پاکستان

مفاہمت کی واپسی

ذکا اللہ راؤ

29 اپریل کو این اے 249 کراچی میں پاکستان پیپلز پارٹی کے امیدوار قادر خان مندوخیل کی جیت نے الیکٹرونک اور سوشل میڈیا پر ایک ہلچل پیدا کر دی۔ کیونکہ تمام ہی سینئر میڈیا اینکر، یو ٹیوبرز اور سیاسی تجزیہ کار یہ طے کر چکے تھے کہ این اے 249 کراچی میں پاکستان مسلم لیگ نواز کے امیدوار مفتاح اسماعیل یہ نشست جیت جائیں گے۔ انتخابی نتائج جس میں پیپلز پارٹی فاتح جماعت قرار پائی، ان نتائج کوسینئر سیاسی تجزیہ کاروں کی اکثریت نے دھاندلی اور پیپلز پارٹی کی اسٹیبلشمنٹ سے مبینہ ڈیل کا شاخسانہ قرار دیا۔ میڈیا اینکروں اور مسلم لیگ ن کے روئیے میں یہ اہم تبدیلی گذشتہ چند ہفتوں میں رونما ہوئی ہے کیونکہ اس الیکشن سے پیشتر مسلم لیگ ن کا مقصد حکومتی جماعت پی ٹی آئی کو ضمنی انتخابات میں ہرا کر اس کی ساکھ کو دھچکا لگانا مقصود تھا نہ کہ قومی اسمبلی میں اپنی نشستوں کی تعداد میں اضافہ!

این اے 249 میں مفتاح اسماعیل کی جیت کے امکانات کا تجزیہ بنیادی طور پر 2018ء میں شہباز شریف کو ملنے والے ووٹوں کی بنیاد پر کیا جا رہا تھا، 2018ء میں این اے 249 کی تین یونین کونسلوں میں ن لیگ کے چیئرمین اور وائس چیئرمین موجود تھے۔ مرکزی قیادت کا حلقے سے انتخاب میں حصہ لینے کے باعث مقامی تنظیم اپنے تمام تر اختلافات ختم کر کے انتخابی عمل میں سرگرم تھی جس کے باعث شہباز شریف اس حلقے سے ایک اچھا ووٹ لینے میں کامیاب ہوئے۔ این اے 249 میں 2008ء کے بعد سے کوئی بھی پارٹی تسلسل کے ساتھ کامیابی حاصل کرنے میں ناکام رہی ہے۔ این اے 249 میں پیپلز پارٹی کے قادر خان مندوخیل وہ واحد امیدوار تھے جن کا تعلق اسی حلقے سے تھا اور وہ 2018ء میں بھی اسی نشست سے انتخابی امیدوار تھے۔ اس کے علاوہ تمام سیاسی پارٹیوں نے نئے امیدواروں کا چناؤ کیا۔ بلدیاتی حکومت کے خاتمے کے بعد پیپلز پارٹی کی مقامی تنظیم روزمرہ بنیادوں پر حلقے میں بلدیاتی مسائل کے حل کے حوالے سے کوشاں تھی، سندھ میں پیپلز پارٹی کی صوبائی حکومت کا ہونا، جس کے باعث مقامی تنظیم حلقے کی عوام کو یہ باور کرانے میں کامیاب رہی کہ موجودہ حالات میں پیپلز پارٹی ہی حلقے کے عوام کے مسائل بہتر طور پر حل کرنے کی صلاحیت رکھتی ہے۔ قادر خان مندوخیل کی جیت میں دوسرا اہم کردار ’Party Old Guards‘ دیرینہ نظریاتی جیالوں کا ہے۔ ایک طویل عرصے کے بعد پیپلز پارٹی کراچی کے سابقہ رہنماؤں نے الیکشن کمپئین میں نہ صرف حصہ لیا بلکہ پیپلز پارٹی کی جیت میں انتہائی اہم کردار ادا کیا۔ ان دیرینہ جیالوں کی سیاسی عمل میں متحرک واپسی، کراچی کی سیاست کے حوالے سے ایک خوش آئند عمل ہے، ضمنی انتخاب میں پیپلز پارٹی کی جیت کی تیسری اہم وجہ کم ووٹر ٹرن آؤٹ تھا۔جس کا فائدہ پیپلز پارٹی کو ہوا۔

