خبریں/تبصرے

آسٹریلیا کی ماحولیاتی خود کشی: 18 افراد اور 50 کروڑ جانور جنگل کی آگ میں ہلاک

لاہور (مانیٹرنگ ڈیسک) آسٹریلیا کے جنگلوں میں تین ماہ سے آ گ لگی ہوئی ہے۔ جنگلوں میں لگی آگ سے تقریباً پندرہ ملین ایکڑ رقبہ تباہ ہوچکا ہے۔ اب تک اٹھارہ افراد ہلاک ہو چکے ہیں۔ اس کے علاوہ پچاس کروڑ جانوروں اور پرندوں کی ہلاکت کا تخمینہ لگایا گیا ہے۔ کئی ہزار خاندان نقل مکانی پر مجبور ہو گئے ہیں اور ان کی تعداد میں مسلسل اضافہ ہو رہا ہے۔

ریاست نیو ساؤتھ ویلز، جس کا دارلحکومت سڈنی ہے، میں گذشتہ جمعرات کو ایمرجنسی کا نفاذ کرنا پڑا جبکہ ریاست وکٹوریا کو آفت زدہ قرار دیا گیا ہے۔

آسٹریلیا کے قدامت پسند وزیر اعظم سکاٹ موریسن اس وقت لوگوں کی شدید تنقید کا سامنا کر رہے ہیں۔ واضح رہے سکاٹ موریسن کا تعلق کوئلے کی صنعت سے تعلق رکھنے والے صنعت کاروں سے بتایا جاتا ہے اور وہ ماحولیاتی تبدیلی کو ایک مفروضہ قرار دیتے رہے ہیں۔ جب وہ ایک وزیر تھے تو پارلیمنٹ میں ماحولیات کا مسئلہ اٹھانے والے ارکانِ حزب اختلاف کا مذاق اڑانے کے لئے وہ کوئلے کا ایک بڑا ڈھیر ایوان میں لے کر آئے تھے۔