دنیا

مقبول بٹ شہید کا یوم شہادت: سوشل میڈیا پر پابندیاں اور ’آزاد‘ حکومت کا نوٹیفکیشن

حارث قدیر

شہید کشمیر مقبول بٹ کا یوم شہادت آج لائن آف کنٹرول کے دونوں اطراف اور دنیا بھر میں عقیدت اور احترام سے منایا جا رہا ہے۔ مقبول بٹ شہید کے یوم شہادت کے موقع پر پاکستان و بھارتی زیر انتظام جموں کشمیر، پاکستان کے مختلف شہروں اور دنیا کے مختلف ممالک میں احتجاجی ریلیاں، جلسے اور جلوس منعقد کئے جائیں گے۔ یہ پروگرامات جموں کشمیر کی قومی آزادی اور غیر طبقاتی سماج کے قیام پر یقین رکھنے والی مختلف قوم پرست اور ترقی پسند جماعتوں اور طلبہ تنظیموں کے زیر اہتمام منعقد کئے جائیں گے۔

مقبول بٹ شہید کا یوم شہادت گزشتہ 35 سال کے دوران سابق شاہی ریاست جموں کشمیر میں آزادی اور انقلاب کے ایک تہوار کی شکل اختیار کر چکا ہے۔ یہی وجہ ہے کہ مختلف قومیتوں، ثقافتوں، نسلوں، مذاہب اور جغرافیائی خطوں پر مشتمل جموں کشمیر، لداخ و گلگت بلتستان پرقابض و دعویدار پاک بھارت ریاستوں کی ایما پر مقبول بٹ شہید کی تصاویر اور نام کا استعمال کرنے اور مقبول بٹ شہید کے یوم شہادت کے حوالے سے سوشل میڈیا پر کی جانیوالی کسی بھی سرگرمی کے خلاف ایک کڑا کریک ڈاؤن دیکھنے میں آ رہا ہے۔ ماہ فروری کے آغاز سے دس ایام کے دوران سماجی رابطوں کی ویب سائٹ فیس بک نے ہزاروں کی تعداد میں سوشل میڈیا صارفین کے اکاؤنٹس معطل کئے ہیں اور سینکڑوں فیس بک پیج اور گروپ بھی معطل یا مکمل بند کر دیئے گئے ہیں۔

مقبول بٹ شہید کے یوم شہادت پر کشمیریوں کی بڑے اجتماعات سے خائف بھارتی حکومت جموں کشمیر اور بالخصوص وادی کشمیر میں سخت پابندیاں عائد کرتی آئی ہے۔ اپنی روایت کو جاری رکھتے ہوئے اس سال بھی بھارتی حکومت نے سخت پابندیاں عائد کر رکھی ہیں۔ پاکستان کی حکومت نے بھی گزشتہ تیس سال سے یوم مقبول بٹ کی حیثیت کو کم کرنے اور کشمیریوں کی رائے کو تقسیم کرنے کیلئے 5 فروری کو سرکاری سطح پر یوم یکجہتی کشمیر کی تقاریب منعقد کرنے کا سلسلہ جاری رکھا ہوا ہے۔ رواں سال پاکستانی زیر انتظام جموں کشمیر کی نوآبادیاتی حکومت نے ایک نوٹیفکیشن جاری کرتے ہوئے مقبول بٹ شہید کے یوم شہادت کے موقع پر ’یوم عزم نو‘ منانے اور عام تعطیل کا اعلان کیا گیا ہے۔ صدر مسعود خان کی منظوری سے جاری ہونیوالے نوٹیفکیشن کے مطابق 11 فروری کو عام تعطیل ہو گی اور مقبوضہ کشمیر (بھارتی زیر انتظام جموں کشمیر) میں بھارتی مظالم کے خلاف جدوجہد کرنیوالے کشمیریوں کے ساتھ اظہار یکجہتی کیلئے سرکاری سطح پر ’یوم عزم نو‘ منایا جائے گا۔

پاکستانی زیر انتظام جموں کشمیر کی حکومت کی جانب سے جاری کئے گئے نوٹیفکیشن میں مقبول بٹ شہید کے نام یا انکے یوم شہادت کا ذکر نہیں کیا گیا ہے، جس سے یہ ظاہر ہو رہا ہے کہ مقامی حکومت نے منصوبہ بندی کے تحت مقبول بٹ شہید کے یوم شہادت کی اہمیت کو مٹانے، سرکاری سطح پر اس دن تقاریب منعقد کرتے ہوئے مقبول بٹ شہید کے نظریات اور افکار سے کشمیریوں کو دور کرنے اور مقبول بٹ شہید کی جدوجہد سے کشمیری عوام کو روشناس کروانے والی تنظیموں کی سرگرمیوں سے عوام کی وسیع پرتوں کو دور رکھنے کیلئے یہ نیا ہتھکنڈہ اپنا ہے۔ اس کا ایک مقصد یہ بھی ہو سکتا ہے کہ روایتی اور بین الاقوامی میڈیا پر بھی یوم مقبول بٹ کے موقع پر ہونیوالی کوریج پر سرکاری موقف کی بالادستی قائم کی جائے۔

