نقطہ نظر

محبت اور ویلنٹائن ڈے

علی مدیح ہاشمی

خلل پذیر بوَد ہر بنا کہ می بینی
بجز بنائے محبت کہ خالی از خلل است
(میں نے جو بھی بنیاد دیکھی اس میں خلل ہے سوائے محبت کہ جو خلل سے خالی ہے)

لاہور میں موسم بہار ہے۔ سورج چمک رہا ہے، پھول کھل رہے ہیں، موسم بہتر ہے اور لاہور کے موسم سرما میں شدید ٹھند اور دھند پڑنے کے بعد ایسا لگتا ہے کہ دنیا کی حالت بھی اب بہتر ہے۔ بہار جوبن پر ہے، گانے گنگنائے جا رہے ہیں، فضا میں محبت گھل مل گئی ہے۔ یہ وہ وقت ہے جب لاہور اور پورے پاکستان میں اخلاقیات کے سرپرست ویلنٹائن ڈے پر بداخلاقی کا ماتم کریں گے۔ ہمیشہ کی طرح اخلاقیات کے خود ساختہ سرپرست اظہار محبت کو غیر اخلاقی اور غیر قانونی قرار دیں گے، سوشل میڈیا پر گلابی غبارے بیچنے والے خوانچہ فروشوں کا تعاقب کرتے پولیس اہلکاروں کی تصاویر کی بھرمار ہو گی۔

گزشتہ سال اسی موقع پر ایک مقامی ادارے نے مجھے ’محبت کی نفسیات‘ پر گفتگو کے لئے مدعو کیا تھا۔ اب زندگی کے اس مرحلے پر ہیں جب رومانوی محبت پر بہت کم توجہ ہوتی ہے لیکن سینکڑوں نوجوان طلبہ کے سامنے محبت کے تمام پہلوؤں پر تبادلہ خیال کرنے کا خیال دلکش تھا۔ ایک آڈیٹوریم جس میں تین سو کے قریب نوجوان لڑکے اور لڑکیاں بیٹھے تھے، میں نے اپنی گفتگوکے آغاز پر اس حقیقت کو واضح کیا کہ تمام جذبات کی طرح محبت بھی ایک حیاتیاتی رجحان ہے، جسے جسم کے کیمیائی مادے اور ہارمونز کنٹرول کرتے ہیں۔ محبت کا بنیادی مقصد، یا وہ محبت جو ہر سال پولیس اور مختلف مذہبی تنظیموں کی ہٹ لسٹ پر ہوتی ہے، معاشرے کی بنیادی اکائی خاندان کی تشکیل کیلئے جسمانی اور جذباتی بندھن کے لئے اکسانا ہے۔ جب ایک بالغ مرد اور عورت معاشرتی روایات کے ساتھ اس بندھن کوباندھتے ہیں تو ان کے اتحاد سے بچے پیدا ہوتے ہیں جس سے انسانی نسل آگے بڑھتی ہے اور اپنا تسلسل قائم رکھتی ہے لہٰذا محبت انسانیت کو اپنی بقا کے قابل بناتی ہے۔

اس دن آڈیٹوریم میں بیٹھے ہوئے نوجوانوں نے شاید محبت کو صرف اسی پہلو سے دیکھا لیکن اس سے بھی آگے محبت کے کچھ اور پہلو ہیں جو ہمیں اس کو بہتر طور پر سمجھنے میں مدد دے سکتے ہیں۔ محبت کے بارے میں طرح طرح کے نفسیاتی نظریات موجود ہیں کہ یہ کیوں اور یہ کیسے ہوتی ہے، محبت کی مختلف اقسام کون سی ہیں، یہ مختصر اظہاریہ ہمیں ہر ایک کی تفصیلات جاننے کی اجازت نہیں دیتا تاہم محبت کا جائزہ لینے کا آسان طریقہ یہ ہے کہ اسے کسی شخص کی زندگی کے مختلف مراحل کے سیاق و سباق میں دیکھا جائے۔

