خبریں/تبصرے

پاکستان کسان رابطہ کمیٹی کے دو روزہ اجلاس سے ممتاز کسان رہنماؤں کا خطاب

لاہور (پ ر) ملک بھر کی کسان تنظیموں نے لاہور میں اپنے دو روزہ اجلاس میں بھارتی کسانوں سے اظہار یک جہتی اور لاہور راوی ریور فرنٹ شہر کے کسان دشمن منصوبہ کے خلاف مشترکہ ریلی ریلیاں نکالنے کا اعلان کیا ہے۔ پاکستان کسان رابطہ کمیٹی کے زیر اہتمام ایک مقامی ہوٹل میں شریک ہونے والی 30 کسان تنظیموں میں پاکستان کسان اتحاد، انجمن مزارعین پنجاب، پاکستان فشر فوک، جڑانوالہ کسان تحریک، اخوت کسان، کسان کرکیلہ اور دیگر شامل تھیں۔

اجلاس سے خطاب کرنے والوں میں انجمن مزارعین پنجاب کے جنرل سیکرٹری مہر عبدالستار، پاکستان کسان اتحاد کے چیئرمین چوہدری محمد انور اور صدر ملک ذولفقار اعوان، پاکستان کسان رابطہ کمیٹی کے جنرل سیکرٹری فاروق طارق اور مرکزی راہنما نازلی جاوید، پاکستان فشر فوک کی نائب صدر فاطمہ مجید، جڑانوالہ کسان تحریک کے رائے فضل رسول رضوی اور دیگر شامل تھے۔

پاکستان کسان رابطہ کمیٹی کے سیکریٹری جنرل فاروق طارق نے دو روزہ مشاورتی اجلاس برائے ”زمین کی ملکیت کے حقوق اور تحفظِ خوراک کے بارے میں فیڈرل پالیسی ڈائیلاگ“ کے اختتامی اجلاس کو بتایا کہ مشترکہ مظاہرہ کرنے کی تاریخ کا اعلان باہمی مشاورت سے جلد ہی کر دیا جائے گا۔

اجلاس سے خطاب کرتے ہوئے اقوام متحدہ کے انٹرنیشنل فنڈ برائے زرعی ترقی کے سربراہ فدا محمد نے کہا کہ ہم مرکزی اور صوبائی حکومتوں کے ساتھ مل کر کسانوں کی حالت میں بہتری لانے کے لیے انتہائی کم شرح سود پر قرضوں اور تربیت کی فراہمی کے پروگراموں پر عمل کر رہے ہیں۔ فدا محمد نے کہا کہ کسی بھی بہتری لانے کی سکیم کی کامیابی کے لیے ضروری ہے کہ کمیونٹی کو ڈرائیونگ سیٹ پر بٹھایا جائے۔

پروفیسر ضیغم عباس نے خطاب کرتے ہوئے اس بات پر زور دیا کہ ایسی بجلی کے خلاف مہم چلانے کی ضرورت ہے کہ جس کی پیداوار سے فضا آلودہ ہوتی ہو۔ انہوں نے کہا کہ بجلی پیدا کرنے کے لیے ناقابل تجدید توانائی کے استعمال میں کمی لانا انتہائی ضروری ہے اور متبادل ذرائع کی تلاش اور استعمال ہمارے قدرتی ماحولی توازن یا ایکو سسٹم کو بچانے کے لیے ناگزیر ہے۔ انہوں نے بتایا کہ بجلی پیدا کرنے کے لیے تیل اور گیس کے استعمال سے فضا کے آلودہ ہونے کا تناسب اس مقصد کے لیے کوئلے کے استعمال سے دو گنا ہے۔

اجلاس سے پاکستان کسان اتحاد کے چیئرمین چوہدری محمد انور نے کہا کہ ہم سے گندم 1400 میں خرید کر آٹا 2600 روپے فی من فروخت کیا جا رہا ہے۔ گنے کے کاشتکار سے 200 روپے 200 روپے فی من خرید کر اسی گنے کا ریٹ 300 روپے کر دیا گیا ہے اور عوام کو چینی 100 روپے کلو فروخت کی جا رہی ہے۔ چوہدری محمد انور نے کہا کہ شوگر مل مالکان میں پیپلز پارٹی، مسلم لیگ نواز اور تحریک انصاف کے رہنما سب شامل ہیں اور گنے کے کاشتکار کا مسلسل استحصال کر رہے ہیں۔ کسانوں کو ایک پلیٹ فارم ہر متحد ہونا پڑے گا۔ انہوں نے مطالبہ کیا کہ گندم کی فی من قیمت 200 روپے فی من مقرر کی جائے۔

اجلاس سے حقوقِ خلق موومنٹ کے رہنما ڈاکٹر عمار جان نے کہا کہ موجودہ حکومت کی ہر پالیسی صرف قبضہ مافیا سے وابستہ افراد کو ہی فائدہ پہنچانے والی ہوتی ہیں۔ انہوں نے کہا ہم 10 اپریل کو موچی دروازہ لاہور میں ایک جلسہ عام میں اپنے ایک متبادل پروگرام کو سامنے لائیں گے کیونکہ کوئی بھی متبادل صرف عوام سے ہی جنم لے گا۔ ہمیں لاہور کو جگانا ہو گا۔ لاہور جاگتا ہے تو سارا ملک جاگ اٹھتا ہے۔

