سوچ بچار

ٹیکنالوجی: رحمت یا زحمت؟

21 فروری 2021ء کو ڈاکٹر لال خان کی پہلی برسی کی مناسبت سے "روزنامہ جدوجہد” ان کے لکھے گئے مضامین قارئین جدوجہد کے لئے دوبارہ شائع کر رہا ہے۔ اس سلسلے میں ڈاکٹر لال خان کی یاد میں 19 فروری کو ایک ویبینار اور 20 فروری کو خصوصی نمبر بھی شائع کیا جائے گا۔

لال خان

  آج کے عہد میں بیشتر افراد کی زندگی میں موبائل فون کا کردار جسم کے کسی عضو سے بھی زیادہ اہمیت اختیار کرتا جارہا ہے۔ گھر کے اندر باہر، سوتے جاگتے، ہر انسان نے موبائل پکڑ رکھا ہے اور اس موبائل نے انسان کو جکڑ رکھا ہے۔ خاص کر نئی نسل کی اکثریت لیپ ٹاپ اور موبائل فون کی سکرینوں میں اس طرح سے غرق ہوتی جارہی ہے کہ سماجی تعلقات مفلوج اور انسانوں کے مابین براہ راست ربط محدود ہو چکا ہے۔ ماضی بعید کی بات نہیں ہے کہ ٹیکنالوجی کے ان کھلونوں کے بغیر بھی لوگ اچھی خاصی زندگی گزار لیا کرتے تھے۔ رابطے بھی تھے اور تعلقات بھی، اور آج سے کہیں زیادہ بے لوث اور خالص۔ محبتیں بھی چلتی تھیں، عشق بھی ہوا کرتے تھے اور دور رہ کر بھی انسانوں کی قربت آج سے کہیں زیادہ ہوا کرتی تھی۔

ان ’’گیجٹس‘‘ سے لاحق ہونے والی جسمانی اور نفسیاتی بیماریوں سے ہٹ کر بھی بات کی جائے تو موبائل، انٹرنیٹ اور سوشل میڈیا کے گرد گھومتی ہوئی زندگیاں، روح کی غربت کا اظہار ہیں۔ یہ اس بیگانگی کی علامت ہیں جس کا شکار انسان کو رائج الوقت سماجی و اقتصادی نظام کی تاریخی متروکیت نے بنا دیا ہے۔ نفسا نفسی بڑھتی جارہی ہے، احساس مٹتے رہے ہیں اور سوچ گھائل ہے۔ اتنی بھیڑ میں بھی تنہائی کا احساس ہر دل میں سلگ رہا ہے جسے کبھی سماجی رابطوں کی ویب سائٹس تو کبھی ویڈیو گیمز سے مٹانے کی کوشش کی جاتی ہے۔ موبائل فون پر ہونے والی بات چیت کا جائزہ لیا جائے تو زیادہ تر گفتگو لین دین اور پیسے کے حساب کتاب کے گرد ہی گھومتی ہے۔ اندر کے احساس محرومی کو مصنوعی طریقوں سے دبانے یا مٹانے کی جتنی کوشش کی جائے، خلش اتنی ہی بڑھتی چلی جاتی ہے۔

جدید ٹیکنالوجی، نئی ایجادات اور سائنس میں پیش رفت کوئی غلط یا منفی عمل نہیں ہے۔ ذرائع پیداوار اور ٹیکنالوجی کی ترقی نے نسل انسان کے سماجی ارتقا میں فیصلہ کن کردار ادا کیا ہے۔ مسئلہ یہ ہے کہ اس طبقاتی سماج میں نئی دریافتوں، ایجادات اور ٹیکنالوجی کی ترقی کا مقصد انسانی زندگی کو سہل بنانے کی بجائے انسانی محنت کے استحصال اور سرمایہ داروں کی شرح منافع میں اضافہ ہے۔ اٹھارہویں صدی میں صنعتی انقلاب کی بنیاد پر قائم ہونے والے سرمایہ دارانہ نظام نے اپنے ابتدائی عہد میں یورپ اور بعد ازاں کچھ دوسرے خطوں میں جدید ریاستوں اور ترقی یافتہ صنعتی معاشروں کو جنم دیا تھا۔ لیکن آج یہ نظام ترقی یافتہ ممالک میں بھی زوال پزیری کا شکار ہے۔ ایک زمانے میں معیار زندگی کو بلند کرنے والا یہ نظام آج اس نہج پر پہنچ چکا ہے کہ ٹیکنالوجی میں ہونے والی ہر ترقی انسانی ضروریات کی تکمیل کی بجائے محرومی اور مانگ میں اضافہ کرتی ہے۔

