تاریخ

منٹو ترقی پسند ہے…یہ کیا بے ہودگی ہے؟

فاروق سلہریا

ایک دائیں بازو کے رجحانات رکھنے والا ادبی جتھہ حسن عسکری کی سرخیلی میں ہمیشہ سے اس کوشش میں لگا رہا کہ منٹو ان کے دھڑے سے تعلق رکھتا تھا۔ ادھر مارکس وادی تھے جو نہ منٹو کو پوری طرح اپناتے تھے نہ اسے رد کرتے تھے۔ ادبی مارکسسٹ لینن اسٹ وین گارڈ کی ایک ٹولی تو منٹو کو سرے سے رد بھی کرتی رہی ہاں البتہ ترقی پسند ادبی تحریک کے سرخیل فیض احمد فیض، کرشن چندر، سجاد ظہیر، عصمت چغتائی ایسے ادبی جن منٹو بارے خوب واقف تھے اور جانتے تھے کہ منٹو کا نام ”اردو ادب“ میں محمد حسن عسکری کے ساتھ چھپ جانے کا مطلب انحراف نہیں کیونکہ منٹو ڈنکے کی چوٹ پر اعلان کر چکا ہے: ”سعادت حسن منٹوترقی پسند انسان ہے…یہ کیا بے ہودگی ہے، سعادت حسن منٹو انسان ہے اور ہر انسان کو ترقی پسند ہونا چاہئے، ترقی پسند کہہ کر لوگ میری صفت بیان نہیں کرتے بلکہ اپنی برائی کا ثبوت دیتے ہیں“۔

اور منٹو کا ترقی پسند بن جانا کوئی اتفاقی حادثہ نہ تھا۔ ترقی پسندی کوئی عارضی نہیں بلکہ ایک متواتر عمل ہے۔ منٹو نوجوانی کے دور میں داخل ہوا تو اس عمل سے آشنا ہوا۔ خود منٹو اس کا اعتراف یوں کرتا ہے:

”دسویں جماعت میں دنیا کا نقشہ نکال کر ہم کئی بار خشکی کے رستے روس پہنچنے کی اسکیمیں بنا چکے تھے، حالانکہ ان دنوں فیروز الدین منصور بھی کامریڈ ایف ڈی منصور نہیں بنے تھے اور کامریڈ سجاد ظہیر شاید بنے میاں ہی تھے۔ ہم نے امرتسر ہی کو ماسکو متصور کر لیا تھا اور اس کے گلی کوچوں میں مستبد اور جابر حکمرانوں کا انجام دیکھنا چاہتے تھے۔ کڑہ جیمل سنگھ، کرموں ڈیوڑھی، یا چوک فرید میں زاریت کا تابوت گھسیٹ کر اس میں آخری کیل ٹھوکنا چاہتے تھے۔ کیل ٹیڑھی ہو جاتی یا ہتھوڑے کی ضرب اس کے بجائے ہماری کسی انگلی کو زخمی کر دیتی۔ اس کے متعلق سوچنے کی ضرورت ہی کہاں تھی۔ باری صاحب، اشتراکی ادیب باری، ہمارے گرُو تھے۔ سوچنا ان کا کام تھا“۔

”اشتراکی ادیب باری“ کو منٹو ”میرا دوست، میرا رہنما“ تسلیم کرتے ہوئے اعتراف کرتا ہے: ”یہ حقیقت ہے کہ مجھے تحریر و تصنیف کے راستے پر ڈالنے والے وہی تھے۔ اگر امرتسر میں ان سے میری ملاقات نہ ہوتی تو ہو سکتا ہے کہ میں ایک غیر معروف آدمی کی حیثیت میں مرکھپ گیا ہوتا، یا چوری ڈکیتی کے جرم میں لمبی قید کاٹ رہا ہوتا“۔

باری نے جب خلق نامی پرچہ جاری کیا تو اس پرچے کے مارکسی انقلابی مضامین نے پولیس کو چوکنا کر دیا۔ منٹو کا کہنا ہے کہ جب سرکاری مشینری حرکت میں آئی تو باری نے خلق کا دوسرا پرچہ نکال کر منٹو کے حوالے کیا اور خود روپوش ہو گئے۔

