پاکستان

اسلام آباد: ملازمین پر ریاستی تشدد اور شیلنگ، سینکڑوں زخمی، 150 گرفتار، ملک گیر ہڑتال کی کال

اسلام آباد (نامہ نگار) پارلیمنٹ ہاؤس اسلام آباد کے سامنے تنخواہوں میں اضافے اور دیگر مطالبات کیلئے احتجاج کرنے والے ہزاروں سرکاری ملازمین کو منتشر کرنے کیلئے وفاقی پولیس نے آنسو گیس کی شیلنگ اور لاٹھی چارج کیا جس کی وجہ سے سینکڑوں ملازمین زخمی ہو گئے ہیں جبکہ 150 سے زائد کو گرفتار کر لیا گیا ہے۔

ریاستی تشدد اور جبر کے باوجود ہزاروں مظاہرین پاک سیکرٹریٹ کے اندر دھرنا دیئے بیٹھے ہیں، جبکہ ہزاروں کی تعداد میں مظاہرین نیشنل پریس کلب کے سامنے موجود ہیں، اس کے علاوہ مختلف شاہرات پر بھی مظاہرین اور پولیس کے درمیان پتھراؤ اور آنسو گیس کی شیلنگ کے واقعات شام گئے تک جاری رہے۔ مظاہرین نے مطالبات کی منظوری تک احتجاج جاری رکھنے کا اعلان کیا ہے، مطالبات میں وفاقی وزیر خزانہ کو عہدے سے ہٹائے جانے کا مطالبہ بھی شامل کر دیا گیا ہے۔ دوسری طرف آل پاکستان ایمپلائز، پنشنرز اینڈ لیبر تحریک نے بھی مظاہرین پر تشدد کی مذمت کرتے ہوئے آج ملک بھر کے تمام اداروں میں ہڑتال اور احتجاج کی کال دے دی ہے۔

بدھ کے روز آل گورنمنٹ ایمپلائز گرینڈ الائنس کے زیر اہتمام ملک بھر سے آنیوالے ہزاروں ملازمین نے پارلیمنٹ ہاؤس کے سامنے احتجاجی دھرنا دینے کی کوشش کی تھی لیکن پولیس نے آنسو گیس کی شیلنگ اور لاٹھی چارج شروع کر دیا جس کی وجہ سے وفاقی سیکرٹریٹ اور پارلیمنٹ ہاؤس، شاہراہ دستور، سرینگر ہائی وے اور دیگر شاہراہوں پر مشتمل علاقہ میدان جنگ بن گیا۔ پولیس گرفتاریوں، تشدد اور آنسو گیس کی شیلنگ کے باوجود مظاہرین کو پسپا کرنے میں ناکام ہو گئی۔ شاہراہ دستور پر مظاہرین نے پتھراؤ کرتے ہوئے پولیس کو پیچھے دھکیل دیا، سری نگر ہائی وے بھی مظاہرین نے بند کر دی۔

آل گورنمنٹ ایمپلائز گرینڈ الائنس (اگیگا) میں ملک بھر کی ٹیچرز تنظیمیں، کلرکس اور وفاقی محکمہ جات کے ملازمین اور ریٹائرڈ سرکاری ملازمین کی تنظیمیں اور یونینیں شامل ہیں۔ الائنس نے مرکزی آرگنائزر رحمان باجوہ کی قیادت میں وفاقی حکومت سے مذاکرات کئے جس میں وفاقی حکومت کی طرف سے تنخواہوں میں 40 فیصد تک اضافے کی یقین دہانی کروائی تھی لیکن بعد ازاں وفاقی کابینہ کے اجلاس میں صرف وفاقی محکمہ جات کے گریڈ 01 سے 16 تک کے ملازمین کی تنخواہوں میں 24 فیصد اضافے کی منظوری دی گئی اور صوبائی حکومتوں کو اپنے اپنے صوبے میں تنخواہوں میں اضافے کے لئے فیصلہ کرنے کی ہدایت کی گئی۔ کابینہ کے فیصلے کو گرینڈ الائنس کی قیادت نے مسترد کرتے ہوئے 10 فروری کو اسلام آباد پارلیمنٹ ہاؤس کے سامنے غیر معینہ مدت تک احتجاجی دھرنا دینے کا اعلان کر رکھا تھا۔

ادھر پاکستان پیپلزپارٹی اور مسلم لیگ ن سمیت دیگر اپوزیشن جماعتوں نے سرکاری ملازمین پر ریاستی تشدد، شیلنگ اور گرفتاریوں کی شدید مذمت کرتے ہوئے ملازمین کے ساتھ یکجہتی کا اظہار کیا ہے۔

اگیگا کے چیف آرگنائزر رحمان باجوہ نے احتجاج کے آغاز میں میڈیا سے گفتگو کرتے ہوئے کہا کہ یہ احتجاج مختصر یا ایک روزہ نہیں ہو گا بلکہ جب تک ہمارے مطالبات قبول نہیں ہوتے تب تک احتجاج جاری رکھیں گے۔ ملک بھر سے ملازمین اس احتجاج میں حصہ لے رہے ہیں۔ اس دوران دفاتر میں قلم چھوڑ ہڑتال بھی جاری رہے گی۔

انہوں نے کہا کہ ”حکومت کے مالی مسائل کے باعث ہم نے 40 فیصد اضافے کا فیصلہ قبول کر لیا تھا لیکن حکومت نے وعدے کے باوجود 40 فیصد کی بجائے 24 فیصد اضافے کا ادھورا فیصلہ کیا۔“

یاد رہے کہ وفاقی حکومت نے وفاقی بجٹ میں سرکاری ملازمین کی تنخواہوں میں اضافہ نہیں کیا تھا۔ 30 لاکھ سے زائد سرکاری ملازمین کی تنخواہوں میں اضافے کیلئے حکومت کو تقریباً 100 ارب روپے تک کی رقم درکار ہے جبکہ آئی ایم ایف کی جانب سے عائد کردہ شرائط کی وجہ سے وفاقی حکومت ملازمین کی تنخواہوں میں اضافے کا فیصلہ کرنے سے کترا رہی ہے۔

ملک بھر کی 50 سے زائد ٹریڈ یونینوں، ملازمین تنظیموں اور پنشنرز کی تنظیموں پر مشتمل آل پاکستان ایمپلائز، پنشنرز اینڈ لیبر تحریک کے قائد حاجی اسلم خان اور دیگر ذمہ داران نے بھی وفاقی دارالحکومت میں ملازمین پر کئے جانے والے تشدد اور گرفتاریوں کی شدید مذمت کرتے ہوئے تمام اداروں میں آج مکمل ہڑتال اور احتجاجی مظاہروں کا اعلان کر دیا ہے۔ ریلوے، پی آئی اے، او جی ڈی سی ایل، واپڈا، سٹیل ملز، یوٹیلٹی سٹورز کارپوریشن سمیت دیگر اداروں کی یونینوں اور پاکستان ٹریڈ یونین ڈیفنس کمپئین (پی ٹی یو ڈی سی) کے قائدین نے ویڈیو پیغامات کے ذریعے اسلام آباد میں ملازمین پر تشدد کی مذمت کی ہے اور وفاقی وزیر خزانہ کو عہدے سے ہٹانے سمیت تشدد کے ذمہ داران کے خلاف فوری کاروائی کا مطالبہ کیا ہے۔