تاریخ

09 فروری: پاکستانی طلبہ تاریخ کا سیاہ ترین دن

عمر رشید

9 فروری 1984ء کو پاکستان کی تاریخ کے بدنام زمانہ خونخوار آمر جنرل ضیا الحق نے ایک حکم سے طلبہ یونین پر پابندی لگا کر معاشرے کی قلیل، پڑھی لکھی اورباشعور نوجوان پرت کے جمہوری سیاسی پرورش کے ادارے کا قتل کیا۔ تمام سکولوں،کالجوں اور یونیورسٹیوں میں حقوق کیلئے اور ناانصافیوں کے خلاف بات کرنے سے جبری طور پر روک دیا گیا۔

اس سے پہلے ہر تعلیمی ادارے میں سالانہ بنیادوں پر طلبہ یونین کے الیکشن ہوتے تھے، طلبہ اپنا امیدوار اپنے پروگرام، منشور اور نعروں کے ساتھ سامنے لاتے تھے، الیکشن کمپئین چلائی جاتی تھی، تقریریں ہوتی تھیں، جلسے منعقد ہوتے تھے، مسائل کے حل پر طویل بحثیں ہوتی تھیں، عالمی سیاست، ملکی سیاست پر نظر رکھنے کیلئے طلبہ قیادت کتابوں اور اخبارات کا مطالعہ کرتی تھی، سٹڈی سرکل ہوتے تھے، شاعر، ادیب، لکھاری، کھلاڑی اور سیاست دان پروان چڑھتے تھے، جو بعد میں ملکی سطح پر اپنا کردار ادا کرتے تھے۔ جیتنے والا امیدوار اپنے سکول، کالج، یونیورسٹی کا ایک ذمہ دار، سنجیدہ، مدلل طلبہ کا جمہوری لیڈر اپنی کمیونٹی کے حقوق کی پاسداری کرتا تھا، ادارے کے انتظامی کاموں میں بڑھ چڑھ کر حصہ لیتا تھا، اس کے دستخط کے بغیر کوئی فیس نہیں بڑھ سکتی تھی، وہ طلبہ کے آگے جواب دہ ہوتا تھا۔ کوئی پروفیسر کسی فی میل سٹوڈنٹ کو جنسی طور پر حراساں نہیں کر سکتا تھا، کوئی چوکیدار، پولیس والا طالب علم کی عزت نفس مجروح نہیں کر سکتا تھا، کوئی سرکار طلبہ کے حقوق پر ڈاکہ نہیں ڈال سکتی تھی، طلبہ نہ صرف اپنے حقوق کا دفاع کرتے تھے بلکہ ملک گیر سطح پر سیاسی، معاشی پالیسیوں پر اثرانداز ہوتے تھے۔ (ایوب خان کے خلاف تحریک کا آغاز کرنے والے بھی طلبہ تھے) اس وقت کے طلبہ میں ایک خود اعتمادی، نکھار اور ذمہ داری نظر آتی تھی۔ طلبہ کی شخصیات پر عمر بھر اثرات رہتے تھے، تخلیقی، تعمیری سرگرمیاں زیادہ تھیں، تخریبی اور متشدد عناصر کم تھے کیونکہ گھٹن، حبس اور دباؤ کم تھا۔

امریکہ کے سائیکلون آپریشن کے تحت پاکستانی ریاست نے ڈالر جہاد کو فروغ دیا، اربوں ڈالر ہضم کرنے کیلئے منشیات اور کلاشنکوف کلچر کو سازش کے تحت تعلیمی اداروں میں پروان چڑھایا گیا، مخصوص ریاستی پشت پناہی پر غنڈہ گرد طلبہ تنظیموں کو پالا گیا، روشن خیال، ترقی پسند، انقلابی لٹریچر پر پابندی لگا دی گئی۔ انقلابی طلبہ قیادت کو جلاوطن کر دیا گیا، قید و بند اور جبر سے مزاحمت کو بے رحم انداز سے کچل دیا گیا۔ فرقے، علاقے، برداری، زبان، قوم کی بنیاد پر گروہ بندی کروائی گئی۔ بدمعاشی، قتل و غارت بھتہ خوری کو طلبہ کی سیاست کا مقصد بنا دیا گیا۔

طلبہ سیاست کو ان حکمرانوں نے شعوری طور پر بدنام کیا ہے۔ آج یہ پڑھے لکھے جاہل دانشور جو یہ دلائل دیتے ہیں کہ یونین سے پابندی ہٹنے پر طلبہ خراب ہو جائیں گے یا بدمعاشی کریں گے، وہ ان پابندی کے 37 سالوں کے اعدادوشمار اکٹھے کر لیں اور اس سے پہلے کا ڈیٹا لے لیں۔ تشدد، منشیات فروشی، قتل وغارت، جنسی بے راہ روی کے گراف کی تصویر سامنے آ جائے گی۔

آج سکرینوں پر نظر آنے والی تمام سیاسی پارٹیاں اور ان کی مہان قیادتیں طلبہ یونین پر عائد پابندی پر مجرمانہ خاموشی اختیار کیے ہوئے ہیں۔ گزشتہ سالوں سے طلبہ نے اپنے اس جمہوری حق کے لیے جدوجہد کا شاندار آغاز کیا ہے، جسے ابھی اور منزلیں طے کرنی ہیں۔ آج مختلف شہروں میں یونین کی بحالی کے احتجاج ہوں گے۔ ہم سب کو اس میں بھرپور شرکت کرنی چاہیے۔

اک روز ہم ہی ہوں گے اجالوں کے پیامبر
ہم لوگ جو مدت سے اندھیروں میں پڑے ہیں