تاریخ

’میں اب بھی مارکسسٹ ہوں‘

فاروق طارق

آئی اے رحمن صاحب بائیں بازو کے اجلاسوں میں آ جاتے تھے، اگر انہیں کسی اجلاس کی اطلاع مل جاتی…مگر ہمیشہ پیچھے بیٹھ جاتے۔ بڑی مشکل سے انہیں سٹیج پر لایا جاتا کہ بات کریں۔ یہ انکی عادت ہمیں ہمیشہ اچھی لگی۔

وہ مجھے دیکھ کر ہمیشہ کہتے ’میں اب بھی مارکسسٹ ہوں‘۔ دو روز قبل حسین نقی صاحب نے بھی ’ڈان‘ میں شائع ہوانے والے ایک مضمون میں بتایا کہ موت سے چند روز قبل بھی وہ انہیں کہہ رہے تھے ’میں اب بھی مارکسسٹ ہوں‘۔

رحمن صاحب کاآخری مضمون ڈان میں جمعرات 8 اپریل کو شائع ہوا۔

دو روز قبل میں جب ان کی وفات کی خبر سن کر مہر عبدالستار کے ہمراہ ہیومن رائٹس کمیشن کے دفتر گیا تو وہاں منیزے جہانگیر، حسین نقی، حنا جیلانی سب تھے۔ وہیں چوہدری الیاس جن کی ان کے ہمراہ 35 برس کی رفاقت ہے کہنے لگے کہ آخری دفعہ بدھ کو آئے نیچے کار میں بیٹھ کر ہی ڈان کے مضمون کی غلطیاں لگائیں اور چلے گئے، اوپر آنے کی شائد ان میں ہمت نہ تھی۔

حنا جیلانی نے بتایا کہ صرف چند روز قبل جب وہ ان کو ملنے گئیں تو زندگی میں پہلے دفعہ کہا ’طبیعت ٹھیک نہیں‘۔

وہ ہمیشہ میری بات کو اہمیت دیتے تھے شائد ایک نظریاتی رشتے کو نبھانے کے لئے بھی، کبھی مایوسی کی بات نہ کی۔

آخری دفعہ ان سے چند ہفتے قبل عاصمہ جہانگیر میموریل اجلاس میں ملاقات ہوئی۔ اس اجلاس میں کرونا کی وجہ سے تقریباً تیس ساتھیوں کو بلایا گیا تھا۔ پلیٹ فارم پر حنا جیلانی اور آئی اے رحمن کے ساتھ مجھے بھی بیٹھنے کا کہا گیا۔ بعد میں ڈاکٹر مہدی حسن بھی آ گئے۔ رحمن صاحب نے 90 برس کی عمر میں عاصمہ کی وہ خوبیاں بیان کیں جو ہمارے لئے بھی نئی تھیں۔

بس یہ آخری ملاقات تھی اس عہد کے ایک ایسے مارکسسٹ سے جو سماجی خدمات کو انقلابی نظریات سے جوڑنے کی جو مہارت رکھتا تھا وہ کسی اور میں نہ تھی۔

عاصمہ جہانگیر نے کئی دفعہ مجھے کہا کہ کسی بھی ورکشاپ یا کانفرنس جس میں متضاد نظریات کے افراد موجود ہوں اور مشترکہ اعلامیہ بھی جاری کرنا ہو تو آئی آے رحمن سے زیادہ اس مشترکہ اعلامیہ کو جمہوری طور پر سب سے منظور کرانے کی قابلیت کوئی اور نہیں رکھتا۔

Farooq Tariq

فارق طارق روزنامہ جدوجہد کی مجلس ادارت کے رکن ہیں۔ وہ پاکستان کسان رابطہ کمیٹی کے جنرل سیکرٹری ہیں اور طویل عرصے سے بائیں بازو کی سیاست میں سرگرمِ عمل ہیں۔