الیکشن سے قبل این اے 249 میں سروے (پول) کئے گئے جس میں سے دو میں عمران خان اور ایک سروے میں نواز شریف کو مقبول لیڈر قرار دیا گیا۔ ’IPSOS‘ کے سروے کے مطابق عمران خان 20 فیصد، نوازشریف اور مصطفی کمال 16 فیصد، خادم رضوی6 فیصد، بلاول بھٹو اور مریم نواز 4 فیصد جبکہ آصف علی زرداری اور شہبازشریف 1 فیصد مقبولیت کے حامل تھے۔ پلس کنسلٹنٹ کے سروے کے مطابق عمران خان 18 فیصد، مصطفی کمال 16 فیصد، نوازشریف 10 فیصد، خادم رضوی 7 فیصد، بینظیر بھٹو 6 فیصد، مریم نواز اور خالد مقبول صدیقی 2 فیصد مقبولیت کے حامل تھے۔ گیلپ پاکستان کے سروے کے مطابق نواز 20 فیصد، عمران 19 فیصد، بلاول بھٹو زرداری 8 فیصد، مصطفی کمال اور فضل الرحمان 3 فیصد، جبکہ مریم نواز اور شہباز شریف 1 فیصد ووٹرز کے لئے مقبول ترین لیڈر تھے۔ گیلپ پاکستان کے سروے میں 22 فیصد اور ’IPSOS‘ کے سروے میں 18 فیصد ووٹرز نے تمام سیاسی قیادتوں کو مسترد کیا۔ یہ سروے این اے 249 کے 1200 سے 1400 رجسٹرڈ ووٹرز پر مشتمل تھا۔ این اے 249 کے ضمنی انتخاب پر تقریباً تمام ہی تجزیہ کاروں کا یہ اعتراض تھا کہ جب تمام بڑی سیاسی پارٹیوں کا ووٹ کم ہوا ہے تو یہ کیسے ممکن ہے کہ پیپلز پارٹی کے ووٹوں میں دوگنا اضافہ ہو گیا۔ این اے 249 میں حیران کن طور پر اگر کسی سیاسی پارٹی کے ووٹ بینک میں اضافہ ہوا ہے تو وہ پاک سر زمین پارٹی ہے جس نے 2018ء میں اس حلقے سے صرف 1617 ووٹ حاصل کئے تھے جبکہ ضمنی انتخاب میں پاک سر زمین پارٹی نے 9227 حاصل کئے۔

این اے 249 کا نوٹیفکیشن ن لیگ کے چیلنج کے باعث رکا ہوا ہے یہ کہنا بہر حال مشکل ہے کہ حتمی طور پر کس امیدوار کو فاتح قرار دیا جائے گا۔ ن لیگ موجودہ حالات میں ایک اہم پریشر گروپ کے طور پر ابھری ہے اور اسٹیبلشمنٹ سے کئی اہم مطالبات منوانے میں کامیاب بھی ہوئی ہے۔

2018ء کے انتخابات کے بعد یہ بیانیہ زبان زد عام تھا کہ اسٹیبلشمنٹ ایک پاپولر سیاسی جماعت کے ساتھ دیگر علاقائی جماعتوں کو ملا کر 10 سال کے لیے پاکستان میں ایک پارٹی کی حکومت چاہتی ہے اور حکومتی استحکام کے لئے ضروری ہے کہ حزب اختلاف کی جماعتوں کو کمزور کیا جائے یا رکھا جائے۔ پی ڈی ایم کے قیام سے قبل تقریباً تمام ہی حزب اختلاف کی جماعتیں پی ٹی آئی حکومت کے خلاف اپنی اپنی جدوجہد جاری رکھی ہوئی تھیں لیکن کوئی بھی سیاسی جماعت ملک گیر سطح پہ خود کو منوانے میں ناکام رہی۔ حزب اختلاف کا پاکستان کی سیاست میں اپنی بقا کے لئے ضروری ہو گیا تھا کہ وہ پی ٹی آئی حکومت اور اسٹیبلشمنٹ کے خلاف ایک مشترکہ پلیٹ فارم سے جدوجہد کا آغاز کریں یوں حالات کے جبر کے تحت پی ڈی ایم کا قیام عمل میں آیا۔