حکمران طبقات اپنے نظام کو طوالت دینے اور بحران سے نکالنے کے لئے جنگوں کے ساتھ ساتھ نئی ایجادات کا سہارا بھی لیتے ہیں۔ سٹیم انجن سے لے کر بجلی اور اسمبلی لائن سے لے کر انٹرنیٹ تک، اس نظام میں ایجادات کا مقصد ہمیشہ پیداوار میں تیزی اور شرح منافع میں اضافہ رہا ہے، نئی ٹیکنالوجی متعارف کروائی جاتی ہے اور پھر مارکیٹنگ کے ذریعے اسے انسان کی ضرورت بنا دیا جاتا ہے۔ سماجی نفسیات کو ایسے شعبوں کی طرف مسلسل راغب کروایا جاتا ہے جو زیادہ منافع بخش ہوتے ہیں۔ سرمائے کی یہ نہ ختم ہونے والی ہوس انسان کی حقیقی اور بنیادی ضروریات کو کچل کے رکھ دیتی ہے۔ مناسب رہائش، صحت بخش غذا، صاف پانی کی فراہمی اور نکاس کا نظام، موبائل فون سے کہیں اہم انسانی ضروریات ہے۔ لیکن اس نظام نے تنگ و تاریک گلیوں میں مقیم، غذائی قلت سے دوچار اور غلیظ پانی پینے پر مجبور، آبادی کی وسیع اکثریت کے ہاتھوں میں ’’سمارٹ فون ‘‘ تھما دئیے ہیں۔ زندگی کی ترجیحات ہی مسخ کر دی گئی ہیں۔

سائنس اور ٹیکنالوجی کی ترقی انسانی شعور کو بہر حال آگے بڑھاتی ہے جو کہ ایک ترقی پسند پہلو ہے۔ قدامت پرستوں نے ہمیشہ نئی ایجادات اور سائنسی نظریات کی مخالفت کر کے تاریخی ارتقا کو جامد رکھنے کی کوشش کی ہے۔ سقراط نے رجعت کے سامنے سر تسلیم خم کرنے پر زہر کا پیالہ نوش کرنے کو ترجیح دی۔ کلیسا کے فرسودہ عقائد کو چیلنج کرنے کی پاداش میں گیورڈانو برونو جیسے درجنوں عظیم سائنسدانوں اور فلسفیوں کو زندہ جلا دیا گیا۔ گلیلیو کو محض اس ’’جرم‘‘ کی پاداش میں عمر بھر نظر بند رکھا گیا کہ اس نے سورج کی زمین کے گرد گرش کے کلیسائی عقیدے کو سائنسی بنیادوں پر غلط ثابت کر دیا تھا۔ لیکن افراد کو قتل کر دینے سے نظریات نہیں مرا کرتے۔ قدامت پرست سارا زور لگا کر بھی جب تاریخ کا پہیہ واپس گھمانے میں ناکام رہتے ہیں تو منافقت کا راستہ اختیار کرتے ہیں۔ ماضی میں ٹیلیوژن کے خلاف فتوے جاری کرنے والے مُلا آج ایئر ٹائم کم ملنے کا شکوہ کرتے ہیں۔ لاؤڈ سپیکر کا استعمال ایک زمانے میں کفر تھا، آج ہر مسجد پر درجنوں لاؤڈ سپیکر نصب ہیں۔ انسانی سماج کو ماضی بعید کے فرسودہ عقائد، توہمات اور تعصبات میں غرق کر دینے کے درپے داعش جیسی دہشت گرد تنظیمیں، پراپیگنڈا اور جنگ کے جدید ترین طریقہ کار استعمال کررہی ہیں۔

دوسری جنگ عظیم کے بعد بالعموم اورپچھلی کچھ دہائیوں کے دوران بالخصوص، سرمایہ داری نے شرح منافع میں کمی کے بحران سے نکلنے کے لئے پیداواری عمل کو بڑی افرادی قوت سے جدید مشینوں اور روبورٹس پر منتقل کیا ہے۔ اس قسم کی ’Capital Intensive‘ سرمایہ کاری سے پیداوار اور شرح منافع (وقتی طور پر)تو بڑھتی ہے لیکن نیا روزگار پیدا نہیں ہوتا۔ یوں اس نظام میں جدید ٹیکنالوجی انسانی زندگی کو سہل بنانے کی بجائے بڑے پیمانے کی بیروزگاری اور غربت کو جنم دے رہی ہے۔ سرمایہ داری کا تضاد یہ ہے کہ محنت کش طبقے کی اجرت ہی منڈی میں قوت خرید بنتی ہے۔ لہٰذا انسان کو روبورٹس سے تبدیل کرنے کا نتیجہ منڈی کے سکڑاؤ اور زائد پیداوار کے بحران کی شکل میں نمودار ہورہا ہے۔ ٹیکنالوجی میں ترقی سے پیداواری صلاحیت جوں جوں بڑھ رہی ہے، معاشی بحران گہرا ہوتا چلا جارہا ہے کیونکہ اس پیداوار کو خریدنے اور کھپانے کے لئے عوام کی جیب میں پیسے نہیں ہے۔

