نقطہ نظر

کیڑو، سماجی سرحدیں اور ایک دھان پان سی لڑکی!

قیصر عباس

فوزیہ رفیق پنجاب یونیورسٹی کے شعبہ صحافت کے اس بیج میں شامل تھی جس میں ہم ترقی پسند دوستوں کو نصاب کی کتابوں میں کم اور نظریاتی اور سماجی سرگرمیوں میں زیادہ دلچسپی تھی۔ کلاس روم میں تو ہم صرف خانہ پری کے لئے جاتے تھے لیکن اکثر شعبہ صحافت کی سیڑھیوں، کینٹین، یا پھر اپنے نظریاتی استاد ڈاکٹر مہدی حسن کے کمرے میں دکھائی دیتے تھے، یا پھر ریڈیو، ٹی وی اور ادبی پروگراموں میں۔ سچ پوچھیں تو ہم نے صحافت کے اسرارو رموز ان سرگرمیوں کے ذریعے زیادہ سیکھے۔

ہم سب تو اس وقت صحافت کی الف بے ہی سیکھ رہے تھے لیکن فوزیہ کا شمار ان لوگوں میں ہوتا تھا جنہیں ڈگری کی ضرورت نہیں تھی کہ لکھنا پڑھنا اس کی گھٹی میں تھا۔ وہ یونیورسٹی کے پہلے ہی سال ایک نئے میگزین ’ دھنک ‘کی اسسٹنٹ ایڈیٹر بن چکی تھی اور اس کے فیچر اپنی بے باکی اور انوکھے اندازتحریر کے لئے خاصے مشہور تھے۔ اسی دوران پی ٹی وی کے دو ڈراموں کے سکرین پلے بھی فوزیہ نے تحریر کئے۔ یہ بات ہماری سمجھ سے بالاتر تھی کہ دھان پان سی اس لڑکی میں اتنے گن کہاں سے سماگئے ہیں۔

ایم اے کے بعد سب دوست اپنی اپنی زندگی کے گورکھ دھندوں میں مصروف ہوگئے اور کچھ عرصے بعد سنا کہ فوزیہ کینیڈا چلی گئی ہے۔ وقت نے ایک لمبی چھلانگ لگائی اور اب وہی لڑکی کینیڈا کی جانی پہچانی دانشور، شاعرہ اور ناول نگار ہے۔

اب تک وہ تین ناول ’کیڑو‘، ’سکینہ‘ اور ’ ایڈونچرز آف صاحباں ‘ لکھ چکی ہے اور انگریزی شاعری کی ایک کتاب ’Holier Than Life‘ یعنی’ زندگی سے زیادہ مقدس ‘کی خالق بھی ہے۔ اس کے علاوہ فوزیہ ’عورت دربار‘ کے عنوان سے جنوبی ایشیا کی خواتین کے افسانوں اور شاعری کا ایک مجموعہ بھی ٹورانٹو سے شائع کرچکی ہے۔ اس کی تخلیقات کی ایک خاص بات یہ ہے کہ اس کی بیشتر کتابوں کی اشاعت اردو، انگریزی اور پنجابی میں بھی ہوتی ہے اور یہی وجہ ہے کہ اس کے قارئین کا دائرہ کینیڈا، انڈیا اور پاکستان تک پھیلا ہواہے۔

اس کا نیا ناولٹ ’کیڑو‘ اسی سال پنجابی کے گرمکھی اور شاہ مکھی رسم الخط کے علاوہ ا ر دو میں بھی شائع ہو چکا ہے۔ اس کا انگریزی ترجمہ بھی عنقریب شائع ہونے والا ہے۔ ناولٹ کی کہانی اس کے پانچ کرداروں، کیڑو، حلیمہ، نائلہ، دلجیت اور ازابیلا کے گرد گھومتی ہے جو پاکستان یا انڈیا سے آ کر کینیڈا کے شہر سرے میں رہتے ہیں۔ ان کرداروں کے سہارے فوزیہ نے کہانی کا جو جال بُنا ہے اس کے تار برصغیر کے طبقاتی استحصال اور سماجی تضادات سے تخلیق کئے گئے ہیں۔

