خبریں/تبصرے

مظفرآباد: ہزاروں سرکاری اساتذہ کا احتجاج، مطالبات کی منظوری تک کلاسوں کا بائیکاٹ جاری رہے گا

مظفرآباد (جدوجہد رپورٹ) پاکستانی زیر انتظام جموں کشمیر کے دارالحکومت مظفرآباد میں ہزاروں سرکاری اساتذہ نے احتجاجی مظاہرہ اور جلسہ کیا، اساتذہ نے مطالبات کی منظوری اور نوٹیفکیشن کے اجرا تک احتجاج جاری رکھنے کا اعلان کیا ہے۔

پیر کی شام ہی مظفرآبادمیں دیگر تمام اضلاع سے ہزاروں مرد و خواتین اساتذہ جمع ہونا شروع ہو گئے تھے۔ منگل کے روز احتجاجی ریلی اور جلسہ عام کا انعقاد کیا گیا۔ جس کے بعد یہ اعلان کیا گیا کہ کلاسوں کا بائیکاٹ اس وقت تک جاری رہے گا جب تک انکے مطالبات کی منظوری اور نوٹیفکیشن کا اجرا نہیں ہو گا۔ دوسری طرف حکومت نے بھی اساتذہ کے ساتھ مذاکرات کرنے کے بعد اساتذہ کی جانب سے نامزد کردہ کمیٹی کی جمعرات کے روز وزیراعظم راجہ فاروق حیدر سے ملاقات کروانے کی یقین دہانی کروائی ہے۔ جمعرات کے روز وزیراعظم سے ملاقات کے بعد سرکاری اساتذہ آئندہ کے لائحہ عمل کا اعلان کریں گے۔

اساتذہ کے رہنما سعد جمال ناصر نے ’جدوجہد‘ سے گفتگو کرتے ہوئے کہا کہ ”سرکاری اساتذہ 2009ء کی تعلیمی پالیسی کے تحت اپ گریڈیشن کا مطالبہ کر رہے ہیں۔ وزیراعظم راجہ فاروق حیدر خان نے اپوزیشن میں ہوتے ہوئے بھی اساتذہ کی اپ گریڈیشن کے مطالبہ کو جائز قرار دیا تھا لیکن چار سال سے زائد انہیں خود حکومت میں ہو گئے ہیں لیکن اساتذہ کا یہ مطالبہ منظور نہیں کیا جا رہا ہے۔“

انکا کہنا تھا کہ ”اساتذہ کو گزشتہ ماہ مظفرآباد میں تشدد کا نشانہ بنایا گیا، اس مرتبہ تمام اضلاع سے اساتذہ نے جمع ہو کر اپنے اتحاد اور مطالبات کی منظوری کے حوالے سے اپنی سنجیدگی حکومت کو دکھا دی ہے۔ اس احتجاج میں سینکڑوں معلمات بھی شریک تھیں۔ اب حکومت اگر ہمارے مطالبات منظور نہیں کرتی تو ہم یہ احتجاج جاری رکھیں گے۔ تمام اضلاع میں اساتذہ متحد اور منظم ہیں، پر امن طریقہ سے اپنے مطالبات کی منظوری کیلئے جدوجہد جاری رکھے ہوئے ہیں اور توقع رکھتے ہیں کہ حکومت ہمارے مطالبات کو سنجیدہ لے گی۔“