خبریں/تبصرے

وائس آف امریکہ اردو سروس میں معطلیاں: بد انتظامی یا معاملہ کچھ اور ہے؟

قیصر عباس

عالمی نشریاتی ادارے وائس آف امریکہ کی اردو سروس کے دو سینئرسربراہوں کو رخصت پر گھر بھیج دیا گیا ہے اور چار صحافیوں کے کانٹریکٹ ختم کردئے گئے ہیں۔ کہا جارہا ہے کہ یہ اقدامات اس صورت حال کی نشاندہی کر تے ہیں جس سے ادارے میں جاری بدانتظامیوں، خبروں میں ایک مخصوص مذہبی نقطہ نظر کی ترویج اور غیر ذمہ دارانہ ادارتی فیصلوں کوا یک عرصے سے نظر انداز کیاجاتارہا ہے۔

حالیہ فیصلے ادارے کے ڈیجیٹل ڈیپارٹمنٹ کی جانب سے ڈیموکریٹک پارٹی کے صدارتی امیدوار جوبائیڈن کی ایک الیکشن کمپئین کی وڈیوچلانے پر کئے گئے ہیں جس میں انہوں نے کہا تھا کہ صدر بننے کے پہلے دن ہی وہ مسلمانوں کی امریکہ میں نقل مکانی پر پابندی ختم کردیں گے۔ یہ وڈیو ادارے کی فیس بک، ویب سائٹ، انسٹاگرام اور ٹیوٹرپر چلائی گئی تھی جسے بعد میں ہٹا دیا گیا تھا۔

ادارے میں اردو اور ہندی سروس کے سابق سربراہ ڈاکٹر معظم صدیقی نے روزنامہ جدوجہد کو بتا یا کہ ایک صدارتی امیدوار کے اشتہار کو خبر بناکر پیش کرنا ادارے کے چارٹر اور صحافیانہ اصولوں کی خلاف ورزی ہے۔ ان کے مطابق ”اس ادارے میں کہنہ مشق صحافیوں کی کوئی کمی نہیں لیکن گزشتہ چند برسوں سے انہیں نظر انداز کرکے جونیئر صحافیوں کو اہمیت دی جانے لگی ہے اور موجودہ صورت حال اسی پالیسی کا نتیجہ ہے۔“

ڈاکٹر معظم نے جو 1981ء سے 2006ء تک ادارے کی شمالی افریقہ، مشرق قریب اورجنوبی ایشیا کی نشریات کے نائب اور پھر چیف بھی ر ہے، مزیدبتایا کہ ”ادارے کی اردو نشریات میں زیادہ تر مذہبی نقطہ نظر اور پاکستانی اسٹیبلشمنٹ کی حمائت کا عنصر غالب نظر آتا ہے۔“ ان کی رائے کے مطابق اد ارے کی اردو نشریات میں تحقیقی پہلو بہت کم پایا جاتا ہے اور خبروں میں ایک متوازن نقطہ نظر کے بجائے یک طرفہ رپورٹنگ کی جاتی ہے۔

روزنامہ جدوجہد کو ادارے کے اندرونی ذرائع نے یہ بھی بتایا ہے کہ جن ملازمین کے خلاف کاروائی کی گئی ہے ان میں دو کے علاوہ، جو اس خبر کے براہ راست ذمہ دار، ہیں باقی تمام ملازمین بے قصور ہیں۔ مزید یہ کہ یہی خبر اردو کی ریڈیو اور ٹی وی کی نشریات میں بھی چلائی گئی جن کے خلاف کوئی کاروائی نہیں کی گئی۔

ادارے کی اردو سروس میں تقریباً چالیس افراد کل وقتی طورکام کرتے ہیں جن کے علاوہ دس افراد جزوقتی طورپرپاکستان میں بھی خدمات سر انجام دے رہے ہیں۔

ڈاکٹر قیصرعباس روزنامہ جدوجہد کی مجلس ادارت کے رکن ہیں۔ وہ پنجاب یونیورسٹی  سے ایم اے صحافت کے بعد  پاکستان میں پی ٹی وی کے نیوزپروڈیوسر رہے۔ جنرل ضیا کے دور میں امریکہ آ ئے اور پی ایچ ڈی کی۔ کئی یونیورسٹیوں میں پروفیسر، اسسٹنٹ ڈین اور ڈائریکٹر کی حیثیت سے کام کرچکے ہیں۔ آج کل سدرن میتھوڈسٹ یونیورسٹی میں ایمبری ہیومن رائٹس پروگرام کے ایڈوائزر ہیں۔