پاکستان

پاکستانی زیر انتظام جموں کشمیر: اعلیٰ عدالتیں غیر فعال، حکومت ججوں کی تقرری کیلئے آئینی ترمیم لانے میں ناکام

راولا کوٹ (حارث قدیر) پاکستان کے زیر انتظام جموں کشمیر میں اعلیٰ عدالتیں مکمل طور پر غیر فعال ہو چکی ہیں اور مقامی حکومت اعلیٰ عدالتوں میں ججوں کی تقرری کیلئے دوسری آئینی ترمیم لانے میں ناکام ہو چکی ہے۔ قبل ازیں اس معاملہ کو سلجھانے کیلئے 14 ویں آئینی ترمیم لائی گئی تھی جس کے تحت ’جموں کشمیر کونسل‘ کے مجموعی ممبران سے اختیارات لیکر وزیراعظم پاکستان کو تفویض کئے گئے لیکن وزیراعظم پاکستان بھی ججوں کی تقرری کیلئے سمری منظور کرنے سے گریزاں رہے، جس کے بعد فاروق حیدر حکومت نے 15 ویں آئینی ترمیم کیلئے مسودہ تیار کیا لیکن وہ بوجوہ اسمبلی میں منظوری کیلئے پیش نہیں کیا جا سکا۔

یاد رہے کہ پاکستانی زیر انتظام جموں کشمیرمیں گزشتہ کئی ماہ سے عدالت عظمیٰ میں ایک ہی جج موجود ہے جبکہ عدالت العالیہ میں موجود 2 ججوں میں سے بھی ایک جج کی چند روز قبل موت واقع ہو گئی، عدالت العالیہ میں موجود واحد جج بھی مختلف امراض کی وجہ سے عدالت حاضر ہونے سے قاصر ہیں۔ یوں عملی طور پر دونوں اعلیٰ عدالتیں غیر فعال ہو چکی ہیں۔

فاروق حیدر حکومت گزشتہ ایک سال سے اعلیٰ عدلیہ میں ججوں کی تقرری کیلئے کوششیں کر رہی ہے، عبوری آئین 1974ء میں کی جانیوالی 13 ویں آئینی ترمیم کے تحت ججوں کی تقرری کے اختیارات جموں کشمیر کونسل کو تفویض کئے گئے تھے، کونسل کا مکمل اجلاس منعقد نہ ہونے کی وجہ سے ججوں کی تقرری کیلئے منظوری کا عمل رکا ہوا تھا، فاروق حیدر حکومت نے یہ اختیارات چیئرمین جموں کشمیر کونسل کو فراہم کرنے کیلئے 14 ویں آئینی ترمیم اسمبلی سے منظور کروائی، لیکن چیئرمین جموں کشمیر کونسل یعنی وزیراعظم پاکستان عمران خان نے تاحال ججوں کی تقرری کیلئے منظوری نہیں دی۔ عدالتی بحران کو حل کرنے کیلئے فاروق حیدر حکومت نے 15 ویں آئینی ترمیم کیلئے مسودہ تیار کیا لیکن وہ بھی اسمبلی میں پیش نہیں کیا جا سکا۔

حکومتی ذرائع کا کہنا ہے کہ پاکستان کی وفاقی حکومت اور اداروں کی طرف سے فاروق حیدر حکومت کو آئینی ترمیم کرنے سے روک دیا ہے، جس کی وجہ سے یہ آئینی ترمیم اسمبلی میں پیش نہیں کی جا سکی، جبکہ کچھ صحافیوں نے اپنی ذرائع سے یہ خبریں بھی دیں کہ حکومت کے چند وزرا نے آئینی ترمیم کی مخالفت کی اور کابینہ اجلاس سے واک آؤٹ کر دیا جس کی وجہ سے یہ آئینی ترمیم اسمبلی میں منظوری کیلئے پیش نہیں کی جا سکی۔ تاہم صحافیوں کی جانب سے بھی وفاقی حکومت اور اداروں کے دباؤ کے عنصر کو رد نہیں کیا گیا۔ یوں 2 تہائی اکثریت کی حامل فاروق حیدر حکومت گزشتہ ایک سال سے زائد عرصہ گزرنے کے باوجود اعلیٰ عدالتوں میں ججوں کی تقرری کیلئے کوئی بھی فیصلہ نہیں کر سکی ہے۔

