دنیا

خدا حافظ ٹرمپ، خوش آمدید بائیڈن: اہم عہدوں پر اقلیتوں اور مسلمانوں کی نامزدگی

قیصر عباس

واشنگٹن ڈی سی میں غیر معمولی حالات کے دوران جو بائیڈن نے امریکہ کے 46 ویں صدر کی حیثیت سے حلف لے کر ڈیموکریٹک پارٹی کے چار سالہ دور کا آغاز کر دیا ہے۔ اس دن پورا دارالحکومت سکیورٹی اداروں کی سخت نگرانی میں تھا جہاں افغانستان اور عراق میں امریکی افواج کی مجموعی تعدادسے بھی زیادہ 25,000 نیشنل گارڈ تعینات تھے۔

یہ حفاظتی انتظامات جنوری کے اوائل میں ہزاروں بلوائیوں کے کانگریس کی عمارت پر حملے کے تناظر میں کئے گئے تھے جہاں کانگریس کے ارکان جوبائیڈن کے انتخاب کو آخری شکل دے رہے تھے۔ اس خوں ریز حملے میں پانچ افراد ہلاک ہوگئے تھے اور کانگریس کے ارکان کو محفوظ مقام پر پہنچاکر ان کی جان بچائی جاسکی تھی۔ اپنے حامیوں کو اس حملے پر اکسانے کے لئے ٹرمپ کو کانگریس کی جانب سے اپنے عہد کے دوسرے مواخذے کا سامنا ہے جس کا فیصلہ آنے والے دنوں میں کیا جائے گا۔

نئے صدر نے اس موقع پر قوم سے خطاب میں اتحاد، سماجی انصاف، اقتصادی مساوات اور ہم اہنگی پر زور دیتے ہوئے کہا کہ امریکہ آج تاریخ کے اس موڑ پر کھڑا ہے جہاں نہ صر ف ایک مہلک بیماری نے ہزاروں شہریوں کی جان لی ہے بلکہ ہماری قوم ہر طرح سے بٹی ہوئی ہے۔ انہوں نے وعدہ کیا کہ صدر کی حیثیت سے وہ امریکہ کو متحد کریں گے اور اس کے سماجی اور اقتصادی مسائل کو حل کریں گے۔

انہوں نے بتایا کہ نسلی تعصب اور لوگوں کے درمیان نفرت کی اجازت نہیں دی جا سکتی اور امریکہ ہمیشہ سماجی تصادم کے بعد ابھرنے کی صلاحیت رکھتاہے۔ انہوں نے یاد دلایا کہ کاملہ ہیرس ملک کی پہلی خاتون نائب صدر ہونے کے ساتھ اقلیتوں کی نمائندگی بھی کررہی ہیں۔

صدر بائیڈن نے یاد دلایا کہ کچھ ہفتوں پہلے تشدد کے ذریعے ہماری جمہوریت کو شدید نقصان پہنچانے کی کوشش کی گئی مگر آج ہم پھر متحد ہو کر امریکہ کے شاندار مستقبل کے لئے تیار ہیں۔ صدر نے کرونا وائرس میں ہلاک ہونے والے ہزاروں شہریوں کو خراج عقیدت پیش کرتے ہوئے ایک منٹ کی خاموشی اختیار کی۔

اس موقع پر انہوں نے عالمی اتحاد اور ہم آہنگی کو ملک کی اہم حکمت عملی قراردیا اور کہا کہ ان کی حکومت بین الاقوامی معاہدوں اور تعاون کے ذریعے تمام ملکوں کے ساتھ مل کر کام کرے گی۔

واشنگٹن ڈی سی میں امیریکن مسلم انسٹی ٹیوشن (AMI) کے بانی اور بورڈ کے صدر اسلام صدیقی صدر بل کلنٹن کی انتظامیہ میں انڈر سیکریٹری کے عہدے پر فائز تھے۔ وہ صدر براک ابامہ کی انتظامیہ میں ایگریکچر کے سفارت کار تھے اور گزشتہ سال جو بائیڈن کی انتخابی مہم کا حصہ بھی رہ چکے ہیں۔

انہوں نے روزنامہ جدوجہد کو بتایا کہ جو بائیڈن کی انتظامیہ سابق صدر ٹرمپ سے کئی لحاظ سے بہت مختلف ہو گی۔ ملک کی تاریخ میں پہلی بار ایک صدر کی ایما پر کانگریس پر حملہ کیا گیا جس کی امریکہ کی تاریخ میں کوئی مثال نہیں ملتی۔ یہ پہلا موقع ہے کہ سابق صدر نئے صدر کی تقریب میں شریک نہیں ہورہا۔ ان کا کہنا تھا کہ ”جو بائیڈن نے منگل کے دن واشنگٹن میں کرونا سے ہلاک ہونے والے 400,000 امریکیوں کی یاد میں ایک تقریب میں حصہ لیا جو سابق انتظامیہ اپنے چار سالہ دور میں بھی نہیں کر سکی“۔

ایک سوال کے جواب میں کہ نئی انتظامیہ مسلمانوں کے لئے کیا کرے گی انہوں کہا کہ ”صدارت سنبھالتے ہی جو بائیڈن مسلم ملکوں پر سفری پابندیاں ختم کریں گے جنہیں گزشتہ حکومت نے نافذ کیا تھا۔ نئی انتظامیہ دنیا بھر میں انسانی حقوق کے مسائل پرسنجیدگی سے کام کرنے کا ارادہ رکھتی ہے اور ہم امید کرسکتے ہیں کہ کشمیر میں انسانی حقوق کی پاسداری پر ٹھوس فیصلے کیے جائیں گے“۔

