پاکستان

ثاقب نثار احتساب کیلئے پیش ہوں، یا خاموش رہیں

فرحت اللہ بابر

کچھ عرصے سے سابق چیف جسٹس ثاقب نثار کا پھر سے ذکر ہو رہا ہے۔ اسلام آباد سے شائع ہونے والے ایک انگریزی اخبار سے انٹرویو میں انہوں نے ایسے کئی متنازعہ معاملات سے لا تعلقی ظاہر کی جو اس دوران سامنے آئے جب وہ بطور چیف جسٹس خدمات سر انجام دے رہے تھے۔ انہوں نے بالخصوص بد نام زمانہ پانامہ لیکس کے حوالے سے بنائی جانے والی اس مشترکہ تحقیقاتی کمیٹی (جے آئی ٹی) سے لا تعلقی کا اظہار کیا جو سابق وزیر اعظم نواز شریف سے پوچھ گچھ کے لئے بنائی گئی تھی۔

انٹرویو کرنے والے صحافی نے سابق چیف جسٹس سے اس خبر بارے پوچھا جس کی سرخی تھی: ’پانامہ جے آئی ٹی اور واٹس اپ کالر‘۔ خبر یہ تھی کہ واٹس اپ پر کسی نے بطور رجسٹرار سپریم کورٹ سٹیٹ بینک اور سکیورٹی اینڈ ایکسچینج کمیشن آف پاکستان سے رابطہ کیا اور مطالبہ کیا کہ کچھ مخصوص افراد کو مشترکہ تحقیقاتی کمیٹی میں شامل کیا جائے۔

سٹیٹ بینک اور سکیورٹی اینڈ ایکسچینج کمیشن آف پاکستان سے کہا گیا کہ بلا ل رسول اور عامر عزیز کو اس مشترکہ تحقیقاتی کمیٹی (جے آئی ٹی) میں شامل کیا جائے۔ یہ بھی کہا گیا کہ نیب کی طرف سے عرفان مگسی اس پینل کا حصہ ہوں گے۔

سٹیٹ بینک اور سکیورٹی اینڈ ایکسچینج کمیشن آف پاکستان نے ابتدائی طور پر تو واٹس اپ پر ملنے والے پیغام پر توجہ نہ دی البتہ بعد ازاں یہ سارے افراد مشترکہ تحقیقاتی کمیٹی (جے آئی ٹی) میں شامل پائے گئے۔ جہاں تک نیب کا تعلق ہے، اس نے مشترکہ تحقیقاتی کمیٹی (جے آئی ٹی) کے ارکان پر کوئی اعتراض نہ کیا اور خبر کے مطابق عرفان مگسی کو بھی بغیر کسی حیل و حجت کے شامل کر لیا گیا۔

اس ہفتے کے آغاز پر لئے گئے انٹرویو میں بے باک صحافی نے ثاقب نثار سے اس مشترکہ تحقیقاتی کمیٹی (جے آئی ٹی) بارے پوچھا۔ چیف جسٹس کا کہنا تھا کہ انہیں اس بابت کچھ معلوم نہیں اور انہوں نے رجسٹرار کو واٹس اپ کال کرنے کی کوئی ہدایت نہیں دی تھی۔ ان کا کہنا تھا کہ اس معاملے کا تعلق امپلی منٹیشن بنچ سے ہے نہ کہ ان کے ساتھ۔ سابق چیف جسٹس نے انٹرویو لینے والے صحافی سے کہا: ’مجھے نہیں معلوم رجسٹرار نے واٹس اپ کال کیوں کی‘۔

ہو سکتا ہے ثاقب نثار کی یہ بات درست ہو کہ ان کا رجسٹرار کی طرف سے کی گئی اس واٹس اپ کال سے کوئی تعلق نہیں ہے۔ ان کا یہ دعویٰ بھی درست ہو سکتا ہے کہ ’مجھے نہیں معلوم رجسٹرار نے یہ کال کیوں کی‘ لیکن وہ اس بات کا کیا جواز پیش کریں گے کہ جب وہ چیف جسٹس تھے تو مشترکہ تحقیقاتی کمیٹی (جے آئی ٹی) بنانے کے سلسلے میں انتظامیہ کے معاملات میں عدلیہ نے مداخلت کی؟

وہ اکثر عدالتی مداخلت کا دفاع یہ کہہ کر کرتے ہیں کہ جب انتظامیہ اپنا کام درست طور پر نہیں کرتی تو عدالت کو مداخلت کرنی پڑتی ہے۔ یہ خطرناک حد تک بودی دلیل ہے۔ اگر یہی دلیل عدالت بارے استعما ل ہونے لگے تو سوچئے کیا نتیجہ نکلے گا؟ مزید براں، سابق چیف جسٹس کا یہ کہہ دینا کا فی ہے کہ ’مجھے نہیں معلوم رجسٹرار نے واٹس اپ کال کیوں کی‘۔

کیا 30 مئی 2017ء کو دی نیوز میں شائع ہونے والی خبر کا نوٹس لینا ضروری نہیں تھا؟ ثاقب نثار ریاست کے دیگر اداروں کی ہر معمولی کوتاہی کا ازخود نوٹس لیا کرتے تھے مگر اس خبر پر چپ رہے۔ آخر کیوں؟

غلط وقت پر غلط بنیادوں پر بیانات دے کر ثاقب نثار نے عدلیہ کا کوئی بھلا نہیں کیا نہ ہی اس سے ان کا کوئی اپنا فائدہ ہوا ہے۔ اس انٹرویو کی وجہ سے ایک مرتبہ پھر ان کا نقصان دہ ورثہ توجہ کا مرکز بناہے اور قوم کو اس ورثے کا خمیازہ ابھی دیر تک بھگتنا ہو گا۔