شائد یہ باری کا ہی اثر تھا کہ منٹو نے اپنے ابتدائی دور میں گورکی اور آسکروائلڈ ایسے سوشلسٹ ادیبوں کے تراجم کئے۔ منٹو انجمن ترقی پسند مصنفین کے جلسوں میں افسانے پڑھتا۔ 1933-38ء کے عرصہ میں لکھی گئی منٹو کی تحریریں کسی پیشہ ور مارکس وادی ادیب کے قلم سے نکلا ہوا پراپیگنڈہ معلوم ہوتی ہیں۔ ترقی پسند ادب کا ببانگ دہل اظہار منٹو نے گیشوری کالج بمبئی میں طالب علموں سے ایک خطاب کے دوران اپنے مخصوص انداز میں کرتے ہوئے کہا کہ بعض لوگ ادب جدید ”یعنی ترقی پسند ادب کو سعادت حسن منٹو بھی کہتے ہیں اور جنہیں صنف کرخت پسند نہیں وہ اسے عصمت چغتائی بھی کہہ لیتے ہیں“۔

اپنے ادبی دائرے کا تعین مزید کھل کر منٹو ایک جگہ ان الفاظ میں کرتا ہے: ”شرر کے ناول اور راشد الخیری کے قصے آج کل کے اکثر مصنفین کو بالکل بے جان معلوم ہوتے ہیں۔ پڑھنے والوں کی بھی یہی کیفیت ہے۔ مارکیٹ میں چلے جائیے، آج سے دس بیس برس پہلے کے لکھنے والوں کی کتابیں اسٹالوں پر بہت کم دکھائی دیتی ہیں۔ کرشن چندر، راجندر سنگھ بیدی، عصمت چغتائی اور سعادت حسن منٹو کی کتابیں ایم اسلم، تیرتھ رام فیروز پوری، سید امتیاز علی تاج اور عابد علی عابد کے مقابلے میں زیادہ پڑھی جاتی ہیں، اس لئے کہ کرشن چندر اور اس کے ہم عصر نوجوانوں نے زندگی کے نئے تجربے بیان کئے ہیں۔“

اور یہی وابستگی تھی جس کے باعث حکومت منٹو کو کمیونسٹ سمجھتی تھی۔ منٹو کی زبانی سنئے: ”مجھے آپ افسانہ نگار کی حیثیت سے جانتے ہیں اور عدالتیں ایک فحش نگار کی حیثیت سے۔ حکومت مجھے کبھی کمیونسٹ کہتی ہے اور کبھی ملک کا بہت بڑا ادیب“۔

اسی بات کو منٹو نے ایک جگہ انتہائی دلچسپ پیرائے میں بیان کیا ہے: ”چند روز ہوئے ایک صاحب مجھ سے ملنے آئے۔ میں نے نوکر سے کہا ”پوچھو کون ہے؟“ جواب آیا ”سی۔آئی۔ڈی کا آدمی“۔ ظاہر ہے کہ لاہور کا وارنٹ تھا لیکن جب میں سی آئی ڈی کے آدمی سے ملا اور اس سے کہا ”فرمائیے اب کے میری کس کہانی پر عذاب نازل ہواہے“ تو وہ جیسے کچھ سمجھا ہی نہیں۔ کہنے لگا ”ادھر ہم تپاس (پوچھ گچھ) کرنے آیا ہے تمہارا نام کمیونسٹ پارٹی کے آفس میں چوپڑی (کتاب) میں لکھا تھا۔ بولو تمہارا کیا تعلق ہے اس سے“۔

یہ سن کر مجھے تسلی ہوئی اور مذاق سوجھا ”چوپڑی سے یا کمیونسٹ پارٹی سے؟“
”کمیونسٹ پارٹی سے“۔
میں نے جواب دیا ”تعلق ہے مگر ناجائز“
”کیوں؟“
”اس لیے کہ تمہاری حکومت یہی سمجھتی ہے ورنہ تم تپاس کرنے کیوں آتے؟“
(کیا کسی مزید تپاس کی ضرورت ہے؟)

Farooq Sulehria

فاروق سلہریا روزنامہ جدوجہد کے شریک مدیر ہیں۔ گذشتہ پچیس سال سے شعبہ صحافت سے وابستہ ہیں۔ ماضی میں روزنامہ دی نیوز، دی نیشن، دی فرنٹئیر پوسٹ اور روزنامہ پاکستان میں کام کرنے کے علاوہ ہفت روزہ مزدور جدوجہد اور ویو پوائنٹ (آن لائن) کے مدیر بھی رہ چکے ہیں۔ اس وقت وہ بیکن ہاوس نیشنل یونیورسٹی میں اسسٹنٹ پروفیسر کے طور پر درس و تدریس سے وابستہ ہیں۔