حلیمہ، جس کا پورا نام حلیمہ ایلس بی بی ہے، کہانی کا مرکزی کردار ہے۔ اس کی ماں سکھ مذیب سے تھی جسے بٹوارے کے ہنگاموں میں مسلمان بنا دیا گیا تھا۔ زندگی کے اتار چڑھاو نے خود حلیمہ کو پہلے مسلمان، پھر عیسائی اور دوبارہ مسلمان بننے پر مجبور کیا۔ اس طرح وہ خود کوان تمام مذہبی روائتوں کی وارث سمجھتی ہے۔ ناولٹ اس کردار کا تعارف اسی کی زبانی کچھ اس طرح کرارہاہے:

”کہتے ہیں بلیوں کی نو زندگیاں ہوتی ہیں۔ میں کہتی ہوں مسکینوں کی بھی نو ہوتی ہیں۔ مجھے پہلی زندگی ملی جب میں پیدا ہوئی۔ دوسری ملی جب ملی شیعہ سنی فسادوں میں جدھر میرے والدین اور آدھا گاوں مارا گیا، میں چار سال کی تھی۔ تیسری ملی جب میں چودہ سال کی گھر سے بھاگی اور گرجے جا پڑی۔ چوتھی، گرجے پر اٹیک ہوا ہے اور ہماری بستی جلا دی گئی۔ کیڑو پیدا ہونے والا تھا، پانچویں جب کیڑو پر الزام رکھا گیا اور میں اسے کرانچی روانہ کر کے آ ئی ہوں۔ چار اور رہتی ہیں، رب اچھی کرے گا۔“

کہانی کا یہ کردار ناولٹ کی تمام فکری جہتوں کا مرکزی نکتہ ہے۔ غریب گھرکی ایک لڑکی جسے سکول جانے کے مواقع نہیں ملے، کہانی کا سب سے باشعور کردار ہے۔ حلیمہ اپنے سماج کے سب سے نچلے طبقے کی نمائندگی کرتے ہوئے زندگی کی تمام تر مشقتوں، غموں اور دکھوں کو سہنے کے باوجود سب سے زیادہ روشن خیال اور انسانی اقدارکی جیتی جاگتی تصویر ہے۔

حلیمہ کا کردار صنفی نا انصافیوں اور مذہبی منافقتوں کا استعارہ تو ہے لیکن اس کا سب سے اہم پہلو اس کی طبقاتی پہچان ہے۔ اس کا تعلق معاشرے کے اس نچلے طبقے سے ہے جس کی عورتیں امرا اور متوسط طبقے کے گھروں میں کام کاج کر کے اپنی زندگی کے دن پورے کر رہی ہیں۔

حلیمہ اور اس جیسے اور لوگ اپنے نظام کا سب سے ارزاں پرزہ ہیں اور صبح شام اس مشینری کو چلانے کی کوشش میں ہیں جو اب خاصی خستہ حالت میں ہے۔ اس معاشرے میں لوگ ذاتی طور پر تو ان کے ہمدرد ہو سکتے ہیں لیکن وہ انہیں اس طبقاتی جال سے باہر نکالنا بھی نہیں چاہتے۔ اس طرح یہ طبقہ اس سماجی جال میں ایک کیڑے کی طرح رینگنے میں مصروف ہے اور اسے اپنی قسمت کا لکھا سمجھ کر اس سے باہر بھی نہیں آنا چاہتا کہ یہ اس کے بس کا روگ نہیں ہے۔

ناولٹ کا دوسرا بڑا کردار حلیمہ کا بیٹا کیڑو ہے۔ وہ پاکستان میں مذہبی جنو نیوں سے بمشکل اپنی جان بچا کر کینیڈا آ گیا تھا کیوں کہ وہ عیسائی تھا۔ یہاں آ کر محنت مزدوری کرتا رہا اور اب ایک گارمنٹس کمپنی کا مالک ہے۔ اس نے اپنی ماں کو بھی یہیں بلالیا ہے جو اب اس کے ساتھ ہی رہتی ہے اور اس کا اور اس کے دوستوں کا خیال رکھتی ہے۔

لوگ اکثر اس کے عجیب و غریب نام کی وجہ تسمیہ پوچھتے ہیں جو اسے خود بھی معلوم نہیں۔ کیڑو کی رفیق کار نائلہ جب حلیمہ سے پوچھتی ہے کہ اس نے اپنے بیٹے کانام کیڑو کیوں رکھا تووہ کہتی ہے: ”ارے بیٹی، ہم کیڑے مکوڑوں کو نیچ سمجھتے ہیں، مگر کیڑے چھپ چھپا کر جینا جانتے ہیں ۔ اپنے مقصد کے پورے، سخت جان بہت چھوٹے، بڑے، رینگتے، چلتے، اڑتے ، قسمیں گنی نہیں جاتیں۔“