نوزائیدہ بچہ ہر اس احساس سے عاری ہوتا ہے جسے ہم ”پیار“ کہہ سکیں۔ یہ آہستہ آہستہ، بڑھتا ہے، اس شخص سے مانوس ہو جا تا ہے جو اسے کھلاتا ہے، تکلیف کے وقت اسے راحت پہنچاتا ہے، اس کی ہر ضرورت پوری کرتا ہے۔ عام طور پر یہ شخص بچے کو پیدا کرنے والی ماں ہوتی ہے لیکن شاذ و نادر یہ کوئی گورنس، باپ، رضاعی ماں یا کوئی اور شخص ہو سکتا ہے۔ ظاہر ہے ایک شیر خوار یا بہت ہی کمسن بچہ معنی خیز انداز میں کسی احساس کا اظہار نہیں کر سکتا۔ یہ اطمینان یا تکلیف کے اظہار کے علاوہ کسی بھی چیز کا تجربہ بیان نہیں کر سکتا لیکن آہستہ آہستہ اسے یہ محسوس ہوتا ہے کہ یہ وہ شخص ہے جو اسے درد میں سکون دیتا ہے اور اس کا خیال رکھتا ہے۔ اس طرح کسی شخص کی زندگی میں پہلا ’پیار‘ جنم لیتا ہے، یہ محبت دراصل کیا ہے؟ کسی دیکھ بھال اور راحت پہنچانے والے فرد کے ساتھ پیار، شفقت اور لگاؤٹ کا احساس۔

ظاہر ہے یہ احساس دو طرفہ ہے جو بتدریج بڑھتا ہے۔ جیسے جیسے بچہ بڑا ہوتا ہے، اس کے پیار کا دائرہ بھی آہستہ آہستہ بڑھتا جاتا ہے جس میں پہلے اس کے خاندان کے افراد والد، بہن بھائی اور دیگر قریبی افراد شامل ہوتے ہیں۔ ماں کی شخصیت اس کی محبتوں کا مرکز رہتی ہے۔ جب سکول جاتا ہے تو دوست اور پسندیدہ اساتذہ بھی آہستہ آہستہ بچے کے پیار کے دائرے میں داخل ہوجاتے ہیں تاہم اس دائرے میں والدہ کا مقام بالاتر ہی رہتا ہے۔ یاد رہے کہ ہم یہاں پیدائش سے لے کر بارہ تیرہ سال کی عمر تک کے بچے کی بات کر رہے ہیں۔

گیارہ یا بارہ سال کی عمر میں (بعض اوقات تھوڑا پہلے یا بعد میں) بچے کے جسم میں جسمانی ہارمونز کے زیر اثر جسمانی تبدیلیاں اور جنسی پختگی (’بلوغت‘) آنے لگتی ہیں۔ ان جسمانی تبدیلیوں (جس میں کم عمر لڑکیوں میں حیض کا آغاز اور اور لڑکوں میں چہرے کے بالوں کا ظاہر ہونا شامل ہیں) کے ساتھ ذہنی اور جذباتی تبدیلیاں بھی رونما ہوتی ہیں، جس میں اس محبت کا احساس بھی شامل ہے جس کا ذکر ہم نے اوپر کر چکے ہیں…محبت اور ایسی کشش جو ایک نوجوان مرد اور عورت کو مستقل بندھن باندھنے کے لیے آمادہ کرتی ہے۔ ماضی قریب میں (دنیا کے بہت سارے خطوں بشمول پاکستان کے معاشی طور پر کم ترقی یافتہ علاقے میں آج بھی) نوجوان مرد و خواتین کو شادی کے بندھن میں جلد باندھ دیا جاتا ہے تاکہ ان کا جذباتی اور جسمانی انتشارشادی کے رشتے میں ہی قید رہے۔

تاہم فی زمانہ کم از کم لڑکوں کے لئے اب یہ ممکن نہیں ہے کہ بلوغت کی عمر میں پہنچتے ہی ان کی شادی کر دی جائے۔ خاندان کا مالی بوجھ اٹھانے کے قابل ہونے تک تعلیمی اور معاشی ضروریات لڑکوں کو بلوغت کے بعد کم از کم دس سے پندرہ سال انتظار کراتی ہیں۔ جس وقت ان کی باہمی جسمانی کشش عروج پر ہوتی ہے، لڑکے لڑکیوں کے خاندان اور معاشرہ (بجا طور پر) انہیں مجبور کرتا ہے کہ وہ اپنی جسمانی اور جنسی خواہشات میں مبتلا نہ ہوں۔ تحقیق نے اب ثابت کردیا ہے کہ 17 یا 18 سال کا لڑکا ذہنی اور جذباتی طور پر والد بننے کی ذمہ داریاں نہیں اٹھا سکتا۔ 18 یا 19 سال سے کم عمر لڑکیاں ماں بننے کی صورت میں صحت کے سنگین مسائل کا شکار ہو سکتی ہیں، کیوں کہ ان کے جسم حمل کی سختیوں کا مقابلہ کرنے کے لیے اتنے مضبوط نہیں ہوتے۔

