سوچ بچار

کیفے ثول کے مینجر اویس کا اپنی مالکان عظمیٰ اور دیا حیدر کے نام کھلا خط

فاروق سلہریا

میڈم جی! سلام۔

اردو میں خط لکھنے پر معافی چاہتا ہوں۔

میڈم جی! میں ٹوئٹر پر ہوں نہ فیس بک پر۔ آپ کے خوبصورت کیفے میں کام کرتے ہوئے سوشل میڈیا کے لئے ہم ملازمین کووقت ہی کہاں ملتا ہے۔

میرا چھوٹا بھائی البتہ فیس بک پر کافی متحرک ہے۔ اسی نے مجھے بتایا کہ آپ نے ہماری وائرل ہونے والی ویڈیو جس میں میری انگریزی کا مذاق اڑایا جا رہا ہے، بارے ٹوئٹر پر یہ وضاحت دی ہے کہ آپ دونوں میرے ساتھ مذاق کر رہی تھیں اور یہ کہ میں نے اس بات کا برا نہیں منایا۔

میڈم جی! مجھے یاد ہے ویڈیو بنانے کے ایک دن بعد آپ نے مجھ سے پوچھا تھا کہ میں نے برا تو نہیں منایا اور میں نے کسی بھی مجبور ملازم کی طرح مودب ہو کر ’نو میڈم‘ کہا تھا…لیکن سچ بات تو یہ ہے کہ مجھے بہت برا لگا تھا۔

میڈم جی! کسی کی انگریزی کا مذاق اڑایا جائے یا اردو کا، رنگت پر جملے کسے جائیں یا شکل اور قد پر، برا تو لگتا ہے۔ پھر اگر مالک مزدور کے ساتھ ایسا کرے تو یہ مذاق کی بات نہیں ہوتی۔ اس کا مطلب ہے مالک ملازم کو ملازم نہیں، نوکر سمجھ رہا ہے۔ میڈم جی! ملازم اور نوکر کا فرق شائد آپ کو پتہ نہ ہو۔

رہی بات آپ کے ’مذاق‘ کی تو مصیبت یہ ہے کہ ہم مزدور لوگ مالکوں کے سامنے برا نہیں منا سکتے۔ اؤل تو ہنسی مذاق برابر کے لوگوں کے بیچ ہوتا ہے۔ دوسرا، اگر ہم نوکر چاکر اپنا مذاق اڑائے جانے پر برا منانے لگیں تو روٹی کہاں سے کھائیں گے۔

میرا بھائی جس کا ذکر میں نے اوپر کیا، وہ نمل یونیورسٹی میں پڑھتا ہے، اس کی فیس بھرنے کے لئے بھی اس طرح کے مذاق سہنا میری مجبوری ہے۔

میڈم جی! میں تو پھر خوش قسمت ہوں۔ میں اُن مزدور عورتوں بارے سوچ کر کانپ جاتا ہوں جنہیں اپنی نوکری بچانے کے لئے فیکٹری کے مالک اور فورمین کا مذاق ہی نہیں اور بھی بہت کچھ برداشت کرنا ہوتا ہے۔ ان عورتوں کے مالک اور فورمین بھی یہی کہتے پھرتے ہیں کہ یہ عورتیں، کچھ بھی کر لو، برا نہیں مناتیں۔

آپ کو یاد ہو گا پچھلے ہی سال الفلاح بینک کے ایک مینجر کی ویڈیو بھی وائرل ہوئی تھی۔ موصوف اپنی ایک کولیگ کے جسم میں ہاتھ گھسا رہے تھے۔ سنا ہے سوشل میڈیا پر متحرک لاکھوں اہلِ ایمان کا خیال تھا کہ عورت نے برا نہیں منایا ورنہ کوئی بھی عورت ہوتی تو ایسی حرکت پر شور مچاتی۔ شائد آپ نے بھی ایسا ہی سوچا ہو لیکن یقین کیجئے مجھے ایسا نہیں لگا۔ مجھے معلوم تھا اس عورت کے پاس برا منانے کا حق ہے نہ گنجائش۔

