خبریں/تبصرے

کشمیر پر ملالہ کی منافقت بارے عوامی تحریک کے جنرل سیکرٹری کو بالکل کھلا خط

از اسٹاک ہولم
17 اگست 2019ء

قبلہ و کعبہ خرم نواز گنڈا پور صاحب!

امید ہے خیریت سے ہوں گے۔ خط لکھنے کی فوری وجہ آپ کا وہ دندان شکن ٹویٹ ہے جس نے ملالہ یوسف زئی کی منافقت کا پردہ بالکل چاک کر دیا ہے۔

سچ پوچھئے تو میں اس ٹویٹ سے مستفید ہونے سے قبل آپ کی عظیم شخصیت سے لا علم تھا۔ جب مجھے یہ معلوم ہوا کہ آپ علامہ طاہر القادری کے مقتدی اور ان کی عظیم سیاسی جماعت کے سیکرٹری جنرل بھی ہیں تو دل میں ولولہ خیز جذبات کا طلاطم مچ گیا۔ میرا تعلق ایک فوجی خاندان سے ہے لہٰذا یہ جان کر تو میں خوشی سے نیم پاگل ہو گیا کہ آپ نہ صرف فوج میں تھے بلکہ پی ایم اے میں اعزازی تلوار بھی حاصل کر چکے ہیں۔

جب ان ساری معلومات تک رسائی ممکن ہو ئی تو تب ہی سمجھ میں آیا کہ اتنی دور کی کوڑی لانے کا خیال کسی اور کو کیوں نہیں آیا۔

یقین کیجئے مجھے بھی ملالہ بالکل اچھی نہیں لگتی۔ مجھے طالبان بہت اچھے لگتے ہیں۔اب چونکہ میں بھی آپ کی طرح شائستہ انسان ہوں اس لئے اپنے فیس بُک یا ٹویٹر پر ملالہ کو کبھی گالیاں والیاں تو نہیں دیں، جیسا کہ آج کل کے لڑکے بھالے کرنے لگتے ہیں، لیکن اس ڈرامہ کوئین کی منافقت کا پردہ گاہے بگاہے ضرور چاک کرتا ہوں۔ آپس کی بات ہے ایک تو ملالہ پر لعن طعن کرنے سے لائیکس بہت ملتے ہیں۔ ساتھ ہی ساتھ انسان اپنے ملک کے لئے بھی بیٹھے بٹھائے کچھ کر لیتا ہے۔

بد قسمتی سے ہمارے ملک میں را اور موساد نے اپنے ایجنٹوں کا ایک جال بچھا رکھا ہے۔ موم بتی مافیا، لبرل فاشسٹ، پی ٹی ایم اوربلوچ سرداریہ سب اسی نیٹ ورک کا حصہ ہیں۔ اور تو اور روس کے سرخے ایجنٹ بھی نئے سرے سے سر اٹھانے لگے ہیں۔ یہ سب لوگ سوشل میڈیا پر بہت متحرک ہیں۔ ملالہ یوسف زئی ان سب کو بہت اچھی لگتی ہے۔ سچ پوچھیں تو ہر بد کردار عورت ان کو اچھی لگتی ہے۔ اگر کوئی خاتون ان کو اچھی نہیں لگتی تو عافیہ صدیقی نہیں لگتی۔ مصیبت یہ ہے کہ ان میں ذرا سی بھی غیرت نہیں اور چرب زبان ایسے ہیں کہ ہمیں بے غیرت ہونے کا طعنہ دیتے ہیں۔

میں نے ملالہ کے بارے میں آپ کا ٹویٹ جوں ہی ری ٹویٹ کیاموم بتی مافیا نے میری ٹرولنگ شروع کر دی۔