مغربی معاشروں میں جہاں مرد عورت کے تعلقات زیادہ قابل قبول ہیں، وہاں بھی نوعمر لڑکیوں میں حمل کے بڑھتے واقعات اور ناقابل قبول سماجی ردعمل ایک سنگین مسئلہ بن چکا ہے۔ بہرحا ل بات آگے بڑھاتے ہیں۔

19 یا 20 سال کی عمر کے بعد ایک نوجوان مرد اور عورت شادی کے بندھن میں بندھ جاتے ہیں اور ان کا اتحاد ایک خاندان کی بنیاد بنتا ہے۔ اب محبت کی ایک اور شکل معرض وجود میں آتی ہے جس کی بنیاد ایثار و قربانی ہے یعنی اپنے بچے کے لئے والدین کی محبت۔ یہی وہ محبت ہے جو انسان کی بقا کی اساس کو یقینی بناتی ہے کیونکہ قربانی کا وہ سبق جو بچہ والدین کو سکھاتا ہے (اپنی خواہشات اور ضروریات کو دبا کر دوسرے کی خدمت کرنا آسان نہیں ہوتا) یہی محبت معاشرے میں بھائی چارے کی بنیاد بنتی ہے جس سے معاشرے کو پنپنے کا موقع ملتا ہے۔

جیسے جیسے جوانی درمیانی عمر اور اس سے آگے بڑھتی ہے، چیزیں بدستور بدل جاتی ہیں اور انسان اپنی بقا کی ان بہت سی سچائیوں سے واقف ہوتا ہے جو جوانی میں اس سے پوشیدہ تھیں۔ ان میں سے سب سے بڑی حقیقت موت ہے۔ ایک انسان اپنے والدین اور رشتہ داروں کو اپنے ارد گرد بوڑھا اور بیمار ہوتا دیکھتا ہے، پھر اپنی آنکھوں سے ان کے زوال اور ان کی موت کا مشاہدہ کرتا ہے۔

یہ انتہائی تکلیف دہ ہے مگر یہ محبت کی ایک اور کھڑکی بھی کھول دیتا ہے۔ انسان کے اندر یہ احساس جاگزیں رہتا ہے کہ موت محبت کو نہیں مٹا سکتی۔ وہ اپنے پیاروں کو شوق سے یاد کرتا ہے، ان کو اپنے خوابوں میں دیکھتا ہے اور پھر ان کی محبت کو تازہ محسوس کرتا ہے۔ اسی محبت کو صوفی بزرگوں اور شاعروں نے ”سچا پیار“ (عشقِ حقیقی) قرار دیا ہے، ابدی، نہ ختم ہونے والا پیار۔

لہٰذا ہم اس مختصر گفتگو میں جان سکتے ہیں کہ محبت کوئی مستحکم رجحان نہیں، یہ شروع ہوتی ہے اور عمر بڑھنے کے ساتھ ساتھ بدلتی رہتی ہے۔ نوجوان مرد اور خواتین کے مابین جو محبت ہمارے مذہبی اسکالرز اور سیاستدانوں کو ہر سال فروری میں بہت پریشان کرتی ہے وہ ایک گہرے احساس کا سطحی عکس ہے۔ اسے دبا یا ختم نہیں کیا جا سکتا۔ تاہم بلا شبہ یہ کسی معاشرے کے ہر شہری کی ذمہ داری ہے کہ معاشرتی مفادات میں وہ اس محبت کو اس کے ضابطے کے اندر رکھے۔

Ali Madeeh Hashmi

علی مدیح ہاشمی ماہر نفسیات اور فیض فاؤنڈیشن ٹرسٹ کے معتمد ہیں۔