عالمی سرمایہ داری کا اہم جریدہ اکانومسٹ اس صورتحال پر اپنے حالیہ شمارے میں لکھتا ہے کہ ’’ٹیکنالوجی میں جدت کے انقلاب نے کام (کی نوعیت ) کو جس بڑے پیمانے پر تبدیل اور تقسیم کیا ہے اس کی مثال گزشتہ سو سالوں میں نہیں ملتی۔ تھوڑے سے محنت کش وسیع پیمانے پر دولت پیدا کر رہے ہیں لیکن آمدن (اجرت) میں اضافہ نہیں ہورہا ہے…جرمنی اور برطانیہ جیسے ممالک، جہاں روزگار بڑھ رہا ہے وہاں اجرتوں میں سب سے زیادہ کمی کی جارہی ہے…ذہین مشینوں کے ابھار کا مطلب ہے کہ زیادہ سے زیادہ مزدوروں کی نوکریاں خطرے میں پڑ جائیں گی…جدید دور میں زیادہ دولت کی پیداوار نے روزگارکم کر دیا ہے…جیسے جیسے ٹیکنالوجی ترقی کرے گی، زیادہ نوکریاں ختم ہوں گی اور زیادہ محنت کشوں کو کم اجرت پر کام کرنا پڑے گا۔ ‘‘اکانومسٹ میں چھپی یہ سطور سرمایہ دارانہ نظام کے اعتراف جرم سے کم نہیں ہیں جس نے ٹیکنالوجی کی ترقی کو انسانیت کے لئے رحمت کی بجائے زحمت بنا دیا ہے۔

گزشتہ صدی کے سب سے قابل اور مشہور سرمایہ دارانہ معیشت دان جان مینرڈ کینز نے 1930ء میں ایک کتاب ’’ہماری آنے والی نسلوں کے معاشی ممکنات‘‘ کے عنوان سے تحریر کی تھی۔ اس کتاب میں ٹیکنالوجی کی ترقی کو مد نظر رکھتے ہوئے کینز نے پیش گوئی کی تھی کہ اگلے سو سالوں میں (یعنی 2030ء تک) معیار زندگی میں کئی گنا اضافے کے باوجود ہفتہ وار کام کے اوقات کار 15 گھنٹے تک آ جائیں گے اور کینز کے الفاظ میں ’’اپنی تخلیق کے بعد پہلی بار انسان کو ایک حقیقی اور مستقل مسئلے کا سامنا ہوگا: معاشی مشکلات سے آزاد ہونے کے بعد اپنے فارغ وقت کو دانائی سے کس طرح خوشگوار انداز میں استعمال کرے۔ ‘‘ ٹیکنالوجی کی ترقی کے بارے میں کینز کی پیش گوئی کم و بیش درست ثابت ہوئی ہے لیکن وہ سرمایہ دارانہ نظام سے متعلق حد سے زیادہ خوش فہمی کا شکار تھا۔ گزشتہ تقریباً ایک صدی سے ترقی یافتہ ترین صنعتی ممالک میں بھی کام کے اوقات کار نہ صرف منجمد ہیں بلکہ نجکاری اور نیو لبرل ازم کے معاشی حملوں نے محنت کشوں کو ’’قانونی اوقات کار‘‘ سے کہیں زیادہ کام کرنے پر مجبور کر رکھا ہے۔

منڈی، منافع اور ہوس کی یہ معیشت انسان کو ٹیکنالوجی سے مستفید کرنے کی بجائے اس کا غلام بناتی چلی جائے گی۔ آج ٹیکنالوجی اور پیداواری صلاحیت اس قابل ہے کہ روزانہ کام کے اوقات دو گھنٹے تک لا کر چند سالوں میں بیروزگاری، قلت اور غربت کا خاتمہ عالمی سطح پر کیا جاسکتا ہے۔ انقلابی سوشلزم کا مطلب انسان کے ہاتھوں انسان کے استحصال کا خاتمہ اور منافع کی بجائے انسانی ضروریات کے لئے پیداوار ہے۔ ایک سوشلسٹ سماج میں ہی انسان ٹیکنالوجی کو اپنا مطیع بنا کر تسخیر کائنات کے سفر پر گامزن ہو سکتا ہے۔

Lal Khan

ڈاکٹر لال خان روزنامہ جدوجہد کی مجلس ادارت کے رُکن تھے۔ وہ پاکستان ٹریڈ یونین ڈیفنس کمپئین کے انٹرنیشنل سیکرٹری اور تقریباً چار دہائیوں تک بائیں بازو کی تحریک اور انقلابی سیاست سے وابستہ رہے۔