کچھ قوم پرست تنظیموں اور رہنماؤں سمیت پاکستان نواز جماعتوں کے رہنماؤں کی جانب سے فاروق حیدر حکومت کے اس اقدام کی تعریفیں بھی کی جا رہی ہیں۔ یہ باور کروانیکی کوشش کی جا رہی ہے کہ یوم مقبول بٹ پر تعطیل کا اعلان کر کے حکومت نے احسن اقدام کیا ہے۔ درحقیقت سرکاری سطح پر مقبول بٹ شہید کے یوم شہادت کے موقع پر تعطیل کرنے اور 11 فروری کے دن کو مقبول بٹ شہید سے منسوب کئے جانے سے بھی مقبول بٹ کی جدوجہد اور انکے نظریات اور افکار کی ترویج نہیں ہو گی، نہ ہی مقبول بٹ شہید کی جدوجہد کو حقیقی معنوں میں عام کشمیری عوام تک پہنچایا جا ئے گا بلکہ حکمران طبقات کی طرف سے مقبول بٹ شہید کے یوم شہادت کو منائے جانے کا مقصد بھی مقبول بٹ شہید کے نام کو حکمران طبقات کے مفادات کیلئے استعمال کرنے کے علاوہ کچھ نہیں ہو گا۔ مقبول بٹ شہید نے جہاں دونوں سامراجی ریاستوں کے جموں کشمیر پر قبضے کے خلاف جدوجہد کی تھی، وہیں مقبول بٹ شہید نے جہالت، رجعتیت، پسماندگی اور سرمایہ دارانہ استحصال اور غلامی کے خلاف جدوجہد کو استوار کیا تھا۔ اس لئے مقبو ل بٹ شہید کے نظریات اور افکار کی بنیا دپر جدوجہد کو منظم کرنے والی سیاسی تنظیمیں یا افراد حقیقی معنوں میں اس جدوجہد کومحنت کش طبقے اور نوجوانوں کے وسیع تر اتحاد کی بنیاد پر منظم کر سکتے ہیں۔ سرمایہ دارانہ غلامی اور استحصال کے خلاف جدوجہد کو جدید سائنسی سوشلزم کے نظریات کی بنیاد پر منظم کیا جا سکتا ہے۔ حکمران طبقات چاہے ظالم قوم سے تعلق رکھتے ہوں یا انکا تعلق محکوم قوم سے ہو، انکا مقصد ہمیشہ نظام حکمرانی کو جاری رکھنے اور اپنے مفادات کے تحفظ کیلئے مشترکہ حکمت عملی اور پالیسی پر عمل پیرا ہونا ہی ہوتا ہے، کیونکہ محنت کش طبقے کا استحصال کئے بغیر اس نظام زر میں کوئی بھی حکمرانی پر براجمان نہیں ہو سکتا۔ حقیقی آزادی کی جدوجہد کبھی بھی حکمران طبقات اور نوآبادیاتی حکمران اشرافیہ کے ساتھ مل کر استوار نہیں کی جا سکتی۔ حقیقی آزادی کی جدوجہد محنت کش طبقے کے وسیع تر اتحاد اور جڑأت کی بنیاد پر ہی استوار کی جا سکتی ہے، تاکہ نہ صرف بیرونی قبضے کا خاتمہ کیا جا سکے بلکہ وسائل اور ذرائع پیداوار کو محنت کشوں کے جمہوری کنٹرول میں لیتے ہوئے انسان کے ہاتھوں انسان کے استحصال کے خاتمے کی جانب پیش قدمی کی جا سکے۔

مقبول بٹ شہید کے یوم شہادت کے موقع پر دونوں سامراجی ریاستوں کی جانب سے مقبول بٹ شہید کے پیغام کو پھیلائے جانے سے روکنے کیلئے سماجی رابطوں کی ویب سائٹس پر کئے جانے والے کریک ڈاؤن اور پاکستانی زیر انتظام جموں کشمیر کی حکومت کی جانب سے جاری کئے جانے والے ’یوم عزم نو‘ کے نوٹیفکیشن کی نوعیت مختلف ہو سکتی ہے لیکن کردار اور مقاصد ایک ہی ہیں۔ مقبول بٹ شہید کی جدوجہد کو حکمرانوں کے ہتھکنڈوں سے نہ تو دھندلایا جا سکتا ہے اور نہ ہی شہید کشمیر کی شبیہ کو مٹایا جا سکتا ہے۔ مقبول بٹ شہیدکا یوم شہادت جہاں اس خطے میں آزادی اور انقلاب کی علامت بن چکا ہے، وہیں مقبول بٹ شہید کے نظریات، افکار اور لہو رنگ جدوجہد اس خطے سے غلامی، جہالت، فرسودگی اور ہر طرح کے استحصال کے خاتمے کیلئے جدوجہد کے عزم اور جرأت کی ایک ان مٹ داستاں بھی رقم چکی ہے جس کی حتمی فتح تک یہ کارروانِ آزادی چلتا رہے گا، یہ شمع آزادی جلتی رہے گی۔

Haris Qadeer

حارث قدیر کا تعلق پاکستان کے زیر انتظام کشمیر کے علاقے راولا کوٹ سے ہے۔  وہ لمبے عرصے سے صحافت سے وابستہ ہیں اور مسئلہ کشمیر سے جڑے حالات و واقعات پر گہری نظر رکھتے ہیں۔