پاکستان

’غیر قانونی‘ کشمیری مہاجرین کی سندھ میں آباد کاری کے مضمرات

سعید خاصخیلی

1989ء میں ہندوستانی کشمیر سے پاکستانی کشمیر میں جنگی تربیت کے لئے آئے 10,000 کشمیری نوجوانوں، جن کی آبادی اب 42 ہزار تک پہنچ چکی ہے، کو سندھ کے ضلع سجاول میں 6000 ایکڑ اراضی مختص کر کے وہاں آباد کرنے کا وفاقی حکومت نے منصوبہ بنایا ہے۔ اس خبر کے بعد نہ صرف سندھ کی قوم پرست جماعتوں نے اپنے اعتراضات اٹھائے ہیں بلکہ اس فیصلے کی کشمیری آبادی نے بھی مذمت کی ہے۔ ان کے مطابق، یا تو انھیں پاکستانی کشمیر میں مستقل آباد کاری کا حق دیا جائے یا پھر جموں و کشمیر واپس جانے کے لئے اقدامات کیے جائیں۔

حیرت کی بات یہ ہے کہ قومی آزادی کے لئے لڑنے والے ان کشمیری نوجوانوں کو پاکستانی کشمیر کے مختلف شہروں میں قائم مہاجر کیمپوں میں بھیج دیا گیا ہے اور انہیں غیر قانونی تارکین وطن کا درجہ دیا گیا ہے۔ ایک کمرے کے کیمپ میں اپنے گھر والوں کے ساتھ یہ ”غیر قانونی مہاجر“ انتہائی مفلسی والی زندگی گزارنے پر مجبور ہیں جبکہ ریاست کی جانب سے گذر بسر کے لئے چند سو روپیہ دیئے جاتے ہیں جس کی وجہ سے وہ اپنے ہی وطن میں غریب الوطنی کی زندگی گزارنے پر مجبور ہیں۔ ریاست کا فرض تھا کہ وہ ان کو شہریت دے کر انہیں ان کے اپنے علاقوں میں روزگار کے مواقع مہیا کرتی لیکن ریاست اوراس کے پیداواری نظام میں اتنی اہلیت ہی نہیں ہے کہ وہ چند ہزار افراد کو با عزت روزگار مہیا کر کے انہیں ایک باوقار زندگی گزارنے کا موقع فراہم کر سکے۔

اس آبادی کو سندھ میں منتقل کرنا در حقیقت ان متاثرین کی قربانیوں کی توہین ہے۔ سندھ کے جنوب میں واقع یہ ساحلی پٹی شاید پاکستان کے پسماندہ ترین علاقوں میں شامل ہے۔ دریائی پانی تک رسائی نہ ہونے کے باعث یہاں کی زراعت برباد ہو گئی ہے اور ایسی کوئی بڑی صنعت نہیں ہے جہاں روزگار کے مواقع مہیا کیے جا سکیں۔ سمندر کے زرعی زمینوں پر چڑھ جانے اور زراعت کی تباہی کی وجہ سے پہلے ہی لاکھوں کی تعداد میں یہاں کے رہائشی اپنا آبائی علاقہ چھوڑ کر بڑے شہروں میں منتقل ہو گئے ہیں۔ سندھ اور پاکستانی کشمیر میں اگر اجرتوں کے فرق کو دیکھا جائے تو اوسطاً ایک عام کشمیری محنت کش سندھی محنت کش سے زیادہ اجرت لیتا ہے۔

ایک ایسے صوبے میں جہاں 80 فیصد سے زائد آبادی خطِ غربت سے نیچے زندگی گزارنے پر مجبور ہو وہاں باہر سے آنے والے محنت کشوں کو بہتر زندگی کیسے مہیا کی جا سکتی ہے کیونکہ باہر سے آیا ہوا محنت کش مقامی محنت کش سے کم اجرت پر کام کرنے پر مجبور ہوتا ہے۔ اگر اس آبادی کو ضلع سجاول میں منتقل کر بھی دیا جاتا ہے تو ان کی اکثریت آباد ہونے سے پہلے ہی الاٹ شدہ زمین میں سے کچھ حصہ بیچ کر کسی دوسرے ملک کی طرف ہجرت کرنے کی کوشش کریں گے۔

پاکستانی حکمرانوں کی نا اہلی، ملکی معیشت کی تباہی اور نظام کی ناکامی کے سبب لاکھوں تارکین وطن کو ہر سال ملازمت کی تلاش میں بیرونی دنیا میں ہجرت کرنے پر مجبور ہونا پڑتا ہے۔ کوئی بھی محنت کش کسی دوسری قوم کے محنت کش کا استحصال نہیں کرتا، یہ معاشی جبر و ظلم ہوتا ہے جو کسی بھی محنت کش کو اپنا آبائی وطن چھوڑنے پر مجبور کرتا ہے۔ ہمیں کشمیریوں اور دیگر قوموں کے محنت کشوں کے خلاف سندھ میں نفرت پھیلانے کے بجائے حکمرانوں کی نا اہلی اور سرمایہ دارانہ نظام کی ناکامی کو محنت کش طبقے کے سامنے ظاہر کرنا ہو گا۔ حکمرانوں سے مطالبہ کرنے کے بجائے اس سرمایہ دارانہ نظام کو ڈھانا ہو گا جو یہاں کی تمام قومیتوں کے محنت کشوں اور کسانوں کے زوال کا سبب ہے اور یہ کام تمام قوموں کے محنت کشوں اور مظلوموں کو اکٹھا کر کے ہی کیا جا سکتا ہے۔