اس کی دانست میں کیڑے صرف انسان کے اردگرد ہی نہیں خود اس کے اندر بھی ہوتے ہیں: ”ساتھ یہ کہ میں نے دیکھا، کیڑا ہر جگہ ہے، اندر بھی اور باہر بھی۔ جسم کے جراثیم ہمارے اندر بستے ہیں۔ باہر میں جہاں گئی ہوں، چلتی، اٹھتی، بیٹھتی، گرتی، پڑتی، سوتی، کھاتی، ہر جگہ ہر ٹائم کیڑے میرے ساتھ رہے ہیں۔ بائبل میں لکھا ہے، دنیا آخر مسکینوں کی ہے، مطبل انہی کیڑوں کی ہے۔“

یہاں اس کا استدلال یہ ہے کہ چونکہ کیڑے اپنی ذات میں گری پڑی مخلوق ہوتے ہیں اس لئے وہ بھی ایک طرح سے مسکینوں میں شامل ہیں۔ اس کے نزدیک اس نام کا ایک فائدہ یہ بھی ہے کہ اس سے بیٹے کے مذہب یا فرقے کا اندازہ نہیں لگایا جا سکتا اور یہ معلوم نہیں ہو سکتا کہ وہ مسلمان ہے، ہندو ہے یا عیسائی ہے۔

نائلہ جسے کیڑو آنٹی کہہ کر بلاتاہے عمر میں اس سے کچھ ہی بڑی ہے۔ عرصے سے اس کی اسسٹنٹ ہے اور کمپنی کو بڑی پیشہ ورانہ سوجھ بوجھ سے چلا رہی ہے۔ پاکستانی پنجاب کی ایک اردو سپیکنگ فیملی میں پلی بڑھی اور جوان ہوئی تو کینیڈا میں ایک ملازم پیشہ رحیم سے شادی کرکے اسے یہاں بھیج دیا گیا۔

کہنے کو تو وہ رحیم کی بیوی ہے لیکن عملاً اس کی حیثیت کسی گھریلو ملازمہ سے بھی بدتر ہے۔ یہ روداد اسی کی زبانی:

”رحیم نے مجھے اتنے سال دبا کر رکھا، اکیلی کو گروسری سٹور تک جانے کی اجازت نہیں تھی۔ کوئی جاب، ٹریننگ یا کورس نہیں کرنے دیا۔ صبح کام پر جاتا تو ٹی وی کی تاربریف کیس میں رکھ کے ساتھ لے جاتا کہ میں اپنی مرضی کا کوئی پروگرام نہ دیکھ لوں۔ گروسری سٹور، گیس سٹیشن پہ مفت اخبار رکھے ہوتے ہیں، میٹرو وغیرہ، وہ بھی پکڑتی تو کہتا، انگلش ہے، پڑھ لیں گی آپ؟ ماں باپ کے گھر، لاہور، میں سوچتی تھی، چلو عمر کا بڑاہے مگر اتنے سال سے باہر رہتا ہے کچھ تو روشن خیال ہو گا۔ میرے پاس اور کوئی چوائس بھی نہیں تھی۔“

ناولٹ کی مصنفہ اس کردار کے ذریعے صنفی جبر کے وہ گوشے سامنے لانا چاہتی ہے جہاں عورت مرد کی ناانصافیوں کا شکار ہے کیوں کہ وہ اس کی اقتصادی طور پر محتاج ہے۔ مگرنائلہ اب اس زندگی سے تنگ آ چکی ہے اور ایک دن فیصلہ کرلیتی ہے کہ وہ اس جبر کومزید نہیں سہہ سکتی خواہ اسے شیلٹر ہی کیوں نہ جانا پڑے۔

اسی دوران رحیم مفلوج ہوکر بستر تک محدود ہوجاتا ہے اور نائلہ کیڑو کی کمپنی میں کام شروع کر دیتی ہے۔ نائلہ کے کردار کی صورت میں یہاں قاری کا تعارف اکیسویں صدی کی ایک پراعتماد اور محنتی عورت سے ہو رہا ہے جو اپنے فیصلے خود کرنے پر قادر ہے اور جبر کی بندشوں سے آزاد ہو کر ایک نئی اڑان پر روانہ ہو چکی ہے۔

