سوچ بچار

کامریڈ علی وزیر کے نام خط

امان اللہ کاکڑ

ڈئیر کامریڈ علی وزیر سرخ سلام!

امید ہے آپ خیریت سے ہوں گے لیکن یہ امید بے جا ضرور ہو گی کیونکہ آپ سلاخوں کے پیچھے قید ہیں۔ ہمیں پتہ ہے کہ آپکے ساتھ کونسا رویہ اختیار کیا جاتا ہے اور آپ کے خلاف کیسا کیسا ظلم کیا جاتا ہے۔ آپ زخمی وزیر ہیں۔ غمزدہ خاندان سے تعلق رکھتے ہیں مگر اب آپ کے سامنے کوئی زخم زخم نہیں، کوئی غم غم نہیں ہے۔ آپ حوصلوں کی چٹان ہیں۔

کامریڈ! ہمیں یہ بھی پتہ ہے کہ آپ کو کس جرم کی سزا دی جا رہی ہے۔ یہ سزا دینے والوں کو بھی بخوبی علم ہے کہ آپ کوئی مجرم نہیں ہیں۔

آپ کو قید کرنے والے بہتر جانتے ہیں انہوں نے صرف آپ کو قید نہیں کیا ہے بلکہ فاٹا میں دہائیوں سے جاری ظلم کے خلاف ہونے والی مزاحمت کے بہادر ترین ترجمان کوقید کیا ہے۔

آپ صرف علی وزیر نہیں ہیں آپ لاپتہ افراد کی ماؤں، بہنوں اور بیویوں کی آواز ہیں۔ آپ کسی جنگی جرم کے مجرم نہیں بلکہ امن کے داعی ہیں۔ آپ پشتون قوم کے قتل عام کو بند کرناے کیلئے صرف مطالبہ نہیں بلکہ عملی جدوجہد کر رہے ہیں۔

آپ ہر قسم کے جبر اور ظلم کے خلاف ہیں۔ آپ مظلوم قوموں کی آواز ہیں۔ آپ محنت کش طبقے کی آواز ہیں۔صرف یہی آپ کا جرم ہے۔

یہ آپ ہی بہتر جانتے ہیں کہ پ آپ کس حالت میں قید کاٹ رہے ہیں مگر صرف آپ قید میں نہیں۔ آپ کے ساتھ بہت ساری ماؤں، محنت کشوں اور مظلوم قوموں کے ارمان بھی قید ہیں۔ انکی آواز قید ہے، انکا ترجمان قید ہے۔ اس کا اندازہ آپ کی رہائی کیلئے کئے گئے مظاہروں سے لگایا جا سکتا ہے۔

کامریڈ! آپ ظلم کا خاتمہ چاہتے ہیں۔ اس نظام میں، اس ملک میں اس سے بڑا کوئی جرم نہیں ہے۔ آپ امن چاہتے ہیں۔ آپ دہشت گردوں اور دہشتگردی کے خلاف لڑ رہے ہیں۔ یہ سب بھی جرم ہے۔

…لیکن آپ کا ہنستا مسکراتا چہرہ ہمیں اعتماد دے رہا ہے کہ آپ کے ہاتھوں میں ڈالی گئی زنجیریں اور آپ کو پابند سلاسل کرنیو الا قید خانہ ہماری تحریک کو روک نہیں سکتے۔ ہم بھی آپ کو یہ باور کراتے ہیں کہ آپ صرف ایک علی وزیر نہیں ہیں۔

وسلام

امان اللہ کاکڑ

Aman Ullah Kakar

امان اللہ کاکڑ پلانٹ بریڈنگ اینڈ جینیٹکس (زراعت) کے طالب علم ہیں۔ قلعہ سیف اللہ سے تعلق ہے۔ طبقاتی جدوجہد کے کارکن اور بائیں بازو کی سیاست سے وابستہ ہیں۔