خبریں/تبصرے

ڈینئل پرل کے قاتلوں پر امریکہ میں مقدمہ چلانے کا مطالبہ زور پکڑ گیا

قیصر عباس

امریکہ کے نئے وزیرخارجہ، سیکرٹری آف سٹیٹ، انتھنی بلنکن نے کہا ہے کہ ان کا ملک ڈینئل پرل کے قاتلوں پر مقدمہ چلانے کے لئے تیار ہے اگر انہیں ان کے حوالے کیا گیا۔ اس سے پہلے دسمبر میں امریکہ کے اٹارنی جنرل جیفری روزن بھی اسی قسم کے اشارے دے چکے ہیں۔

وزیر خارجہ نے کہا کہ ”ان کی حکومت پاکستان سے یہ امید رکھتی ہے کہ وہ اس مقدمے کے قانونی پہلوؤں کا جلد از جلد جائزہ لے تا کہ مقدمے کا فیصلہ انصاف کی بنیاد پر کیا جائے۔“ ان کے مطابق امریکہ ”مقدمے میں ملوث ملزم عمرشیخ پر مقدمہ چلانے پر تیار ہے۔“

حال ہی میں پاکستان سپریم کورٹ نے چار ملزموں کو امریکی صحافی ڈینئل پرل کے اغوا اور قتل کے الزام سے بری کر دیا تھا۔

اس سے پہلے تین ملزموں کو سزائیں سنائی گئی تھیں اورپاکستانی نژاد برطانوی باشندے عمر شیخ کو موت کی سزادی گئی تھی۔ لیکن گزشتہ سال اپریل میں ایک پاکستانی عدالت نے تین ملزموں کی سزائیں معاف کرکے عمر شیخ کی سزامیں بھی کمی کر دی تھی۔

ادھر واشنگٹن ڈی سی میں طاقتور نیشنل پریس کلب نے بھی سخت بیانات جاری کرکے پرل کے قاتلوں کو امریکہ کے حوالے کرنے کا مطالبہ کیاہے۔ کلب کی صدر لیسا میتھیوز کا کہنا ہے کہ ”ڈینئل پرل کا قتل ایک گھناؤنا جرم ہے اور اس میں ملوث تمام افراد کو قرارواقعی سزا ملنی چاہئے۔ حکومت پاکستان کو چاہئے کہ وہ صحافی کو اغواکرنے والوں کو امریکہ کے حوالے کرے تاکہ ان پر مقدمہ چلایا جائے۔ “

کلب کے جرنلزم انسٹیٹیوٹ کی صدر انجلاگریلنگ کین نے بھی بیان دیا ہے کہ ان ملزموں کو بری کرنے کا مطلب دنیا میں اس قسم کے جرائم کی مزید حوصلہ افزائی ہے ”آج جب کہ پوری دنیا میں صحافت پر پابندیاں عائد کی جارہی ہیں، ضروری ہے کہ صحافیوں کو نقصان پہنچانے والے ہر فرد کا مواخذہ کیاجائے“ انہوں نے مزید کہا۔

Qaisar Abbas

ڈاکٹر قیصرعباس روزنامہ جدوجہد کی مجلس ادارت کے رکن ہیں۔ وہ پنجاب یونیورسٹی  سے ایم اے صحافت کے بعد  پاکستان میں پی ٹی وی کے نیوزپروڈیوسر رہے۔ جنرل ضیا کے دور میں امریکہ آ ئے اور پی ایچ ڈی کی۔ کئی یونیورسٹیوں میں پروفیسر، اسسٹنٹ ڈین اور ڈائریکٹر کی حیثیت سے کام کرچکے ہیں۔ آج کل سدرن میتھوڈسٹ یونیورسٹی میں ایمبری ہیومن رائٹس پروگرام کے ایڈوائزر ہیں۔