خبریں/تبصرے

جموں کشمیر میرا ملک ہے صندوق نہیں

 فاروق سلہریا

محمود درویش نے کہا تھا:

آہ یا جرحیی المکابر
وطنی لیس حقیبۃ
وانالست مسافر
اننی العاشق و الارض حبیبۃ

(اے لا علاج زخم
یہ میرا ملک ہے نہ کہ صندوق
نہ میں کوئی مسافر
میں عاشق ہوں، دھرتی میری معشوق)

ہندوستان اور پاکستانی کی حکمران اشرافیہ نے میرے ملک جموں کشمیر کو محمود درویش کے فلسطین کی طرح بریف کیس بنا دیا ہے۔ پہلے نہرو اور جناح نے اس کی بندر بانٹ کی۔

بھٹو اور اندرا نے اس بندر بانٹ پر شملہ معاہدے کی مہر ثبت کی۔ پھر بھٹو نے گلگت بلتستان اسلام آباد کو پارسل کر دیا۔ پچھلے سال مودی نے لداخ دلی کو پارسل کر دیا۔ دھرتی سے عشق کرنے والے بابا جان ایسے عاشق دس دس سال سے جرم عشق کی پاداش میں پابند سلاسل ہیں مگر مریم، بلاول اور آفریدی گلگت بلتستان بھر میں ووٹوں کے صندوق گلے میں ڈالے گھوم رہے ہیں۔

اخلاقیات سے عاری اس اشرافیہ کو بتانا چاہتا ہوں ریاست جموں کشمیر کوئی پرچیوں سے بھرا بکسہ نہیں ہے۔ ہم محض ووٹرنہیں ہیں۔

فاروق سلہریا روزنامہ جدوجہد کے شریک مدیر ہیں۔ گذشتہ پچیس سال سے شعبہ صحافت سے وابستہ ہیں۔ ماضی میں روزنامہ دی نیوز، دی نیشن، دی فرنٹئیر پوسٹ اور روزنامہ پاکستان میں کام کرنے کے علاوہ ہفت روزہ مزدور جدوجہد اور ویو پوائنٹ (آن لائن) کے مدیر بھی رہ چکے ہیں۔ اس وقت وہ بیکن ہاوس نیشنل یونیورسٹی میں اسسٹنٹ پروفیسر کے طور پر درس و تدریس سے وابستہ ہیں۔