دنیا

داخلی سامراجیت موجودہ ہندوستان کی نئی حقیقت ہے: راج موہن گاندھی

قیصر عباس

مہاتما گاندھی کے پوتے راج موہن گاندھی نے کہاہے کہ داخلی سامراجیت آج کے ہندوستان کی تلخ حقیقت ہے جس نے اکیسویں صدی میں ایک نئے سامراج کا روپ دھار لیا ہے۔ اندرونی نو آبادیات کی طرز پر یہ نظام آزادی کے بعد نہ صرف انڈیا بلکہ دنیا کے کئی ملکوں کے سماجی رشتوں میں نفرتوں کے بیج بو رہا ہے۔

ان کا کہنا ہے کی انڈیا میں یہ نیا نظام مختلف طریقوں سے ملک کی جڑیں کھوکھلی کر رہاہے جو انسانی مساوات اور سماجی ہم آہنگی کے منافی ہے۔ اس نئے نظام کو مختلف ناموں سے جانا جاتا ہے جس میں نسلی قومیت یا ’Ethno Nationalism‘ بھی شامل ہے۔ اس انداز فکر کے مطابق یہ باور کرایا جاتا ہے کہ ملک ایک طاقتور مذہبی اکژیت کے لئے ہی قائم ہوا ہے۔

ان کے نزدیک ”آج کا منترہ یہ ہے کہ جس طرح امریکہ میں سفیدفام اکثریت کو ملک کا اقتدار سنبھالنے کا حق حاصل ہے اسی طرح بھار ت میں بھی ہندو اکثریت ہی ملک کی اصل حکمران ہے۔ یہ پرانی سامراجیت کی ایک نئی شکل ہے۔“

راج موہن گاندھی واشنگٹن ڈی سی میں انڈین ڈیاسپرا (Indian Diaspora in Washington DC)کے ایک ورچوئل پروگرام میں ’داخلی سامراجیت: ایک نئی حقیقت‘ کے موضوع پر گفتگو کر رہے تھے۔ پروگرام کی نظامت رضی الدین رضی نے کی اور مقرر کا تعارف طارق فاروقی نے کرایا۔

راج موہن عام طور پرگاندھی جی کے پوتے کے طورپر جانے جاتے ہیں لیکن وہ برصغیر کی تاریخ، بٹوارے اور سیاست پر بذات خود ایک دانشور اور تاریخ دان ہیں۔ ایک معروف سکالر اور سیاست دان کی حیثیت سے وہ بھارت کے ایوان بالا راجیہ سبھا کے رکن بھی رہ چکے ہیں اور آج کل ان کا تعلق ’عام آدمی پارٹی‘سے ہے۔

وہ امریکہ میں ’University of Illinois Urbana-Champaign‘ میں تاریخ کے تحقیقی پروفیسر ہیں۔ وہ ہندوستان کی سیاست اور تاریخ پر ایک درجن سے زیادہ کتابوں کے مصنف ہیں اور شخصیات کی سوانح حیات کے ذریعے تاریخ کے پوشیدہ گوشوں کو اپنے قارئین تک پہنچاتے ہیں۔ وہ برصغیر کی کئی مسلمان شخصیتوں پر ایک کتاب ’Understanding the Muslim Mind‘ بھی تصنیف کر چکے ہیں جن میں سرسیداحمدخان، محمد علی جناح، علامہ اقبال، فضل الحق، محمدعلی، ابولکلام آزاد، لیاقت عل خان اور ذاکرحسین شامل ہیں۔ اس کے علاوہ انہوں نیف’Ghaffar Khan: Nonviolent Badshah of the Pakhuns‘ کے عنوان سے عبدالغفار خان کی سوانح حیات بھی تحریر کی ہے۔

ان کے خیال کے مطابق اکیسویں صدی میں سامراجیت کو مختلف طریقوں سے نافذ کیا جاتا ہے۔ لو جہاد بھی اس کی ایک شکل ہے جس کو آج کل انڈیا کی کئی ریاستوں میں قانونی شکل دی جا رہی ہے۔ اس قانون میں مذہبی بنیادوں پرنفرتیں پیدا کی جاتی ہیں تا کہ شادی اور محبت جیسے انسانی جذبوں کو مذہب کے نام پر قربان کیا جائے۔