راوی ریور پراجیکٹ کے خلاف کسان تحریک کے رہنما مصطفی رشید نے خطاب کرتے ہوئے اس منصوبے کو چھوٹے کسانوں اور لاہور شہر کے ماحول کے لیے ایک خطرہ بتایا اور اس عزم کا اظہار کیا کہ وہاں پر آباد کئی دیہات کے عوام اس منصوبے کی منسوخی کے لیے ہر ممکن اقدام سے گزیر نہیں کریں گے۔ انہوں نے کہا کہ ایک لاکھ 2 ہزار زرعی ایکڑ پر بنانے کا یہ منصوبہ کسانوں کو کسی صورت منظور نہیں۔ اس کے خلاف بھرپور عوامی تحریک جاری رکھیں گے۔

اجلاس سے خطاب کرتے ہوئے معروف ترقی پسند زرعی ماہر میاں آصف شریف نے کہا کہ بیج کی فراہمی ایک اہم معاملہ ہے اور ملٹی نیشنل کمپنیاں بیجوں پر اپنی اجارہ داری کے زریعے کسانوں کو اپنا دستِ نگر بنانا چاہتی ہیں جبکہ کسان کو بیج کی فراہمی کے لیے کسی کا محتاج ہونے کی قطعی ضرورت نہیں وہ اپنے اگائے ہوئے پودوں سے آئندہ فصل کے لیے درکار صحتمند بیج حاصل کر سکتا ہے۔

انہوں نے کہا کہ فصلوں کی آب پاشی کے موجودہ نظام نے بھی زمین کی زرخیزی کو سخت نقصان پہنچایا ہے۔ انہوں نے مصنوعی کھاد اور کیڑے مار ادویات کے بے دریغ استعمال کو بھی زمین کی فطری زرخیزی کے خلاف ایک زہر، قاتل قرار دیتے ہوئے اسے ملٹی نیشنل کمپنیوں کی عام کسانوں کی خوشحالی کے خلاف ایک سازش قرار دیا انہوں نے کہا کہ ہمیں قدرت کی طرف واپس جانے کی ضرورت ہے۔ زراعت کا موجودہ بحران صرف قدرتی پائیدار نظام کاشتکاری پر عمل کر کے ہی دور کیا جا سکتا ہے۔

پاکستان فشر فوک کی رہنما محترمہ فاطمہ مجید نے سندھ کے دو جزائر کو قبضہ مافیا کے حوالے کرنے سے وہاں کے ماحول اور غریب ماہی گیروں کے پیدا ہونے والے مسائل پر بات کرتے کہا کہ ہم ماہی گیر ان دو جزائیر کو لینڈ مافیا کے حوالے کرنے کے خلاف اپنی تحریک اور تیز کریں گے۔ یہ سندھ کے قدرتی وسائل پر وفاقی حکومت کی جانب سے قبضہ کرنے کی ایک کوشش ہے۔

جڑانوالہ میں 90 مربع زرعی اراضی پر حکومت کی جانب سے قبضہ کرنے کی کوشش کے خلاف مزاحمت کرنے والے کسانوں کے رہنما رائے فضل رسول رضوی نے کہا کہ حکومت نے یہاں کم از کم پچاس لاکھ کی املاک اور زرعی مشینری کو نقصان پہنچایا ہے۔ ہم لینڈ مافیا نہیں بلکہ دو تین ایکڑ زمیں کے مالکان ہیں جو ستر سال سے یہاں زمیں آباد کئے ہوئے ہیں۔ انہوں نے مطالبہ کیا کہ حکومتی آپریشن کے دوران ہونے والے نقصان کو فوری پورا کیا جائے۔

دو روزہ اجلاس سے خطاب کرنے والے دیگر کسان رہنماؤں میں ڈیرہ سہگل کی جمیلہ بیگم، جڑانوالہ کی کسانوں کی ان کی آبائی طور پر زیر کاشت زمینوں سے بیدخلی کے خلاف کسان تحریک کے رہنما رائے فضل رسول، پروگریسو سٹوڈنٹس کولیکٹیو کے رہنما محسن ابدالی، گلزار خان، رفعت مقصود، ناصر اقبال، محمد یونس راہو، عزیز بلوچ، فاروق احمد خان، رضیہ فاروق، صلاح الدین، مبشر ریاض، محسن رائے، چوہدری تجمل حسین گجر اور دیگر شامل ہیں۔ ان رہنماؤں نے کسانوں کے مسائل کے حل کے لیے کسانوں کے حقوق کے لیے کوشاں تنظیموں کے ملک گیر اتحاد پر زور دیا۔

اجلاس میں متفقہ طور پر منظور قراردادوں میں مطالبہ کیا گیا کہ:

سندھ کے دو جزائر کے بارے میں جاری آرڈینینس کو فوری منسوخ کیا جائے۔
جڑانوالہ کے کسانوں کی اراضی واپس کرکے ان کے نقصانات کا ازالہ کیا جائے۔
ڈیرہ سہگل مریدکے کے کسانوں کی تین سال سے کاٹی بجلی فوری بحال کی جائے۔ گندم کی فی من قیمت 2000 روپے مقرر کی جائے۔راوی ریور پراجیکٹ کی فوری منسوخ کیا جائے۔