میڈم جی! برا تو چائلڈ لیبر کرنے والے وہ لاکھوں بچے بھی نہیں مناتے جو جسمانی تشدد بھی سہتے ہیں اور جنسی تشدد بھی۔

میرے، الفلاح میں نوکری کرنے والی خاتون اور چائلڈ لیبر کرنے والے بچوں کے پاس برا منانے کی آپشن ہی نہیں ہوتی۔

(میڈم جی! آپشن کا لفظ میں نے انگلش لینگویج کورس میں سیکھا تھا جس کی فیس آپ نے دی تھی)۔

میڈم جی! شائد آپ کو معلوم نہیں (کیونکہ میں ہمیشہ آپ سے چھپاتا رہا) کہ میں ٹریڈ یونین کے لئے بھی کام کرتا ہوں۔ ہمارے کچھ ساتھی یورپ کے ملکوں میں بھی رہتے ہیں۔ جب بھی یہ ساتھی پاکستان آتے ہیں تو ہمارے ساتھ سٹڈی سرکل کرتے ہیں۔ ایسے ہی ایک سٹڈی سرکل میں سویڈن سے آئے ایک ساتھی نے ہمیں بتایا تھا کہ کام کی جگہ پر فورمین یا مالک مزدور کے سر پر کھڑا نہیں ہو سکتا، یہ خلاف قانون ہے۔ اسے ورک پلیس ہراسمنٹ سمجھا جاتا ہے۔ ممکن ہے انگریزی بولنے والے ملکوں پر جس طرح کی ویڈیو آپ نے بنائی، اس پر آپ دونوں کو جرمانہ ہو جاتا۔

آپ دونوں کو ایک واقعہ سناتا ہوں۔ ہمارا ایک ساتھی ناروے میں رہتا ہے۔ ٹونی عثمان۔ پچھلی دفعہ جب کامریڈ ٹونی پاکستان آئے تو کیفے ثول بھی آئے۔ بعد میں مجھے کہنے لگے کہ تمہارے کیفے پر ملنے والی چیزیں تو ناروے سے بھی مہنگی ہیں۔ پھر میری اور باقی سٹاف کی تنخواہ پوچھی۔ تنخواہوں کی تفصیل سن کر بولے: ”کیفے ثول پر قیمتیں یورپ والی اور تنخواہیں پاکستان والی ہیں“۔

میڈم جی! مجھے اب کیفے ثول پہنچنا ہے اس لئے خط مختصر کرتا ہوں۔ آخر میں صرف اتنا کہنا چاہتا ہوں کہ لوگ آپ سے اس لئے ناراض ہو رہے ہیں کہ آپ نے ورک پلیس ہراسمنٹ کی ہے۔ میرا خیال تھا لوگ اس بات پر آپ کا مذاق اڑائیں گے کہ کرونا وبا کے اس خطرناک دور میں، اردو میڈیم ملازمین نے تو فیس ماسک پہن رکھا ہے مگر انگریزی میڈیم مالکائیں بغیر ماسک کے بیٹھی ہیں۔

فقط۔

                                                                                                                                                                                                                    اویس عطا

Farooq Sulehria

فاروق سلہریا روزنامہ جدوجہد کے شریک مدیر ہیں۔ گذشتہ پچیس سال سے شعبہ صحافت سے وابستہ ہیں۔ ماضی میں روزنامہ دی نیوز، دی نیشن، دی فرنٹئیر پوسٹ اور روزنامہ پاکستان میں کام کرنے کے علاوہ ہفت روزہ مزدور جدوجہد اور ویو پوائنٹ (آن لائن) کے مدیر بھی رہ چکے ہیں۔ اس وقت وہ بیکن ہاوس نیشنل یونیورسٹی میں اسسٹنٹ پروفیسر کے طور پر درس و تدریس سے وابستہ ہیں۔