ان کا کہنا تھا کہ ”داخلی سامراجیت کے اس نظام کے تحت انڈیا میں سپریم کورٹ اہم مسائل پرفیصلے کرتاہے جن کے اثرات کروڑوں شہریوں کی زندگیوں پر پڑتے ہیں۔ ٹیکس افسران سیاسی مخالفین پر الزامات لگا کر انہیں گرفتار کرتے ہیں، پارلیمان اہم مسئلوں پر بحث سے انکار کرتا ہے اور پولیس قاتلوں کے بجائے مقتول کے رشتہ داروں سے تفشیش کرتی ہے۔“

اس نئے نظام کو مکمل طورپر لاگو کرنے کے لئے ان کی رائے میں ”ملک کا وزیر اعظم میڈیا کو پوری طرح کنٹرول کرتا ہے اور ملک بھر میں سڑکوں پر بل بورڈز کے ذریعے سرکاری نقطہ نظر کا اظہار کیا جاتا ہے۔ ملک کے میڈیا اقلیتوں کے بارے میں زہریلا موادنشر کرتے ہیں اور ان پر کوئی پابندی عائد نہیں کی جا سکتی۔ انٹرنیٹ کے کنٹرول کے ذریعے لوگوں کو خاموش کیا جاتا ہے جس طرح آج کل کشمیر میں کیا جا رہا ہے۔ یونیورسٹیز میں دانشور وں کو سرکاری نقطہ نظر کی تشہیر پر مجبور کیا جاتا ہے۔ طلبہ اور صحافیوں کو خوف زدہ کرنے کی کوشش کی جاتی ہے۔“

بابری مسجد کے انہدام کو انہوں نے ایک مذہبی استحصال قرار دیتے ہوئے کہا کہ ”اس سال پانچ اگست کو وزیراعظم مودی نے ایودھیا مسجد کے احاطے میں رام مندر کی تعمیر کا افتتاح کرتے ہوئے بیان دیا کی یہ دن پندرہ اگست ہی کی طرح اہم ہے جب انڈیا آزاد ہوا تھا۔“ اس طرح ایک منتخب حکومت کے سربراہ نے مذہبی اکثریت کے مفادات کو ہندوستان کی آزادی سے منسلک کرنے کی کوشش کی تاکہ اسے ایک سیاسی سطح پر لایا جائے۔

ان کا کہنا تھا کہ ”گزشتہ سال سپریم کورٹ نے اپنے فیصلے میں بابری مسجد کے انہدام اور اس میں رام کی مورتیاں رکھنے کو غیر قانونی قرار دیا لیکن اس کے باوجود یہاں مندر بنانے کی اجازت دی گئی جو اخلاقی اور قانونی لحاظ سے ایک ناقابل فہم فیصلہ تھا۔“

اس نئے سامراجی تصور کے تاریخی پس منظر کی وضاحت کرتے ہوئے انہوں نے کہاکہ انڈیا میں طاقتور ہندو ریاستیں ہمیشہ سے موجود تھیں لیکن ملک گیر پیمانے پرایک متحدہ ہندوستانی سلطنت کبھی قائم نہیں ہوئی تھی۔ اس تار یخی حقیقت کو تبدیل کرتے ہوئے پروپیگنڈہ کیا جا رہا ہے کہ مسلمان حکمرانوں نے ہندو سلطنت کوتباہ کر کے انڈیا میں گیارہویں اور بارہویں صدی میں غلامانہ نظام کی بنیاد رکھی تھی۔