اسلام صدیقی کے مطابق نئی حکومت نے کئی سطحوں پر مسلمانوں کو انتظامیہ کا حصہ بناکر اہم ذمہ داریاں سونپی ہیں۔ ڈیپارٹمنٹ آ ف سٹیٹ (وزارت خارجہ) میں ایک کشمیری خاتون عذرا ضیا کو انڈر سیکریٹری مقرر کیا گیا ہے جو جمہوریت اور انسانی حقوق کے معاملات پر کام کریں گی۔ بنگلہ دیشی زائین صدیقی وائٹ ہاؤس میں ڈپٹی چیف آف اسٹاف کے سینئرایڈوائزر کے عہدے پر کام کریں گے جو ایک اہم ذمہ داری ہے۔ ریما دیودن وہ پہلی عرب خاتوں ہوں گی جو وائٹ ہاؤس میں قانونی امور کی ڈپٹی ڈائرکٹر ہوں گی۔ اس کے علاوہ پاکستانی نژاد علی زیدی بھی وائٹ ہاؤس میں موسمیاتی تبدیلی کے ڈپٹی ایڈوائزر کی حیثیت سے کام کریں گے۔

سابق صدر ٹرمپ نے آ خری وقت تک اپنی شکست تسلیم نہیں کی اورانتخابی نتائج کے خلاف لاتعداد مقدمات دائر کئے جن کو عدالتوں نے ثبوت نہ ہونے کی بنیاد پر رد کردیا تھا۔ جمہوری روایات کے خلاف انہوں نے حلف نامے کی تقریب میں بھی شرکت نہیں کی لیکن نائب صدر مائیک پنسن نے تقریب میں شرکت کی اور نئے صدر کو مبارکباد پیش کی۔

صدر بائیڈن جلد ہی امیگریشن اصلاحات کا ایک بل پیش کرنے والے ہیں جس میں تقریباً 11 ملین غیر قانونی تارکین وطن کو ایک مرحلہ وار طریقہ کا ر کے ذریعے ملکی شہریت دی جائے گی۔ یہ بل سابق صدر کی تارکین وطن کے خلاف سخت رویے کے رد عمل کے طورپرحکومت کی نئی پالیسیوں کا حصہ ہے۔ کہا جاتا ہے کہ اس قانون کے ذریعے لاطینی امریکہ کے تارکین کی ایک بڑی تعداد کوامریکی شہریت مل سکے گی۔

صدر کی نتظامیہ میں لسانی، نسلی اور تمام صنفی رویوں کے نمائندے شامل کئے گئے میں جس سے ظاہر ہوتا ہے کہ ان کی ٹیم پہلی بار امریکہ کے شہریوں کی مکمل نمائندگی کرے گی۔ صدر کے وزرا میں انتہائی تجربہ کار لوگ شامل ہیں تا کہ وقت ضائع کئے بغیر ملک کے اہم مسائل کو جلد از جلد حل کیا جائے۔

جو بائیڈن کی نئی ٹیم میں نسلی اور صنفی اعتبار سے ایشیائی، سیاہ فام، خواتین، مرد، لاطینی امریکی اور ہم جنس پرست افراد د شامل کئے گئے ہیں۔ کاملہ ہیرس خود بھارتی اور جمیکا نژاد ہیں جوملک کی پہلی خاتون نائب صدر ہیں۔ ٹرانسپورٹیشن کے نامزد سیکریٹری (جو امریکہ میں وفاقی وزیرکے برابر عہدہ ہے) پیٹ بیوٹیگج علی الاعلان ہم جنس پرست ہیں۔ صحت کی نائب سیکریٹری کے لئے ملک کی تاریخ میں پہلی بار جنسی تبدیلی کے بعد خاتون بننے والی ریچل لیوائن کو نامزد کیا گیا ہے جو پیشے کے لحاظ سے ایک ڈاکٹر ہیں اور پنسلوینیا میں فزیشن جنر ل رہ چکی ہیں۔

تعلیم کے سیکرٹری کے عہدے پر میگویل کارڈونا کو نامزد کیا گیا ہے جو لاطینی امریکی ہیں، سیکریٹری داخلہ کے لئے ڈیب ہالینڈنامزدکی گئی ہیں جونیٹو امریکن (ریڈ انڈین) کمیونٹی کی کسی اعلیٰ ترین عہدے پر پہلی بار نمائندگی کر رہی ہیں۔ سیکرٹری ڈیفنس کے لئے لائیڈ آسٹن کو نامزد کیا گیاہے جو سابق افریقی النسل فوجی جنرل ہیں۔

Qaisar Abbas

ڈاکٹر قیصرعباس روزنامہ جدوجہد کی مجلس ادارت کے رکن ہیں۔ وہ پنجاب یونیورسٹی  سے ایم اے صحافت کے بعد  پاکستان میں پی ٹی وی کے نیوزپروڈیوسر رہے۔ جنرل ضیا کے دور میں امریکہ آ ئے اور پی ایچ ڈی کی۔ کئی یونیورسٹیوں میں پروفیسر، اسسٹنٹ ڈین اور ڈائریکٹر کی حیثیت سے کام کرچکے ہیں۔ آج کل سدرن میتھوڈسٹ یونیورسٹی میں ایمبری ہیومن رائٹس پروگرام کے ایڈوائزر ہیں۔