سماجی تفریق اور ذات پات کی فصیلیں بھی اس داستان کے عنوانات ہیں جسے مصنفہ نے کئی کرداروں کے سہارے بڑی خوبصورتی سے ناولٹ کا حصہ بنایا ہے۔ نائلہ کیڑو کی شادی اپنی چھوٹی بہن سے کرانے کی خواہش مند ہے لیکن یہ بات کیوں آگے نہ بڑھ سکی، یہ کہانی وہ خود بیان کر رہی ہے:

”کیڑو بہت ڈیسنٹ آدمی ہے۔ جب اس نے گھر لے لیا تو میں نے سوچا، اپنی چھوٹی بہن کی شادی اس سے کرادوں۔ رحیم سے بات کی، اس نے کہالڑکا تو ہیرا ہے مگر ہیں یہ پنجاب کے مصلی، توبہ توبہ، کبھی رشتہ نہ کرے میری فیملی مصلوں میں۔ کیڑو مجھے اچھا لگتا ہے، عزت بھی کرتی ہوں، مگر وہ بات؟ طبعیت نہیں مانتی۔ رحیم کو اندازہ ہے، اسی لئے اس کے ساتھ ریلیکس ہے۔ ویسے بھی وہ عمر میں ہم دونوں سے چھوٹا ہے۔ دونوں سے زیادہ کالا ہے، ہم سید ہیں، وہ مصلی ہے۔ اس لئے رحیم اپنے آپ کو کیڑو سے اونچا سمجھتا ہے۔“

پاکستانی تارکین اپنے وطن کی سرحدیں پار کر کے بھی اپنے سماجی بندھنوں کا بوجھ اٹھائے ذات اور سماجی رتبوں کی سرحدوں کو عبور نہیں کرنا چاہتے۔ یہ وہ سماجی سرحدیں ہیں جو کیڑو کی نظر میں یہاں بھی ان کا ساتھ نہیں چھوڑتیں: ”دلجیت جی، میں اور میری ماں، ہم مصلی ہیں، آپ کی طرف شائد دلت کہتے ہوںگے۔ ہمارے بڑے نیچی ذات کے ہندو تھے جو چھوت چھات سے بچنے کے لئے مسلمان ہوئے، مگر چھوت چھات نے آج بھی، یہاں ہمارا پیچھا نہیں چھوڑا۔“

کیڑو اور دلجیت جنہیں دنیا دوست سمجھتی ہے، اب اس گارمنٹس کے کاروبار میں پارٹنر اور ہم جنس ساتھی بھی ہیں۔ یہاں کیڑو اپنی شخصیت کا تجزیہ کچھ اس طرح کر رہا ہے جس سے اس کے جنسی رجحان کااندازہ بھی ہوتاہے: جس قسم کے مرد سے مجھے نفرت سکھائی گئی تھی، وہی میں اپنے اندر دیکھنا نہیں چاہتاتھا۔ اس سے بڑی کیا اذیت ہو سکتی ہے کہ انسان کو اپنی اصلیت سے خود نفرت کرنے پر مجبور کر دیا جائے۔ یہ بھی کہنا پڑے گا کہ یہ وہی پروپیگنڈہ مشینری ہے جو یہ بھی کہتی ہے کہ میری پوری ذات کمینی ہے، نیچ ہے، کہتی ہے، کچھ عقیدے نیچ ہیں، کچھ انسان نیچ ہیں۔“

حلیمہ، نائلہ اور ازابیلا کو دونوں کی اس ’دوستی‘ کا راز معلوم ہوتا ہے تو ابتدائی حیرت کے باوجود حلیمہ سمیت سب اس حقیقت کو تسلیم کرلیتے ہیں۔ حلیمہ تو اب ان دونوں کی شادی کی فکر میں بھی ہے۔ ادھر دلجیت جو سکھ ہے، مذہبی ہم آہنگی کو زندگی کا ماخذ سمجھتا ہے اور تعصب کوانسانیت کا روگ: ”کچھ تو انسان ہوتے ہیں، کچھ ہوتے ہیں سکھ، مسلمان، ہندو۔ یہ دور سے نظر آ جاتے ہیں۔ داڑھیوں اور پگڑیوں والے کہتے ہیں، ہٹ جاو، ہم سکھ ہوتے ہیں۔ ڈنڈوں اور بندیوں والے کہتے ہیں، ہٹ جاو، ہم ہندو ہیں۔ داڑھیوں ٹوپیوں والے کہتے ہیں، ہٹ جاو، ہم مسلمان ہیں۔ یہ بات میرے من نہیں لگتی۔“