انہوں نے مزید کہا کہ اندونی سامراجیت کے تحت تاریخی نفرتوں کو استعمال کر کے جذبات کو ہوا دی جاتی ہے۔ یورپی ملکوں میں ایک زمانے میں یہودیوں کے خلاف نفرت موجود تھی جسے آج مسلمانوں کے خلاف نفرت میں تبدیل کیا جا رہا ہے۔ بالکل اسی طرح ”بر صغیر میں بھی بٹوارے سے پہلے برطانوی سامراج کے خلاف جو نفرت تحریک آزادی کے دوران دیکھی گئی اسے آج کے انڈیا میں اقلیتوں کے خلاف جذبات بھڑکانے کے لئے تبدیل کیا جارہا ہے۔“

انہوں نے نہ صرف داخلی استعماریت کے حربوں کی تفصیل بیان کی بلکہ اس پر قابو پانے کے عملی طریقوں کی وضاحت بھی پیش کی۔ ان کی نظر میں تین بنیادی افکار پر عمل کرتے ہوئے ہم اس سامراجی نظام کو ختم کرسکتے ہیں:

1۔ معاشرتی ہم آہنگی

سماجی اتحاد کے ذریعے نسلی، مذہبی اور ثقافتی دوریوں کو ختم کرنے کی کوششیں کی جانی چاہئیں۔ تمام سماجی اکائیوں کے تاریخی اور ثقاتی ورثوں کی پہچان اس کوشش کا پہلا قدم ہے۔ امریکہ میں رہنے والے دیسی مارٹن لوتھر کنگ اور مہاتما گاندھی کی مساوات اور عدم تشدد کی تحریکوں سے بخوبی واقف ہیں لیکن وہ سیاہ فام امریکیوں سے دور رہتے ہیں۔ ضروری ہے کہ تمام سماجی گروپس کے درمیان یکساں بنیادوں پر مفاہمت کے پل تعمیر کئے جائیں۔

مفاہمت کے یہ پل مسلمانوں اور ہندوؤں کے درمیان بھی بنائے جا سکتے ہیں۔ گاندھی نے ’ایشور اللہ تیرے نام‘ کا نعرہ لگا کر ہندو مسلم اتحاد پر زور دیا تھا۔ نئے دور میں ہمیں مذاہب اور ان کے درمیان تعاون کے نئے زاویے تلاش کرنا ہوں گے۔

2۔ سچائی کی حمایت:

ہمیں ہر حالت میں سچائی کی ساتھ کھڑے رہنے کی ہمت رکھنا ضروری ہے تا کہ نئے سامراج کے جھوٹ سے لوگوں کو آشنا کیا جائے۔ انفرادی زندگی اور اپنے سماجی حلقوں میں تحریر و تقریر سے ہر سچائی کی حمایت کے ساتھ سامراجیت کے اس نئے چہرے کو بے نقاب کرنے کی کوشش جاری رہنی چاہئے۔

3۔ بھرپور مزاحمت:

ہم سیاسی ا ور مذہبی حلقوں کی جانب سے کئے جانے والے استحصالی حربوں کی ہر محاذ پر مخالفت کے ذریعے ہی نئے سامراج کو اپنی طاقت کا احساس دلا سکتے ہیں۔ مزاحمت ایک ایسی شمع کی طرح ہے جس سے دوسری شمعیں بھی جلتی ہیں۔ ہمیں لوگوں کے دلوں اور ذہنوں میں ایک ایسی شمع روشن کرنے کی ضرورت ہے جوسماج کی اس نئی سامراجیت کو ختم کرنے میں مدد کرے۔

Qaisar Abbas

ڈاکٹر قیصرعباس روزنامہ جدوجہد کی مجلس ادارت کے رکن ہیں۔ وہ پنجاب یونیورسٹی  سے ایم اے صحافت کے بعد  پاکستان میں پی ٹی وی کے نیوزپروڈیوسر رہے۔ جنرل ضیا کے دور میں امریکہ آ ئے اور پی ایچ ڈی کی۔ کئی یونیورسٹیوں میں پروفیسر، اسسٹنٹ ڈین اور ڈائریکٹر کی حیثیت سے کام کرچکے ہیں۔ آج کل سدرن میتھوڈسٹ یونیورسٹی میں ایمبری ہیومن رائٹس پروگرام کے ایڈوائزر ہیں۔