جنوری 2019ء میں ان کی ریٹائرمنٹ سے اگلے ہی دن راقم نے ’د ی فرائیڈے ٹائمز‘میں سابق چیف جسٹس کے عدالتی ورثے بارے ایک مضمون لکھا تھا۔ اب چونکہ وہ خود بیان دے رہے ہیں تو اس مضمون کا حوالہ دینا ایسا بے جا نہ ہو گا۔ میں نے اس مضمون میں لکھا تھا کہ ثاقب نثار نے آئین کی تشریح کرتے ہوئے عدلیہ کو تو مضبوط بنایا ہے مگر ریاست کے دیگر اداروں کو کمزور کر دیا ہے۔ ریاست کے دیگر اداروں کی کمزوری ہی ثاقب نثار اپنی وراثت میں چھوڑ کر گئے ہیں۔

ثاقب نثار کے دور میں یہ تفریق ہی ختم ہو کر رہ گئی کہ کس ادارے کا کیا اختیار ہے۔ ٹیلی ویژن کی سرخیوں پر ازخود نوٹسوں کا کیا نتیجہ نکلے گا، اس پرموصوف نے کوئی توجہ نہیں دی۔ سکولوں اور ہسپتالوں پر چھاپوں کو سابق چیف جسٹس اپنی اہم ذمہ داری بنا کر پیش کرتے رہے۔ ڈیم بنانے کے لئے چندہ، ڈیم فنڈ کی تشکیل، چندہ دینے والوں کے کالے دھن پر مختلف نوع کی چھوٹ، چندے کے لئے دیگر ممالک میں ایسے ڈنر ز میں شرکت جس میں بعض سیاسی کارکن متحرک نظر آتے تھے اور یہ دھمکی دینا کہ اگر ان کے فیصلوں کی مخالفت کی گئی تو مخالفت کرنے والے کے خلاف آرٹیکل چھ کے تحت کاروائی ہو گی۔ ان تمام حرکتوں کا عدالتی جواز بھی پیش کیا گیا۔

عدلیہ کی آزادی کے نام پر عدلیہ اور ججوں کو آئین اور قانون سے ہی آزاد بنا دیا گیا۔ جب ثاقب نثار جج تھے تو وہ از خود نوٹس کے حوالے سے کہا کرتے تھے کہ اس کا کوئی معیار کرنا چاہئے کہ ’کس غلطی کو درست کرنا‘ ہے۔ چیف جسٹس بننے کے بعد از خود نوٹس کو محدود کرنے کی بجائے اس روش کو توسیع دی گئی۔ ایک بنچ کے سربراہ کے طور پر جب جسٹس قاضی فیض عیسیٰ نے یہ ریمارکس دئے کہ پبلک انٹرسٹ لٹی گیشن کو محض چیف جسٹس کے کہنے پر کیسے شروع کیا جا سکتا ہے تو ثاقب نثار نے اچانک اس بنچ کو ہی تحلیل کر دیا۔

عاجزی و انکساری ان دنوں کورٹ روم نمبر ایک کا خاصہ نہیں تھا۔ یہ ریمارکس کہ ’کون ہے حمزہ شہباز؟ میں نہیں جانتا کسی ایسے شخص کو‘ یا حسین نقی جیسے معروف صحافی سے بد سلوکی اس کی چند مثالیں ہیں۔

جج سے زیادہ ثاقب نثار نے خود کو گاؤں کے بزرگ، بابا رحمتا، کے طور پر پیش کیا جو عقل و دانش کا پتلا ہے اور جس کی عزت و تکریم سب پر واجب ہے۔ کوئٹہ میں دو قوموں بارے ان کا بیان ’ایک تو مسلمان تھے…اور دوسری قوم کا میں نام بھی نہیں لینا چاہتا‘ (مراد ہندو) سن کر تو لوگوں کے سر شرم سے جھک گئے۔

بد ترین مثال تو وہ ہے کہ جب اکتوبر 2018ء میں ان کے خلاف ایک ریفرنس دائر ہوا اور وہ ابھی چیف جسٹس ہی تھے۔ یہ ریفرنس ملک بھر سے سو کے قریب ان شہریوں نے دائر کیا تھا جواختیارات کی تقسیم پر یقین رکھتے تھے۔ جب تک ثاقب نثار چیف جسٹس رہے، اس ریفرنس پر کوئی کاروائی ہی شروع نہیں کی گئی۔ جب وہ ریٹائر ہوئے تو سپریم جوڈیشل کونسل نے یہ کہہ کر ریفرنس خارج کر دیا کہ یہ غیر متعلق ہو چکا ہے۔ اس فیصلے کے خلاف اپیل ابھی زیر التوا ہے۔

میڈیا کو ایسی جھوٹی سچی وضاحتیں پیش کرنے کی بجائے کہ جن سے کوئی بھی قائل نہیں ہو سکتا، ثاقب نثار کو چاہئے کہ وہ خود کو عدالت کے سامنے احتساب کے لئے پیش کریں۔ اگر ایسا نہیں کر سکتے تو کم از کم خاموش رہنا بہتر ہو گا۔ اگر ان کا کوئی وقار باقی ہے تو رہے سہے وقار کی عافیت اسی میں ہے کہ وہ خاموش رہیں۔

بشکریہ: دی فرائیڈے ٹائمز