ہندوستان کی طرح کینیڈا بھی ایک زمانے میں برطانوی راج کا حصہ تھا۔ پھر یہاں کے گوروں نے اپنے ہی گورے آقاﺅں کومار بھگایا اور اس کے اصل باشندوں کو بے دخل کر کے علاقے پر قابض ہو گئے۔ نائلہ کے لئے یہ تاریخی حقیقت بھی کمزور اور طاقتور انسانوں کے درمیان کشمکش کا ایک حصہ تھی: ’اگلے دن پیر تھا، یکم جولائی، کینیڈا ڈے ۔ آج کے دن 1868ءمیں اس علاقے میں انگریزوں کے تین صوبوں نے ایک ہو کر کینیڈا کا ملک بنایا۔ آج کے دن مقامی لوگوں سے یہ زمین چھین لی گئی۔ سامراج کی جیت تھی اور عوام کی ہار۔ ظالم کی جیت اور مظلوم کی ہار۔“

ہندوستان سے آئے ہوئے ان لوگوں نے اپنے معاشروں میں پھیلے تعصبات اور نفرتوں سے نجات تو حاصل کر لی جو وہیں رہ گئیں لیکن یہاں بھی انہیں رنگ و نسل کی تفریق کا سامنا تھا۔ ان تعصبات سے دیسیوں کو روزانہ دکانوں اور دفتروں میں واسطہ پڑتا ہے۔ نائلہ کو اپنے ساتھ ایک گروسری سٹور کے کیشئر کا سلوک ابھی تک یاد تھا: ”اس نے نتھلی پہنی ہوئی تھی، میں نے کہا ، پریٹی نوز رنگ، تو وہ تھینک یو کہتے کہتے ایک سیٹ دو دفعہ سکین کر گئی۔ میں نے اسے بتایا، کہتی ہے ، نہیں۔ میں نے کہا، چیک کر کے دیکھو، اس کی سپروائزر بھی آ گئی ۔ چیک کیا، اس کی غلطی تھی، تو سپر وائزر کو کہتی ہے، یہ انگلش ٹھیک نہیں بولتی، مجھے اس کی بات سمجھ نہیں آئی۔“

وہ اس حقیقت کو بڑی اچھی طرح جان گئی ہے کہ زبان چاہے کوئی بھی ہواسے دیسی اور گورے ایک بہانے کے طورپر استعمال کرتے ہیں۔ اصل مسئلہ کچھ اور ہوتاہے اور زبان کا مسئلہ صرف اپنی کمزوریوں کو دوسروں پر لادنے کی ایک صورت ہے۔ اس کے لئے ماں بولی ہر شخص کی تاریخ کا حصہ ہوتی ہے جسے شخصیت سے الگ کرنا ممکن نہیں ہے۔

اس ناولٹ کے پانچ باب اس کے پانچ کرداروں کی کہانیاں ہیں جن میں دو مرد ہیں اور تین عورتیں۔ یہ تمام لوگ ڈرامے کے ان کرداروں کی طرح ہیں جو ایک ایک کر کے اپنی کہانی سنانے سٹیج پر آتے ہیں لیکن غائب ہونے کے بجائے اپنا بھرپور تاثر ناظرین کے ذہنوں میں چھوڑ جاتے ہیں۔

تیکنیکی لحاظ سے کردار نگاری، عوامی لب و لہجہ اور منظر نگاری اس کتاب کے اہم پہلوہیں۔ مصنفہ ایک ماہر ناول نگار کی طرح ہر کردار کو اس کے تمام زاویوں سے پرکھتی ہے اور اسے کہانی میں نگینے کی طرح جوڑ دیتی ہے۔ وہ کردار نگاری کو اس قدر اہمیت دیتی ہے کہ چھ میں سے پانچ ابواب کے عنوانات بھی کرداروں کے نام پررکھتی ہے۔

