرنے اور دارالحکومت کے بوراری گراؤنڈ منتقل ہونے سے مشروط کیا جس کے بعد اتوار کو کسان رہنماؤں نے سڑکیں خالی کرنے سے انکار کر دیا اور مطالبات تسلیم کرنے کے علاوہ کسی قسم کی شرط اور اپیل قبول کرنے سے انکار کر دیا۔ نشریاتی ادارے ٹربیون سے گفتگو کرتے ہوئے کسان رہنما بوٹا سنگھ برج گیل کا کہنا تھا کہ ”ہم نے فیصلہ کیا ہے کہ ہم دہلی کی سرحدوں پر کھڑے رہیں گے اور بوراری گراؤنڈ نہیں جائیں گے۔ یہ فیصلہ تمام کسان یونینوں نے کیا ہے۔“

کسان رہنما ہرمیت سنگھ کڈیان نے میڈیا سے گفتگو کے دوران کہا کہ ”ہم کسی پیشگی شرط کو قبول نہیں کرتے، بغیر کسی شرط کے ہر طرح کے مذاکرات کیلئے تیار ہیں۔ اپنے احتجاج کے دوران دو مرکزی اور پانچ دیگر شاہراہیں بند رکھیں گے۔“

برطانوی نشریاتی ادارے ’بی بی سی‘ کے نمائندہ دلنواز پاشا کا کہنا ہے کہ ”وہ چاولوں اور اناج سے بھری (ٹریکٹر) ٹرالیوں کے ساتھ سفر کر رہے ہیں اور اپنا کھانا خود بنا رہے ہیں۔ وہ طویل جنگ کیلئے تیار ہیں۔“

شمالی بھارت کے کسان ستمبر سے حکومت کی نئی پالیسیوں کے خلاف احتجاج کر رہے ہیں۔ ستمبر میں بھی ہزاروں کسانوں نے مختلف ریاستوں میں موٹرویز اور ریلوے ٹریک بند کر دیئے تھے۔

ایم ایس پی اور مفت بجلی کی فراہمی کے باوجود بھارتی کسان بدترین معاشی صورتحال کا شکار ہیں۔ بھارت کی 70 فیصد آبادی زراعت سے وابستہ ہونے کے باوجود زراعت کا شعبہ بھارتی جی ڈی پی کا اٹھارہ سے بیس فیصد کے درمیان ہے۔ بھارتی زراعت کا 80 فیصد حصہ چھوٹے کسانوں پر مشتمل ہے۔ موسمی سختیوں، کم پیداوار، پانی کی قلت اور قرضوں کی واپسی نہ ہونے کی وجہ سے بھارت میں ہر روز 45 کسان خود کشی کرنے پر مجبور ہوتے ہیں۔ کسانوں کی خودکشیوں کے اس سلسلے میں مسلسل اضافہ ہو رہا ہے۔ اس کے علاوہ مشکل حالات میں کام کرنے کی وجہ سے حادثات میں کسانوں کی ہلاکتوں میں بھی بھارت سر فہرست ہے۔ ہر ایک لاکھ میں سے بیس کسان کام کے دوران کسی نہ کسی سطح کے حادثے کی وجہ سے موت کا شکار ہو رہے ہیں۔ اکنامک ٹائمز انڈیا کے مطابق بھارت میں کسان فی ایکٹر اوسطً 3 لاکھ روپے سالانہ کماتے ہیں، لیکن اگر گندم یا چاول کی پیداوار کر رہے ہوں تو اوسطً آمدن تیس ہزار روپے فی ایکٹر تک ہی رہتی ہے۔

اس کیفیت میں مودی حکومت کی جانب سے متعارف کروائی گئی نئی پالیسیاں جہاں کارپوریٹ سیکٹر کو بھاری منافعوں کیلئے زراعت کے شعبہ پر سرمایہ کاری کی جانب راغب کریں گی وہیں بھارت کی ستر فیصد آبادی کی زندگیوں کو مزید جہنم زدہ بنانے کا باعث بنے گیں۔ بھارتی کسانوں کی یہ جدوجہد ابھی محض تین مطالبات کیلئے شروع ہوئی ہے لیکن اگر وہ اس جدوجہد میں فتح یاب ہوتے ہیں تو یہ فتح یقینا کسانوں کی جدوجہد کو نئی مہمیز دینے کا باعث بنے گی۔ بھارتی کسانوں کی ماضی میں انقلابی روایات رہی ہیں۔ 1917ء سے 1930ء کے دوران نصف درجن سے زائد کسان تحریکوں نے نہ صرف برطانوی سامراج کے جبری قبضے کو للکارا تھا بلکہ یہ تسلسل نام نہاد آزادی کے 73 سال کے دوران متعدد مرتبہ دہرایا جا چکا ہے۔

کسانوں کی موجودہ تحریک کی کامیابی نہ صرف کسانوں بلکہ محنت کشوں اور نوجوانوں کی وسیع پرتوں کیلئے نئے حوصلے اور شکتی کا باعث بنے گی۔ بھارت میں ابھرنے والے بغاوت کے شعلے اس بغاوت کے آغاز کے اشارے ہیں جو سرمایہ دارانہ استحصالی نظام کے خاتمے اور برصغیر جنوب ایشیا کی سوشلسٹ فیڈریشن کی صورت ہی فتحیاب ہو گی۔