حکومت کی طرف سے کہا جا رہا ہے کہ آئینی ترمیم کے مسودہ میں کچھ مسائل تھے جس کی وجہ سے وہ اسمبلی میں پیش نہیں کی گئی، تاہم حکومت نے کسی بھی دباؤ کے عنصر کو رد کرتے ہوئے کہا ہے کہ اداروں کی مشاورت سے یہ اقدام کیا جا رہا ہے اور مناسب وقت پر یہ آئینی ترمیم منظور کر لی جائے گی۔

واضح رہے کہ پاکستانی زیر انتظام جموں کشمیر میں قائم حکومت کی مدت ختم ہونے میں چند روز باقی ہیں، آئندہ ماہ جون کے پہلے ہفتے میں الیکشن شیڈول کے اعلان کا امکان ظاہر کیا جا رہا ہے۔ اس خطے میں عموماً وہی پارٹی حکومت قائم کرتی ہے جو وفاق میں برسراقتدار ہوتی ہے۔ اس کیلئے جہاں پاکستان میں مقیم مہاجرین جموں کشمیر کی 12 نشستوں کا استعمال کیا جاتا ہے، وہاں انتخابی سیاست کے ماہر امیدواران کو دیگر پارٹیوں سے توڑا جاتا ہے، وزارت امور کشمیر کے فنڈز کو سیاسی رشوت کے طور پر استعمال کیا جاتا ہے اور عملی طور پر مقامی حکومت، ادارے اور الیکشن کمیشن وفاقی حکومت کی یلغار کے سامنے بے بس دکھائی دیتے ہیں۔

حال ہی میں وزارت امور کشمیر و گلگت بلتستان کی جانب سے ترقیاتی سکیموں سے متعلق ایک نوٹیفکیشن جاری کرتے ہوئے یہ واضح کیا ہے کہ وزارت امور کشمیر کی جانب سے جاری کی گئی سکیموں اور فنڈز کی مانیٹرنگ اور کوالٹی چیکنگ کے علاوہ ٹینڈر وغیرہ جاری کرنے اور عملدرآمد کروانے کے حوالے سے کسی بھی طرح کا کوئی اختیار پاکستانی زیر انتظام جموں کشمیر کے کسی ادارے یا شخص کو نہیں ہو گا۔ وزارت امور کشمیر کی سکیموں کو براہ راست مکمل کیا جائے گا اور پاکستانی زیر انتظام جموں کشمیر کی کوئی عدالت اور احتساب کا ادارہ بھی ان سکیموں کی بابت کوئی اقدام کرنے کا مجاز نہیں ہو گا۔ یوں یہ بھی کہا جا سکتا ہے کہ آمدہ انتخابات میں وزارت امور کشمیر کے فنڈز کو سیاسی رشوت کے طو رپر استعمال کرنے کیلئے تحریک انصاف کی حکومت نے ایک ایسا نوٹیفکیشن جاری کیا ہے جس کے تحت اس خطے کی حکومت اور اداروں کے اختیارات پر ایک مرتبہ پھر سوالیہ نشان کھڑا کر دیا گیا ہے۔

پاکستان کے زیر انتظام جموں کشمیر کا یہ علاقہ عملی طور پر نوآبادیاتی طرز سے چلایا جا رہا ہے۔ انتخابات میں حصہ لینے کیلئے پاکستان کے ساتھ الحاق کے نظریہ کا حامی ہونا لازمی قرار دیا گیا ہے، نظریہ پاکستان، نظریہ الحاق پاکستان کو آئین کا حصہ بنائے بغیر کوئی سیاسی جماعت رجسٹرڈ نہیں ہو سکتی۔ اسی طرح کے دیگر نوآبادیاتی قوانین کے تحت آبادی کی ایک بڑی اکثریت کو الیکشن کے عمل سے باہر کر دیا جاتا ہے، 12 نشستیں پاکستان کے مختلف شہروں میں مقیم مہاجرین جموں کشمیر کے نام پر پہلے سے وفاقی حکومت کے ہاتھ میں ہوتی ہیں، باقی ماندہ 33 نشستوں کیلئے وزارت امور کشمیر کے فنڈز اور وفاقی حکومت کے وسائل کا استعمال کیا جاتا ہے اور اس طرح اس خطے میں بسنے والے چالیس لاکھ انسانوں کے نمائندوں کا انتخاب کیا جاتا ہے جو ایک عدالت میں جج لگانے کیلئے قانون سازی کرنے کے مجاز بھی نہیں ہو سکتے۔