ہر باب کا کردار اپنی داستان خود بیان کرتاہے۔ یہاں خودکلامی یا ’Soliloquy‘ ناول نگار کی پسندیدہ تکنیک ہے جسے فلیش بیک کی آمیزش ایک تمثیلی شکل دیتی ہوئی نظر آتی ہے۔ کردار نگاری اتنی پر اثر ہے کہ کہانی کے ہر فرد کی ایک مکمل تصویر کھینچ دی گئی ہے۔

ناولٹ کی زبان صرف قاری سے ابلاغ کا طریقہ کار ہی نہیں کردار کے ماحول اور اس کی تہذیبی رواتوں کا آئینہ بھی ہے۔ یہی وجہ ہے کی ہر کردار کی زبان ایک الگ لہجہ لئے ہوئے ہے۔ زبان کے علاوہ منظر نگاری اور اردگرد کے ماحول کی عکاسی نے کرداروں کو اور بھی نکھار دیا ہے۔ کہا جا سکتا ہے کہ کردارنگاری، زبان و لہجے کی سچائی اور منظر نگاری کے امتزاج نے ناولٹ کو زندگی کے حقیقی رنگوں سے قریب تر کر دیا ہے۔

یہ تمام کردار اپنے اپنے ماضی کے نفسیاتی بیگج کے ساتھ ہجرتوں کے نت نئے تجربات سے گزرے ہیں جو ان کی شخصیت کا حصہ ہیں۔ لیکن ان سب میں ایک خاصیت مشترک ہے۔ جو ناروا سلوک اور پابندیاں انہوں نے اپنے ماحول میں دیکھی تھیں وہ اب ان سے ہزاروں میل پیچھے رہ گئی ہیں۔ ان کا نیا سماج اگرچہ نسلی تفریق، صنفی ناانصافیوں اور مذہبی نفرتوں سے پاک تو نہیں لیکن اب یہ اپنے معاشروں کیطبقاتی اور ذات پات کی ان زنجیروں سے آزاد ہیں جن سے وہ زندگی بھر نجات حاصل نہیں کر سکتے تھے۔

یہ ناولٹ انڈیا اور پاکستان کی اس نسل کی داستان ہے جو بٹوارے کے آس پاس پیدا ہوئی اور پھر کینڈا چلی آئی تھی اور اب یہی اس کا وطن ہے۔ اس کے کردار ہندوستان کی تقسیم کے وہ وارث ہیں جو نہ صرف اپنے سماج کی چکی میں پس کر نکھر گئے ہیں بلکہ ایک نئے سماج کی نسلی اور لسانی تفریق کے مر حلوں سے بھی کامیاب و کامران گزر چکے ہیں۔ ناولٹ کے آخری باب میں یہی سب لوگ اپنے دکھوں اور غموں کی دنیاوں سے پرے دور دیس میں اپنی ایک الگ دنیا بسا کر ایک دوسرے کو اس کی خامیوں اور خوبیوں کے ساتھ قبول کر کے زندگی گزار رہے ہیں۔

فوزیہ رفیق کا یہ ناولٹ دیسی اور پردیسی سماجوں کے کئی پس پردہ گوشوں کو آشکار کرتا ہے۔ کہانی میں ذات پات کی تفریق، عورت کا استحصال، مذہبی تشدد، طبقاتی جبر، جنسی رویے اور رنگ و نسل کے تعصبات کے وہ مسائل ہیں جن کا اظہار دیسی ادب میں بہت کم نظر آتا ہے۔

پا نچ دیسیوں کی یہ داستان پڑھ کر مجھے محسوس ہوا کہ دھان پان سی وہی لڑکی جس نے اپنی شعوری زندگی کا آغاز لاہور سے کیاتھا، ایک لمبے سفر کی دھوپ چھاوں سے گزر کر کندن بن چکی ہے!

Qaisar Abbas

ڈاکٹر قیصرعباس روزنامہ جدوجہد کی مجلس ادارت کے رکن ہیں۔ وہ پنجاب یونیورسٹی  سے ایم اے صحافت کے بعد  پاکستان میں پی ٹی وی کے نیوزپروڈیوسر رہے۔ جنرل ضیا کے دور میں امریکہ آ ئے اور پی ایچ ڈی کی۔ کئی یونیورسٹیوں میں پروفیسر، اسسٹنٹ ڈین اور ڈائریکٹر کی حیثیت سے کام کرچکے ہیں۔ آج کل سدرن میتھوڈسٹ یونیورسٹی میں ایمبری ہیومن رائٹس پروگرام کے ایڈوائزر ہیں۔