سب سے پہلے تو کسی نے لکھا کہ گنڈاپور صاحب خود کب سری نگر جہاد پر جا رہے ہیں۔ ایک بد تمیز نے پوچھا کہ علامہ طاہر القادری آرٹیکل 370 کی بحالی کے لئے دھرنا دینے لائن آف کنٹرول کب جا رہے ہیں۔ یقین جانئے یہ لوگ نہ صرف ملک دشمن ہیں بلکہ علم دشمن بھی ہیں۔ معلومات کا یہ عالم ہے کہ انہیں بنیادی جغرافیہ بھی نہیں آتا۔ مثلاً ایک بد تمیز نے تو یہ کمنٹ کیا کہ علامہ طاہر القادری سے کہیں فرسٹ کلاس میں بیٹھ کر سیدھا سری نگر پہنچیں‘ کینیڈا سے تو انڈیا نزدیک بھی پڑے گا۔ یہ حالت ہے ان کی معلومات کی…

ہمارے کلیدی اور مقدس ادارے ان کی ہرزہ سرائی کا خاص نشانہ ہوتے ہیں لہٰذا تھوڑی دیر کے بعد کمنٹس سیکشن میں بات حافظ سعید اور وینا ملک تک پہنچ گئی۔ بھلا وینا ملک بے چاری کا ان باتوں سے کیا تعلق؟

اور تو اور کسی نے ملالہ کا ایک جعلی ٹویٹ بھی شیئر کر دیا جس میں اس چالاک لڑکی نے کشمیر میں سکول بند ہونے کی مذمت کی ہے۔ مجھے پنجابی نہیں آتی۔
کسی نے یہ کمنٹ بھی کیا ”ڈگی کھوتے توں، غصہ کمہیار تے“

@beghairatforever کے ٹویٹر ہینڈل سے بھی کسی نے پنجابی میں ٹویٹ کیا ہے جس کی مجھے کچھ زیادہ سمجھ نہیں آئی: ”ساڈا تے اصول اے ماڑے دے گل پے جاؤ تے ڈاہڈے دے پیریں پے جاؤ“

لیکن خوشی کی بات ہے کہ ہزاروں لوگ ملالہ والے ٹویٹ کو لائک کر رہے ہیں (ماشااللہ سے میری ٹویٹر اور فیس بک پر بہت بڑی فین فاولنگ ہے)۔ سینکڑوں لوگ اسے اب تک ری ٹویٹ کر چکے ہیں لیکن میں سمجھتا ہوں کہ ان لائیکس اور ری ٹویٹس کے لئے کریڈٹ کے اصل حقدار آپ ہیں۔

اس بالکل کھلے خط کا مقصد بھی یہی ہے کہ نہ صرف یہ کریڈٹ آپ تک پہنچاؤں بلکہ اس خط کے پڑھنے والے بھی آپ کے احسان مند ہوں کہ جب کشمیر کے مسئلے پر جنرل باجوہ سے لے کر زید حامد صاحب تک‘ تمام معزز لوگوں پر خواہ مخواہ کیچڑ اچھالا جا رہا ہے، آپ نے ایک ایسے پہلوکی جانب قوم کی توجہ مرکوز کرائی جس کی وجہ سے اقوامِ متحدہ کشمیر پر استصواب رائے کروانے سے کترا رہا ہے۔

خدا آپ کا حامی و ناصر ہو۔ اجازت چاہوں گا۔

ناچیز
فاروق سلہریا



Farooq Sulehria

فاروق سلہریا روزنامہ جدوجہد کے شریک مدیر ہیں۔ گذشتہ پچیس سال سے شعبہ صحافت سے وابستہ ہیں۔ ماضی میں روزنامہ دی نیوز، دی نیشن، دی فرنٹئیر پوسٹ اور روزنامہ پاکستان میں کام کرنے کے علاوہ ہفت روزہ مزدور جدوجہد اور ویو پوائنٹ (آن لائن) کے مدیر بھی رہ چکے ہیں۔ اس وقت وہ بیکن ہاوس نیشنل یونیورسٹی میں اسسٹنٹ پروفیسر کے طور پر درس و تدریس سے وابستہ ہیں۔