خبریں/تبصرے

کورونا ویکسین کی غیر منصفانہ تقسیم سے غریب ممالک متاثر، اقوام متحدہ کی تنقید

لاہور (جدوجہد رپورٹ) ترقی یافتہ ممالک کو انسداد کورونا ویکسین کو ذخیرہ کرنے اور آبادی سے زائد ویکسین خریدنے کے اقدامات پر تنقید کا سامنا ہے۔ غریب ممالک کو ویکسین رقوم کے عوض بھی دستیاب نہیں ہو رہی ہے جس کی وجہ سے ویکسین کی موجودگی کے باوجود ترقی پذیر ممالک کورونا وباء پر قابو پانے میں مشکلات سے دوچار ہیں۔

اقوام متحدہ کے سیکرٹری جنرل انتونیو گتریس نے کورونا وائرس ویکسین ذخیرہ کرنے پر ترقی یافتہ ممالک کو تنقید کا نشانہ بنایا ہے اور ان ممالک کو دنیا کے دیگر ملکوں میں تقسیم کرنے کی ترغیب دی ہے تاکہ وبا کا خاتمہ ممکن ہو سکے۔

اتوار کو سی بی سی کو انٹرویو دیتے ہوئے انتونیو گتریس نے کہا کہ”مجھے ویکسین کی دنیا میں غیرمنصفانہ تقسیم پر شدید تحفظات ہیں، اس میں ہر ایک کا فائدہ ہے کہ ہر کسی کو ہر جگہ ویکسین لگے۔“ انہوں نے امیر ممالک کے ویکسین کی ذخیرہ اندوزی کو کڑی تنقید کا نشانہ بناتے ہوئے کہا کہ ”پہلی بات تو یہ ہے کہ ویکسین کو ذخیرہ مت کریں، اس کی کوئی منطق نہیں۔ہم ترقی یافتہ ممالک سے اپیل کرتے رہے ہیں کہ وہ خریدی گئی کچھ ویکسینز کو دیگر ملکوں کے ساتھ شیئر کریں اور یہ دیکھا گیا ہے کہ انہوں نے اپنی ضرورت سے زیادہ خریداری کی ہے۔“

انکا کہنا تھا کہ ”ویکسین کی خوراکوں کی غریب ممالک تک فراہمی کے کوویکس پروگرام کو مشکلات کا سامنا ہے کیونکہ بہت زیادہ ذخیرہ اندوزی کی جا رہی ہے۔“ ان کا مزید کہنا تھا کہ”وبا کے خاتمے کا انحصار سب سے زیادہ اس بات پر ہے کہ ویکسین کو جتنا جلد ممکن ہو سکے پوری دنیا کی آبادی تک پہنچایا جا سکے۔“