مسلم لیگ ن اپنے قیام سے ہی ذرائع ابلاغ کے اوپر ایک موثر کنٹرول رکھتی آئی ہے جس میں موجود ہمدردوں کے باعث وہ ہمیشہ ایک موثر حزب اختلاف رہی ہے۔ پی ڈی ایم کے پلیٹ فارم کو بھی ذرائع ابلاغ کے پروپگینڈے کے باعث مسلم لیگ ن نے ایک شاندار سیاسی توازن کے ساتھ استعمال کیا۔ پی ڈی ایم کے پلیٹ فارم سے نواز شریف نے اسٹیبلشمنٹ کو کڑی تنقید کا نشانہ بناتے ہوئے خود کو ایک نظریاتی لیڈر ثابت کرنے کی کوشش کی اور الیکٹرانک اور سوشل میڈیا پر ان کے اس مزاحمتی کردار کی بہت زیادہ تشہیر بھی ہوئی اور اب تو سوشل میڈیا اور بلاگز پر ان کی تمام سیاسی جدوجہد (1987ء سے 2020ء) کو جمہوری انقلاب کی جدوجہد سے تعبیر کیا جا رہا ہے۔ پی ڈی ایم کے پلیٹ فارم سے اسٹیبلشمنٹ پر نواز شریف کی تنقید خالصتاً چند طاقتور شخصیات تک محدود رہی۔ انہوں نے کبھی بھی ایک ادارے کے طور پر اسٹیبلشمنٹ کے سیاست میں کردار کو تنقید کا نشانہ نہیں بنایا۔ نوازشریف پی ڈی ایم کے پلیٹ فارم سے بنیادی طور پر اسٹیبلشمنٹ کے ’UNDERDOG‘ دھڑے کی نمائندگی کرتے رہے۔ پی ٹی آئی حکومت کی معاشی اور خارجہ پالیسی کا براہ راست ذمہ دار ادارے کو ٹھہرائے جانے کے باعث اسٹیبلشمنٹ کے ”طاقتور دھڑے“ ن لیگ سے مفاہمت پر مجبور ہوئے۔ پی ڈی ایم کراچی جلسے کے بعد مریم نواز کے ساتھ پیش آنے والے واقعے کے بعد ڈی جی رینجرز سندھ کی تبدیلی، سینٹ الیکشن میں ن لیگ کے سینٹرز کا بلا مقابلہ منتخب ہونا، مریم نواز کو دھمکی دینے والے عرفان ملک کی تبدیلی، یوں 6 ماہ میں ن لیگ کے اعتراض پر 2 میجر جنرل رینک کے افسروں کے عہدے تبدیل کیے گئے۔ شہباز شریف کی ضمانت اور لندن روانگی اس بات کی غمازی کرتے ہیں کے ن لیگ نے پی ڈی ایم کے پلیٹ فارم سے ریاست کے طاقتور حلقے میں اپنی واپسی ممکن بنا لی ہے۔ پی ڈی ایم کے پلیٹ فارم سے پیش کیا جانے والا بیانیہ جسے ایک انقلابی بیانیہ بنا کر پیش کیا جا رہا تھا دراصل اپنی بنیاد میں طاقت کے مرکز پر قبضے کی لڑائی تھی۔

اسٹیبلشمنٹ کی دس سالہ پالیسی جس میں ایک پاپولسٹ پارٹی جسے اسٹیبلشمنٹ کی مکمل حمایت حاصل ہو وقتی طور پر ناکام ضرور ہوئی ہے پر مسترد نہیں۔ آنے والے دنوں میں ریاست پاکستان کو جس قسم کے معاشی اور خارجہ مسائل کا سامنا ہے اس میں ریاست پاکستان بہت زیادہ جمہوری آزادیوں کی متحمل نہیں ہو سکتی۔ تحریک انصاف کی حکومت پانچ سال مکمل کرے یا اس سے پہلے ختم ہو جائے، مستقبل میں ایک زیادہ تحکم پسند ’Authoritarian‘ حکومت کی ریاست کو ضرورت ہے، چاہے وہ ان ہاؤس تبدیلی کی صورت ہو یا نئے انتخابات کے ذریعے۔ ن لیگ نہ صرف اس سانچے پر پورا اترتی ہے بلکہ یہ نواز شریف کی دیرینہ خواہش بھی تھی۔ پیپلز پارٹی بڑی مزاحمتی تحریک کے کردار سے یکسر محروم نظر آتی ہے اور پارٹی قیادت بھی پارلیمان سے باہر نکل کر کسی تحریک کو منظم کرنے میں فی الوقت کوئی دلچسپی بھی نہیں رکھتی۔ پی ڈی ایم سے پیپلز پارٹی اور پی ٹی ایم رہنما محسن داوڑ کی بیدخلی شاید مستقبل کی کمزور اپوزیشن کی تیاری کا حصہ ہے۔

پاکستان کی تمام سیاسی جماعتوں میں قیادت کا کردار مبالغہ آمیز حد بڑھا ہوا ہے۔ تمام سیاسی جماعتوں کے تنظیمی ڈھانچوں میں دور دور تک جمہوری روایات کا کوئی رواج موجود ہی نہیں۔ پاکستان میں جہاں لاکھ ووٹ لیکر ممبر قومی اسمبلی بنتا ہے وہیں 800 ووٹوں سے بھی قومی اسمبلی کا ممبر چنا جاتا ہے لیکن ہمارے سامنے تصویر کا صرف ایک رخ پیش کیا جاتا ہے۔ پاکستان میں انتخابات اور سیاسی تحریکوں کے باوجود سیاست میں ایک بہت بڑا خلا موجود ہے اور وہ ہے ترقی پسند نظریات پر مشتمل ایک نئی سیاسی جماعت کا خلا۔ لیکن یہ بھی ایک حقیقت ہے نیچر میں کہیں کوئی خلا باقی نہیں، جلد یا بدیر کوئی نا کوئی قوت اسے پر کر دیتی ہے۔ ممکن ہے سوچنے اور سمجھنے والے ذہنوں کو مزید سخت امتحان سے گزرنا پڑے۔ دیکھنا یہ ہے کہ مستقبل میں ترقی پسند نظریات کی حامل ایک نئی سیاسی جماعت وجود میں آتی ہے یا کسی ترقی پسند نظریات کی حامل سیاسی جماعت کا احیا ہوتا ہے۔

Zaka Ullah

 ذکا اللہ کا تعلق پاکستان ٹریڈ یونین ڈیفنس کمپئین کراچی سے ہے۔